مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الإِمَارَةُ حَقٌّ لِلَّهِ)
امارت اللہ کا حق ہے
حدیث نمبر: 3681
3681 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ وَسَتَكُونُ نَدَامَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَنِعْمَ الْمُرْضِعَةُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب تم امارت ملنے کی حرص و کوشش کرو گے، اور روزِ قیامت وہ (تمہارے لیے) باعثِ ندامت ہو گی، اس کا ملنا اچھا ہے اور اس کا چھن جانا برا ہے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3681]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (7148)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الإِمَارَةُ سَبَبُ الفَضِيحَةِ يَوْمَ القِيَامَةِ)
امیر کا عہدہ قیامت کے دن رسوائی کا سبب
حدیث نمبر: 3682
3682 - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي؟ قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِي ; ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّكَ ضَعِيفٌ وَإِنَّهَا أَمَانَةٌ ; وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ ; إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا. وَفِي رِوَايَةٍ ; قَالَ لَهُ: يَا أَبَا ذَرٍّ ; إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا ; وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي ; لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ ; وَلَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے عامل (گورنر) کیوں نہیں مقرر فرما دیتے؟ وہ بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا: ”ابوذر! تم کمزور آدمی ہو، جبکہ وہ ایک امانت ہے، جس شخص نے اسے اس کے حق کے مطابق نہ لیا اور نہ اس کی ذمہ داریوں کو نبھایا تو وہ روزِ قیامت اس شخص کے لیے باعثِ رسوائی و ندامت ہو گی۔“ ایک دوسری روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”ابوذر! میں تمہیں کمزور سمجھتا ہوں، میں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں وہی تمہارے لیے پسند کرتا ہوں، تم کبھی دو آدمیوں پر بھی امیر نہ بننا اور نہ کسی یتیم کے مال کی سرپرستی قبول کرنا۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3682]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (17، 1825/16)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:رواه مسلم (17، 1825/16)
--. (الإِمَارَةُ لَا تُعْطَى بِالطَّلَبِ)
مارت مانگ کر نہیں دی جاتی
حدیث نمبر: 3683
3683 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَمِّي، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَمِّرْنَا عَلَى بَعْضِ مَا وَلَّاكَ اللَّهُ، وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّا وَاللَّهِ لَا نُوَلِّي عَلَى هَذَا الْعَمَلِ أَحَدًا سَأَلَهُ وَلَا أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں اور میرے دو چچا زاد، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان میں سے ایک نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! اللہ نے جن امور پر آپ کو سرپرست بنایا ہے ان میں سے بعض پر ہمیں امیر مقرر فرما دیں، اور دوسرے شخص نے بھی اسی طرح کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! بے شک ہم اس کام پر کسی ایسے شخص کو امیر نہیں بناتے جو اس کا مطالبہ کرے اور نہ ہی اس کی حرص رکھنے والے شخص کو حکمران بناتے ہیں۔“ دوسری روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اپنے عمل پر کسی ایسے شخص کو عامل مقرر نہیں کرتے جو اس کی خواہش کرتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3683]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7149، 2261) و مسلم (1733/14، 1733/15)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ كَرَاهَةِ الإِمَارَةِ)
امارت کے ناپسندیدہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3684
3684 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ أَشَدَّهُمْ كَرَاهِيَةً لِهَذَا الْأَمْرِ حَتَّى يَقَعَ فِيهِ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں میں سے اس شخص کو بہترین پاؤ گے جو اس امر (حکومت و امارت) کو انتہائی ناپسند کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اس میں مبتلا ہو جائے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3684]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3588) و مسلم (2526/199)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (كُلُّ إِنْسَانٍ أَمِيرٌ وَمَسْؤُولٌ عَنْ إِمَارَتِهِ)
ہر کوئی امیر ہے اور اپنی امارت کا جوابدہ ہے
حدیث نمبر: 3685
3685 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ; فَالْإِمَامُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهُ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ، وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سن لو! تم سب نگہبان ہو اور تم سب اپنی رعیت کے متعلق جواب دہ ہو، حکمران جو لوگوں کا نگہبان ہے وہ اپنی رعیت کے متعلق جواب دہ ہے، آدمی اپنے اہل خانہ کا نگہبان ہے اور وہ اپنی رعیت کے متعلق جواب دہ ہے، عورت اپنے خاوند کے گھر اور اس کی اولاد کی ذمہ دار ہے اور وہ ان کے متعلق جواب دہ ہے اور آدمی کا غلام اپنے آقا کے مال کا نگہبان ہے اور وہ اس کے متعلق جواب دہ ہے۔ سن لو! تم سب نگہبان ہو اور تم سب اپنی رعیت کے متعلق جواب دہ ہو۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3685]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7138) و مسلم (1829/20)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَنْ لَمْ يَرْعَ حُقُوقَ الرَّعِيَّةِ فَالجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ)
رعایا کے حقوق کا خیال نہ کرنے والے پر جنت حرام ہے
حدیث نمبر: 3686
3686 - وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: مَا مِنْ وَالٍ يَلِي رَعِيَّةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ ; فَيَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهُمْ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو حکمران مسلمانوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور وہ ان سے مخلص نہ ہو اور اسے اسی حالت میں موت آ جائے تو اللہ نے اس پر جنت کو حرام قرار دے دیا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3686]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7151) و مسلم (142/22)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (عُقُوبَةُ تَقْصِيرِ الرَّعِيَّةِ حِرْمَانُ الجَنَّةِ)
رعایہ کی کوتاہی کی سزا جنت کی محرومی
حدیث نمبر: 3687
3687 - وَعَنْهُ ; قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِهِ اللَّهُ رَعِيَّةً، فَلَمْ يَحُطْهَا بِنَصِيحَةٍ ; إِلَّا لَمْ يَجِدْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ جس بندے کو کسی رعیت کا نگہبان بنائے اور وہ ان کے ساتھ خیر خواہی نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3687]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7150) و مسلم (142/21)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (شَرُّ الحُكَّامِ)
بدترین حاکم
حدیث نمبر: 3688
3688 - وَعَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بدترین نگہبان، ظالم شخص ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3688]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1830/23)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (دُعَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلأَمِيرِ)
امیر کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا
حدیث نمبر: 3689
3689 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ» ”اے اللہ! جو شخص میری امت کا حکمران بنے اور وہ ان پر سختی کرے تو تُو بھی اس پر سختی کر، اور جس شخص کو میری امت کا حکمران بنایا جائے اور وہ ان پر نرمی کرے تو تُو بھی اس پر نرمی کر۔“ [رواہ مسلم] ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3689]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1828/19)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (فَضِيلَةُ الحَاكِمِ العَادِلِ)
انصاف پرست حکمران کی فضیلت
حدیث نمبر: 3690
3690 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللَّهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ - وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ - الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِهِمْ مَا وَلُوا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں رحمن کے دائیں طرف نور کے منبروں پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں، اور وہ لوگ اپنے حکم میں، اپنے اہل خانہ میں اور اپنی رعیت کے معاملات میں انصاف کرتے ہیں۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3690]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1827/18)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح