🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (مِقْدَارُ المَالِ الجَائِزِ لِلْعَامِلِ)
عامل کے لئے کتنا مال جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3751
3751 - وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"مَنْ كَانَ لَنَا عَامِلًا فَلْيَكْتَسِبْ زَوْجَةً، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَكْتَسِبْ خَادِمًا  ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَسْكَنٌ فَلْيَكْتَسِبْ مَسْكَنًا". وَفِي رِوَايَةٍ:"مَنِ اتَّخَذَ غَيْرَ ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص ہمارا عامل (حکمران، گورنر) ہو (اور اگر اس کی بیوی نہ ہو تو وہ بیت المال میں سے حق مہر ادا کر کے) شادی کر لے، اگر اس کا خادم نہ ہو تو وہ خادم خرید لے اور اگر اس کی رہائش نہ ہو تو وہ رہائش خرید لے۔“ (صحیح، رواہ ابوداؤد) ایک دوسری روایت میں ہے: ”جس نے اس کے علاوہ کچھ حاصل کیا تو وہ خیانت کرنے والا ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3751]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (2945)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ذَمُّ خِيَانَةِ العَامِلِ)
عامل کی خیانت کی مذمت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3752
3752 - وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! مَنْ عُمِّلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ، فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ فَهُوَ غَالٌّ  ، يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ. قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ: كَذَا وَكَذَا قَالَ: وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ، مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ ; فَلْيَأْتِ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَهُ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى"رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَاللَّفْظُ لَهُ.
عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم میں سے جس شخص کو ہمارے کسی کام پر عامل مقرر کیا جائے اور وہ اس میں سے سوئی یا اس سے کوئی چھوٹی بڑی چیز ہم سے چھپا لے تو وہ خیانت کرنے والا ہے، وہ روز قیامت اسے لے کر آئے گا۔“ (یہ بات سن کر) انصار میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اپنی تفویض کردہ ذمہ داری مجھ سے واپس لے لیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”وہ کس لیے؟“ اس نے عرض کیا: میں نے آپ کو ایسے ایسے فرماتے ہوئے سنا ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں یہ کہتا ہوں، ہم جس شخص کو عامل مقرر کریں تو اسے چاہیے کہ وہ حاصل ہونے والی ہر قلیل و کثیر چیز پیش کرے۔ اور پھر اس میں سے جو اسے دیا جائے وہ اسے لے لے اور جس چیز سے اسے روک دیا جائے تو وہ اس سے رک جائے۔“ مسلم، ابوداؤد۔ اور الفاظ حدیث ابوداؤد کے ہیں۔ رواہ مسلم و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3752]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1833/30) و أبو داود (3581)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ الرِّشْوَةِ)
رشوت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3753
3753 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ  رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ”رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے“۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3753]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (3580) و ابن ماجه (2313)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الآخِذِ وَالمُعْطِي فِي الرِّشْوَةِ)
رشوت لینے اور دینے والے پر اللہ کی لعنت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3754
3754 - وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْهُ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
امام ترمذی نے عبداللہ بن عمرو اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ» ”اس کی سند حسن ہے، اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3754]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1337 و قال: حسن صحيح)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَعْنَةُ اللهِ عَلَى المُتَوَسِّطِ فِي الرِّشْوَةِ)
رشوت طے کرانے پر اللہ کی لعنت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3755
3755 - وَرَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ"عَنْ ثَوْبَانَ، وَزَادَ:"وَالرَّائِشَ  . يَعْنِي: الَّذِي يَمْشِي بَيْنَهُمَا.
امام احمد رحمہ اللہ نے اسے روایت کیا ہے اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے شعب الایمان میں اسے ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ نقل کیا ہے: «وَالرَّائِشَ» ”اور رائش کو“ یعنی جو دونوں (رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے) کے درمیان معاملہ طے کراتا ہے (اس پر بھی لعنت فرمائی)۔ سند ضعیف ہے، اسے احمد اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3755]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أحمد (279/5) و البيھقي في شعب الإيمان (5503، نسخة محققة: 5115)
٭ فيه ليث بن أبي سليم ضعيف و شيخه أبو الخطاب مجھول .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لِمَنْ يَكُونُ المَالُ خَيْرًا؟)
مال کس کے لئے اچھا؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3756
3756 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَنِ اجْمَعْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ وَثِيَابَكَ، ثُمَّ ائْتِنِي. قَالَ: فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ. فَقَالَ: يَا عَمْرُو! إِنِّي أَرْسَلْتُ إِلَيْكَ لِأَبْعَثَكَ فِي وُجْةٍ يُسَلِّمُكَ اللَّهُ وَيُغَنِّمُكَ، وَأَزْعَبَ لَكَ زَعْبَةً مِنَ الْمَالِ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا كَانَتْ هِجْرَتِي لِلْمَالِ، وَمَا كَانَتْ إِلَّا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ: نِعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ". رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ. وَرَوَى أَحْمَدُ نَحْوَهُ. وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ:"نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ".
عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے پیغام بھیجا کہ میں اپنا اسلحہ اور کپڑے جمع کر کے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کر دوں، وہ بیان کرتے ہیں، میں حاضرِ خدمت ہوا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وضو فرما رہے تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”عمرو! میں نے تمہاری طرف پیغام بھیجا تھا کہ میں تمہیں کسی مہم پر روانہ کروں، اللہ تمہیں سلامت رکھے، تمہیں مالِ غنیمت عطا فرمائے اور میں تمہیں کچھ مال عطا کروں گا۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ہجرت مال کی خاطر نہیں تھی، وہ تو محض اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تھی۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”حلال مال، صالح مرد کے لیے اچھا ہے۔“ شرح السنہ اور امام احمد رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: ”صالح انسان کے لیے حلال مال بہتر ہے۔“ «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ»، فی شرح السنہ و احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3756]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه البغوي في شرح السنة (91/10 ح 2495) و أحمد (197/4، 202 ح 17915، 17975)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ الشَّفَاعَةِ)
سفارش کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3757
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 3757 - عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: مَنْ شَفَعَ لِأَحَدٍ شَفَاعَةً، فَأَهْدَى لَهُ هَدِيَّةً عَلَيْهَا، فَقَبِلَهَا ; فَقَدْ أَتَى بَابًا عَظِيمًا مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا  . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کی سفارش کی، اور وہ اسے (سفارش کرنے) کی وجہ سے کوئی تحفہ پیش کرے اور سفارش کرنے والا اس تحفہ کو قبول کرے تو وہ سود کے دروازوں میں سے ایک بڑے دروازے میں داخل ہو گیا۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3757]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3541)
٭ عبد الله بن وھب مدلس و عنعن و للحديث شواھد ضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ الدَّعْوَى)
دعویٰ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3758
[ 4 ] بَابُ الْأَقْضِيَةِ وَالشَّهَادَاتِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 3758 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالَ:"لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ، لَادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ، وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي شَرْحِهِ لِلنَّوَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ: وَجَاءَ فِي رِوَايَةِ الْبَيْهَقِيِّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ، أَوْ صَحِيحٍ، زِيَادَةٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا:"لَكِنَّ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينَ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ".
ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو محض ان کے دعوے کی بنیاد پر دے دیا جائے تو لوگ آدمیوں کے خون اور اموال کا دعویٰ کرنے لگیں گے، لیکن قسم مدعی علیہ کے ذمے ہے۔“ امام نووی رحمہ اللہ نے صحیح مسلم کی شرح میں فرمایا: بیہقی کی روایت میں حسن یا صحیح سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی مرفوع روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: ”لیکن مدعی کے ذمے دلیل و گواہی پیش کرنا ہے اور جو شخص انکار کرے اس کے ذمے قسم ہے۔“ رواہ مسلم، وشرح النووی، والسنن الکبریٰ للبیہقی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3758]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1/ 1711) و شرح النووي (3/12) و السنن الکبري للبيھقي (252/10)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّهْيُ عَنِ اليَمِينِ الكَاذِبَةِ)
جھوٹی قسم کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3759
3759 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ  ، لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ"فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان کا مال حاصل کرنے کے لیے قصداً جھوٹی قسم اٹھائے تو وہ روزِ قیامت جب اللہ سے ملاقات کرے گا تو وہ اس شخص پر ناراض ہو گا۔“ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے میں تھوڑی سی قیمت وصول کرتے ہیں ........۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3759]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4549) و مسلم (220 / 138)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَكْلُ حَقِّ المُسْلِمِ بِالقَسَمِ)
قسم کے ذریعہ مسلمان کا حق کھا جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3760
3760 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ ; فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ. فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنی قسم کے ذریعے کسی مسلمان شخص کا حق حاصل کیا تو اللہ نے اس کے لیے جہنم کو واجب کر دیا اور اس پر جنت کو حرام قرار دے دیا۔“ (یہ بات سن کر) کسی آدمی نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! خواہ وہ معمولی سی چیز ہو؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”خواہ وہ پیلو کی شاخ «أَرَاكٍ» ہو۔“ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3760]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (137/218)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں