🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (لِكُلِّ أَمِيرٍ وَزِيرَانِ)
ہر امیر کے دو مشیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3691
3691 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ وَلَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ ; بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَهُ اللَّهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا اور جس کسی کو خلیفہ مقرر فرمایا تو اس کے دو خصوصی مشیر ہوتے ہیں، ایک مشیر اسے نیکی کا حکم دیتا ہے، اسے اس پر آمادہ کرتا ہے جبکہ ایک مشیر اسے برائی کا حکم دیتا ہے اور اسے اس پر آمادہ کرتا ہے اور بچتا وہی ہے جسے اللہ بچائے۔“ [رواہ البخاری] [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3691]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (7198)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَقَامُ سَعْدِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کا مقام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3692
3692 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَنْزِلَةِ صَاحِبِ الشُّرَطِ مِنَ الْأَمِيرِ  . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کا نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں وہ مقام تھا جو حکمران کے ہاں کوتوال کا ہوتا ہے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3692]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (7155)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ وِلَايَةِ المَرْأَةِ)
عورت کی حکمرانی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3693
3693 - وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: لَمَّا بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ أَهْلَ فَارِسَ قَدْ مَلَّكُوا عَلَيْهِمْ بِنْتَ كِسْرَى قَالَ: لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً  . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ اہل فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا حکمران بنا لیا ہے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جس نے اپنے امور کسی عورت کے سپرد کر دیے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3693]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4425)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الحُكْمُ فِي خَمْسَةِ أَشْيَاءَ)
پانچ چیزوں کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3694
الْفَصْلُ الثَّانِي 3694 - عَنِ الْحَارِسِ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ: بِالْجَمَاعَةِ وَالسَّمْعِ، وَالطَّاعَةِ، وَالْهِجْرَةِ، وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ إِلَّا أَنْ يُرَاجِعَ  وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ مِنْ جُثَى جَهَنَّمَ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.
حارث اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں پانچ چیزوں: جماعت سے وابستہ رہنے، سمع و اطاعت، ہجرت اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ اور جس شخص نے بالشت بھر جماعت سے علیحدگی اختیار کی تو اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے اتار دی، مگر یہ کہ وہ لوٹ آئے، اور جس شخص نے جاہلیت کا نعرہ بلند کیا اس کا شمار جہنمیوں میں سے ہو گا۔ اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور وہ گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے۔“ اسنادہ صحیح، رواہ احمد و الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3694]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (130/4 ح 17302 مختصرًا) و الترمذي (2863 وقال: حسن صحيح غريب)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّهْيُ عَنْ إِذْلَالِ الحَاكِمِ)
حاکم کو ذلیل کرنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3695
3695 - وَعَنْ زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ الْعَدَوِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بَكْرَةَ تَحْتَ مِنْبَرِ ابْنِ عَامِرٍ وَهُوَ يَخْطُبُ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ رِقَاقٌ، فَقَالَ أَبُو بِلَالٍ انْظُرُوا إِلَى أَمِيرِنَا يَلْبَسُ ثِيَابَ الْفُسَّاقِ: فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: اسْكُتْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: مَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ أَهَانَهُ اللَّهُ  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
زیاد بن کسیب عدوی بیان کرتے ہیں کہ میں ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ابن عامر کے منبر کے پاس تھا جبکہ ابن عامر خطبہ دے رہا تھا اور اس نے باریک لباس پہنا ہوا تھا، (یہ دیکھ کر) ابوبلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے امیر کو دیکھو اس نے فاسقوں جیسا لباس پہن رکھا ہے، ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: خاموش ہو جاؤ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے اللہ کے سلطان کی زمین میں اہانت کی تو اللہ اس کی اہانت کرے گا۔“ ترمذی، اور انہوں نے کہا کہ یہ حدیث حسن غریب ہے، اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3695]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2224)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ تَعَالَى)
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3696
3696 - وَعَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ  . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ.
نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”خالق کی معصیت میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں۔“ سندہ ضعیف، رواہ فی شرح السنہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3696]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (44/10ح 2455 وسنده ضعيف)
٭ فيه الزبرقان مجھول، ذکره ابن حبان في الثقات وقال: لا أدري من ھو و لا ابن من ھو؟ (265/4) وروي البخاري (7257) و مسلم (1840) و اللفظ له: ’’لا طاعة في معصية الله، إنما الطاعة في المعروف‘‘ تقدم (3665) وھو يغني عنه .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سَيُسْأَلُ الحَاكِمُ يَوْمَ القِيَامَةِ)
حاکم سے روز قیامت سوال کیا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3697
3697 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا حَتَّى يُفَكَّ عَنْهُ الْعَدْلُ  ، أَوْ يُوبِقَهُ الْجَوْرُ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”دس افراد کے امیر کو بھی اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کا ہاتھ گردن کے ساتھ بندھا ہو گا حتی کہ (اس کا) عدل اسے آزاد کرا دے گا، یا (اس کا) ظلم اسے ہلاک کرا دے گا۔“ اسنادہ صحیح، رواہ الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3697]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الدارمي (240/2 ح 2518، نسخة محققة: 2557)
٭ و للحديث شواھد کثيرة .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الإِمَارَةُ سَبَبُ الهَلَاكِ)
امیر کا عہدہ ہلاکت کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3698
3698 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ، وَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ، وَيْلٌ لِلْأُمَنَاءِ  ، لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ نَوَاصِيَهُمْ مُعَلَّقَةٌ بِالثُّرَيَّا، يَتَجَلْجَلُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَأَنَّهُمْ لَمْ يَلُوا عَمَلًا. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ فِي رِوَايَتِهِ ; أَنَّ دَوَابَّهُمْ كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا، يَتَذَبْذَبُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَمْ يَكُونُوا عُمِّلُوا عَلَى شَيْءٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”امراء کے لیے ویل (ہلاکت و تباہی یا جہنم کی ایک وادی) ہے، ناظمین کے لیے ویل ہے اور امانت رکھنے والوں کے لیے ہلاکت ہے، روزِ قیامت لوگ آرزو کریں گے کہ کاش! ان کی پیشانیاں ثریا کے ساتھ معلق ہوتیں اور وہ زمین و آسمان کے درمیان لٹکتے رہتے لیکن وہ کسی کام کی ذمہ داری و سرپرستی قبول نہ کرتے۔“ اور امام احمد رحمہ اللہ نے بھی اسے روایت کیا ہے، ان کی روایت میں ہے کہ: ”ان کے بال ثریا کے ساتھ معلق ہوتے اور وہ زمین و آسمان کے درمیان معلق رہتے لیکن انہیں کسی کام کی ذمہ داری نہ سونپی جاتی۔“ حسن، اسے شرح السنہ اور امام احمد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3698]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه البغوي في شرح السنة (59/10. 60 ح 2468) و أحمد (352/2) [و صححه الحاکم (91/4 ح 7016) وابن حبان (الموارد: 1559 و سنده حسن) و له طريق آخر عند الحاکم (191/4) و صححه ووافقه الذهبي و سنده حسن] »
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (السُّرَبْرَاهُ فِي النَّارِ)
سربراہ دوزخ میں جائیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3699
3699 - وَعَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ الْعِرَافَةَ وَلَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ عُرَفَاءَ وَلَكِنَّ الْعُرْفَاءَ فِي النَّارِ  . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
غالب قطان ایک آدمی سے، وہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ناظم کا ہونا ضروری ہے کیونکہ ناظموں کے بغیر گزارہ ممکن نہیں، لیکن (اکثر) ناظم جہنم میں ہوں گے۔“ [سندہ ضعیف، رواہ ابوداؤد] ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3699]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (2934)
٭ فيه غير واحد من المجھولين .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُعَاءٌ لِلتَّجَنُّبِ مِنَ الحُكَّامِ السَّيِّئِينَ)
برے حکمرانوں سے بچنے کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3700
3700 - وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أُعِيذُكَ بِاللَّهِ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ  ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أُمَرَاءُ سَيَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي، مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسُوا مِنِّي، وَلَسْتُ مِنْهُمْ، وَلَنْ يَرِدُوا عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَيُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَأُولَئِكَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُمْ، وَأُولَئِكَ يَرِدُونَ عَلَيَّ الْحَوْضَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: ”میں نادانوں کی امارت سے تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کیا چیز ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد کچھ امراء ہوں گے، جو شخص ان کے پاس جائے ان کی کذب بیانی پر ان کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت کرے تو ایسے لوگ مجھ سے نہیں ہیں اور میں ان سے نہیں ہوں اور وہ حوضِ کوثر پر میرے پاس نہیں آئیں گے، اور جو شخص ان کے پاس جائے نہ ان کی کذب بیانی پر ان کی تصدیق کرے اور نہ ہی ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے تو ایسے لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور یہی لوگ حوض پر میرے پاس آئیں گے۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی والنسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3700]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (614 وقال: حسن غريب) و النسائي (160/7 ح 4212)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں