🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (حُكْمُ العَبْدِ لِسَيِّدَتِهِ)
مالکن کے لئے اپنے غلام کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3120
[ ص: 2057 ] 3120 - وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى فَاطِمَةَ بِعَبْدٍ قَدْ وَهَبَهُ لَهَا، وَعَلَى فَاطِمَةَ ثَوْبٌ إِذَا قَنَّعَتْ بِهِ رَأْسَهَا لَمْ يَبْلُغْ رِجْلَيْهَا  ، وَإِذَا غَطَّتْ بِهِ رِجْلَيْهَا لَمْ يَبْلُغْ رَأْسَهَا، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا تَلْقَى قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكِ بَأْسٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُوكِ وَغُلَامُكِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک غلام لے کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے جسے آپ نے انہیں ہبہ کر دیا تھا، فاطمہ رضی اللہ عنہا پر ایک کپڑا تھا، جب فاطمہ رضی اللہ عنہا اس سے اپنا سر ڈھانپتیں تو وہ آپ کے پاؤں تک نہ پہنچتا، اور جب وہ اس سے اپنے پاؤں ڈھانپتیں تو وہ ان کے سر تک نہ پہنچتا، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی اس پریشانی اور تکلیف کو دیکھا تو فرمایا: تم پر کوئی حرج نہیں، ان میں سے ایک تمہارے والد ہیں اور دوسرا تمہارا غلام ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3120]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (4106)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَدَمُ جَوَازِ دُخُولِ الخُنْثَى إِلَى البُيُوتِ)
ہیجڑوں کی گھروں میں آمد جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3121
(الْفَصْلُ الثَّالِثُ) 3121 - عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّثٌ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ لَكُمْ غَدًا الطَّائِفَ فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى ابْنَةِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَا يَدْخُلَنَّ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُمْ  . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس تشریف فرما تھے جبکہ گھر میں ایک مخنث تھا، اس نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا: عبداللہ! اگر اللہ نے کل تمہیں طائف میں فتح عطا کی تو میں تمہیں غیلان کی ایک لڑکی بتاؤں گا، وہ جب سامنے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار بل پڑتے ہیں اور جب مڑتی ہے تو اس پر آٹھ بل پڑتے ہیں۔ اس پر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ (مخنث) لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3121]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4324) و مسلم (2180)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ السَّيْرِ بِدُونِ سَتْرٍ)
بلا ستر ڈھانپے چلنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3122
[ ص: 2058 ] 3122 - وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: حَمَلْتُ حَجَرًا ثَقِيلًا فَبَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي سَقَطَ عَنِّي ثَوْبِي فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَخْذَهُ فَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: خُذْ عَلَيْكَ ثَوْبَكَ وَلَا تَمْشُوا عُرَاةً  . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے ایک بھاری پتھر اٹھایا ہوا تھا اور اسی حالت میں میں چل رہا تھا کہ میرا کپڑا گر گیا (جس سے ستر کھل گیا)، میں اسے اٹھا نہ سکا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: اپنے اوپر کپڑا لو اور عریاں حالت میں نہ چلو۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3122]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (341/78)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ حَضْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ السَّتْرِ)
ستر کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3123
3123 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا نَظَرْتُ أَوْ مَا رَأَيْتُ فَرْجَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَطُّ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شرم گاہ کبھی نہیں دیکھی۔ (اسنادہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3123]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (1922، 662)
٭ قال البوصيري: ’’ھذا إسناد ضعيف، مولي عائشة لم يسم‘‘ و لم أجد من وثقه .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ثَوَابُ إِزَالَةِ النَّظَرِ فَوْرًا عِنْدَ رُؤْيَةِ شَخْصٍ)
کسی کو دیکھ کر فوراً نگاہ ہٹانے کا بدلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3124
3124 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْظُرُ إِلَى مَحَاسِنِ امْرَأَةٍ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ يَغُضُّ بَصَرَهُ إِلَّا أَحْدَثَ اللَّهُ لَهُ عِبَادَةً يَجِدُ حَلَاوَتَهَا  . رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابو امامہ رضی اللہ عنہ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان پہلی مرتبہ کسی عورت کے حسن و جمال پر نظر ڈالتا ہے اور پھر وہ اپنی نظر جھکا لیتا ہے تو اللہ اسے ایک ایسی عبادت کی توفیق عطا فرماتا ہے جس کی وہ حلاوت محسوس کرتا ہے۔ اسنادہ ضعیف جدا، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3124]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه أحمد (264/5 ح 22634)
٭ فيه علي بن يزيد ضعيف جدًا و عنه عبيد الله بن زحر: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى مَنْ يَنْظُرُ إِلَى السَّتْرِ)
ستر دیکھنے والے پر اللہ کی لعنت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3125
[ ص: 2059 ] 3125 - وَعَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: لَعَنَ اللَّهُ النَّاظِرَ وَالْمَنْظُورَ إِلَيْهِ  . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ.
امام حسن بصری رحمہ اللہ مرسل روایت کرتے ہیں کہ مجھے روایت پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ ستر دیکھنے والے اور ستر دکھانے والے پر لعنت فرمائے۔ اس کی سند ضعیف ہے، اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3125]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (7788، نسخة محققة: 7399، والسنن الکبري 99/7)
٭ السند مع ضعفه مرسل، رواه عبد الرحمٰن بن سلمان الرعيني المصري (ضعيف) عن عمرو مولي المطلب عن الحسن به .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (رِضَا المَرْأَةِ شَرْطٌ لِلنِّكَاحِ)
نکاح میں عورت کی رضا مندی ضروری ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3126
(بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ  ، وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ) (الْفَصْلُ الْأَوَّلُ) 3126 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے مشاورت نہ کر لی جائے، اور کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے اجازت نہ لی جائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور اس کی اجازت کس طرح ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا خاموش رہنا اجازت ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3126]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6968) و مسلم (1419/64)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حَقُّ المَرْأَةِ فَائِقٌ فِي مَسْأَلَةِ الإِذْنِ)
اجازت کے مسئلے میں عورت کا حق فائق ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3127
3127 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تَسْتَأْذِنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صِمَاتُهَا. وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا  وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ وَإِذْنُهَا سُكُوتُهَا  . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ يَسْتَأْذِنُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صِمَاتُهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے، جبکہ کنواری سے اس کی ذات کے بارے میں اجازت طلب کی جائے گی، اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے۔ ایک روایت میں ہے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے جبکہ کنواری سے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے، جبکہ کنواری کے متعلق اس کا والد اس سے اجازت طلب کرے گا اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3127]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1421/66)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَسَخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحًا)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نکاح فسخ کرا دیا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3128
3128 - وَعَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنْ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ  ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَدَّ نِكَاحَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَاجَهْ"نِكَاحَ أَبِيهَا".
خنساء بنت خذام رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ بیوہ تھیں اور ان کے والد نے ان کی شادی کر دی۔ خنساء رضی اللہ عنہا نے اسے ناپسند کیا تو وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا نکاح فسخ کر دیا۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے: اس کے والد کا کیا ہوا نکاح فسخ کر دیا۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3128]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5138) و ابن ماجه (1873)
وَعَن خنساء بنت خذام: أَنْ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَاجَه: نِكَاح أَبِيهَا»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عُمْرُ حَضْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عِنْدَ نِكَاحِهَا)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نکاح کے وقت عمر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3129
3129 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ  وَزُفَّتْ إِلَيْهِ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، وَلُعَبُهَا مَعَهَا، وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے شادی کی تو ان کی عمر سات برس تھی، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر ان کی رخصتی ہوئی تب ان کی عمر نو برس تھی اور ان کے کھلونے ان کے ساتھ تھے، اور جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تو ان کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ «رَوَاهُ مُسْلِمٌ» اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3129]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1423/71)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں