مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَعِيَّةُ اللهِ لِلْحَاكِمِ العَادِلِ)
عادل حاکم کے ساتھ اللہ کی مدد ہے
حدیث نمبر: 3741
3741 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ اللَّهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ، فَإِذَا جَارَ تَخَلَّى عَنْهُ وَلَزِمَهُ الشَّيْطَانُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ. وَفِي رِوَايَةٍ:"فَإِذَا جَارَ وَكَلَهُ إِلَى نَفْسِهِ".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک قاضی ظلم نہ کرے تو اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے، جب وہ ظلم کرتا ہے تو وہ اس سے الگ ہو جاتا ہے اور شیطان اس کے ساتھ لگ جاتا ہے۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ اسے اس کے نفس کے سپرد کر دیتا ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3741]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1330 و قال: غريب) و ابن ماجه (2312)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (مَعَ القَاضِي مَلَكَانِ)
قاضی کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے
حدیث نمبر: 3742
3742 - وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ: أَنَّ مُسْلِمًا وَيَهُودِيًّا اخْتَصَمَا إِلَى عُمَرَ، فَرَأَى الْحَقَّ لِلْيَهُودِيِّ، فَقَضَى لَهُ عُمَرُ بِهِ. فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ: وَاللَّهِ لَقَدْ قَضَيْتَ بِالْحَقِّ، فَضَرَبَهُ عُمَرُ بِالدِّرَّةِ، وَقَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ قَالَ الْيَهُودِيُّ: وَاللَّهِ إِنَّا نَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّهُ لَيْسَ قَاضٍ يَقْضِي بِالْحَقِّ إِلَّا كَانَ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكٌ، وَعَنْ شِمَالِهِ مَلَكٌ، يُسَدِّدَانِهِ وَيُوَفِّقَانِهِ لِلْحَقِّ مَا دَامَ مَعَ الْحَقِّ، فَإِذَا تَرَكَ الْحَقَّ عَرَجَا وَتَرَكَاهُ. رَوَاهُ مَالِكٌ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی عمر رضی اللہ عنہ کے پاس مقدمہ لے کر آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ یہودی حق پر ہے، اس لیے انہوں نے یہودی کے حق میں فیصلہ کر دیا، تو یہودی نے انہیں کہا: اللہ کی قسم! آپ نے حق کے مطابق فیصلہ کیا، عمر رضی اللہ عنہ نے اسے درہ مارا اور فرمایا: تجھے کیسے پتہ چلا؟ یہودی نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تورات میں (لکھا ہوا) پاتے ہیں کہ جو قاضی حق کے مطابق فیصلہ کرتا ہے تو اس کے دائیں بائیں ایک ایک فرشتہ ہوتا ہے، وہ دونوں اسے حق کے لیے درست رکھتے ہیں، اور اسے حق دینے کی کوشش کرتے ہیں، جب وہ حق چھوڑ دیتا ہے تو وہ دونوں (آسمان کی طرف) اوپر چڑھ جاتے ہیں، اور اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ [صحیح، رواہ مالک] [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3742]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه مالک (الموطأ 719/2 ح 1461 و سنده صحيح)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (ذِكْرُ شِدَّةِ مَنْصِبِ القَضَاءِ)
قضا کی سختی کا بیان
حدیث نمبر: 3743
3743 - وَعَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ: أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: اقْضِ بَيْنَ النَّاسِ. قَالَ: أَوَتُعَافِينِي؟ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! قَالَ: وَمَا تَكْرَهُ مِنْ ذَلِكَ وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ يَقْضِي؟ قَالَ: لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"مَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَى بِالْعَدْلِ ; فَبِالْحَرِيِّ أَنْ يَنْقَلِبَ مِنْهُ كَفَافًا". فَمَا رَاجَعَهُ بَعْدُ فِي ذَلِكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابنِ موہب سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: لوگوں کے درمیان قاضی بننا قبول کرو۔ انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ مجھے معاف نہیں فرما دیتے؟ انہوں نے فرمایا: آپ اسے ناپسند کیوں کرتے ہیں، جبکہ آپ کے والد فیصلے کیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص قاضی ہو اور وہ انصاف سے فیصلے کرے تو یہ زیادہ لائق ہے کہ وہ (قاضی) سے برابر برابر رہ جائے۔“ عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد انہیں نہیں کہا۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3743]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1322 ا وقال: غريب، ليس إسناده عندي بمتصل)
٭ فيه عبد الملک بن أبي جميلة: مجھول و السند منقطع .»
٭ فيه عبد الملک بن أبي جميلة: مجھول و السند منقطع .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (ذِكْرُ رَدِّ مَنْصِبِ القَضَاءِ)
قضا کے عہدے کو رد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3744
3744 - وَفِي رِوَايَةِ رَزِينٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ لِعُثْمَانَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! لَا أَقْضِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، قَالَ: فَإِنَّ أَبَاكَ كَانَ يَقْضِي. فَقَالَ: إِنَّ أَبِي لَوْ أُشْكِلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَلَوْ أُشْكِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ لَهُ شَيْءٌ سَأَلَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَإِنِّي لَا أَجِدُ مَنْ أَسْأَلُهُ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ، فَقَدْ عَاذَ بِعَظِيمٍ. وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ. وَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تَجْعَلَنِي قَاضِيًا! فَأَعْفَاهُ، قَالَ: لَا تُخْبِرْ أَحَدًا.
رزین کی نافع کی سند سے مروی روایت میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: امیر المؤمنین! میں دو آدمیوں کے درمیان بھی فیصلہ نہیں کروں گا، انہوں نے فرمایا: آپ کے والد تو فیصلہ کیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: میرے والد کو کسی مسئلے میں اشکال ہوتا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ لیا کرتے تھے، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی مسئلے میں الجھن ہوتی تو وہ جبریل سے پوچھ لیتے تھے، جبکہ میں ایسا کوئی شخص نہیں پاتا جس سے میں پوچھ لوں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اللہ کی پناہ حاصل کی تو اس نے ایک عظیم ذات کی پناہ حاصل کی“ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کے واسطے سے پناہ طلب کر لے تو اسے پناہ دے دو“ اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ تم مجھے قاضی بناؤ۔ انہوں نے اس سے درگزر کیا اور فرمایا: کسی کو نہ بتانا۔ ضعیف، رواہ رزین۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3744]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه رزين (لم أجده)
٭ وله شاھد عند أحمد (66/1 ح 475) و سنده ضعيف، فيه أبو سنان عيسي بن سنان القسملي ضعيف و شاھد آخر عند الترمذي (1322 ا، انظر الحديث السابق) وسنده ضعيف .»
٭ وله شاھد عند أحمد (66/1 ح 475) و سنده ضعيف، فيه أبو سنان عيسي بن سنان القسملي ضعيف و شاھد آخر عند الترمذي (1322 ا، انظر الحديث السابق) وسنده ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
--. (مَا أَفْعَلُ إِلَّا بِأَمْرِ اللهِ تَعَالَى)
میں جو کچھ کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتا ہوں
حدیث نمبر: 3745
[ 3 ] بَابُ رِزْقِ الْوُلَاةِ وَهَدَايَاهُمْ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 745 - عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَا أُعْطِيكُمْ وَلَا أَمْنَعُكُمْ، أَنَا قَاسِمٌ أَضَعُ حَيْثُ أُمِرْتُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نہ تمہیں دیتا ہوں اور نہ تم سے روکتا ہوں، میں تو تقسیم کرنے والا ہوں، میں تو اسی جگہ پر خرچ کرتا ہوں جہاں کے متعلق مجھے حکم دیا جاتا ہے۔“ (رواہ البخاری)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3745]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3117)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (ذِكْرُ الإِنْفَاقِ غَيْرِ الضَّرُورِيِّ فِي مَالِ اللهِ تَعَالَى)
اللہ تعالیٰ کے مال میں غیر ضروری خرچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3746
3746 - وَعَنْ خَوْلَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنَّ رِجَالًا يَتَخَوَّضُونَ فِي مَالِ اللَّهِ بِغَيْرِ حَقٍّ ; فَلَهُمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
خولہ انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ لوگ اللہ کے مال (بیت المال) میں ناحق تصرف کرتے ہیں، روزِ قیامت ان کے لیے (جہنم کی) آگ ہے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3746]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3118)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (نَفَقَاتُ الأَمِيرِ عَلَى بَيْتِ المَالِ)
امیر کے اخراجات بیت المال کے ذمہ ہیں
حدیث نمبر: 3747
3747 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لِمَّا اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَقَدْ عَلِمَ قَوْمِي أَنَّ حِرْفَتِي لَمْ تَكُنْ تَعْجِزُ عَنْ مَئُونَةِ أَهْلِي ، وَشُغِلْتُ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ، فَسَيَأْكُلُ آلُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ، وَيَحْتَرِفُ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے فرمایا: ”میری قوم جانتی ہے کہ میرا کاروبار میرے اہل خانہ کے اخراجات کے لیے کافی تھا، مجھے مسلمانوں کے معاملات کے حوالے سے مشغول کر دیا گیا ہے لہذا آل ابوبکر اس مال سے کھائیں گے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے لیے کام کریں گے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3747]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (2070)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (تَقْدِيرُ رَاتِبِ الحَاكِمِ)
حاکم کی تنخواہ مقرر کرنا
حدیث نمبر: 3748
الْفَصْلُ الثَّانِي 3748 - عَنْ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالَ:"مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ، فَرَزَقْنَاهُ رِزْقًا، فَمَا أَخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ غُلُولٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
بریدہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہم جس شخص کو کسی کام پر مقرر کریں اور اسے تنخواہ بھی دیں، اور پھر اس کے علاوہ جو مال وہ حاصل کرے گا وہ خیانت ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3748]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2943) [و صححه ابن خزيمة (2369) و الحاکم علي شرط الشيخين (406/1) ووافقه الذهبي] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (بَيَانُ أُجْرَةِ العَامِلِ)
عامل کی اجرت کا بیان
حدیث نمبر: 3749
3749 - وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَعَمَّلَنِي . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں (امارت کا) کام کیا تو آپ نے مجھے اجرت عطا فرمائی۔ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3749]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (2944) [و مسلم (1045) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (العَاقِبَةُ الأَخِيرَةُ لِلْخِيَانَةِ)
خیانت کا آخری انجام
حدیث نمبر: 3750
3750 - وَعَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَمَنِ، فَلَمَّا سِرْتُ، أَرْسَلَ فِي أَثَرِي، فَرُدِدْتُ. فَقَالَ:"أَتَدْرِي لِمَ بَعَثْتُ إِلَيْكَ؟ لَا تُصِيبَنَّ شَيْئًا بِغَيْرِ إِذْنِي، فَإِنَّهُ غُلُولٌ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِهَذَا دَعَوْتُكَ فَامْضِ لِعَمَلِكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا، جب میں چلا تو آپ نے میرے پیچھے قاصد بھیج کر مجھے واپس بلا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو جانتا ہے کہ میں نے تمہاری طرف (قاصد) کیوں بھیجا؟ (اس لیے کہ تمہیں کوئی وصیت کروں) تم میری اجازت کے بغیر کوئی چیز نہ لینا، کیونکہ (اگر تم لو گے تو) وہ خیانت ہوگی، اور جو شخص خیانت کرے گا وہ اس خیانت کو روزِ قیامت لے کر حاضر ہوگا۔ میں نے اسی لیے تمہیں واپس بلایا تھا، اب تم اپنے کام کے لیے جاؤ۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3750]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1335 وقال: حسن غريب)
٭ داود الأودي: ضعيف .»
٭ داود الأودي: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف