مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ الْمُجَاهِدِ ذِي النِّيَّةِ الصَّافِيَةِ)
صاف نیت والے مجاہد کا بیان
حدیث نمبر: 3937
[ 4 ] بَابُ الْقِتَالِ فِي الْجِهَادِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 3937 - عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ يَوْمَ أُحُدٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ، فَأَيْنَ أَنَا؟ قَالَ"فِي الْجَنَّةِ" فَأَلْقَى فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غزوہ احد کے روز عرض کیا: مجھے بتائیں کہ اگر میں قتل کر دیا جاؤں تو کہاں ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں۔“ اس نے وہ کھجوریں، جو کہ اس کے ہاتھ میں تھیں، پھینک دیں، پھر قتال کیا حتیٰ کہ شہید کر دیا گیا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3937]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4046) و مسلم (1899/143)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ التَّوْرِيَةِ فِي الْجِهَادِ)
جہاد میں توریہ کا بیان
حدیث نمبر: 3938
3938 - وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ يُرِيدُ غَزْوَةً إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا، حَتَّى كَانَتْ تِلْكَ الْغَزْوَةُ يَعْنِي غَزْوَةَ تَبُوكَ - غَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ، وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا، وَمَفَازًا وَعَدُوًّا كَثِيرًا، فَجَلَّى لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ، لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ غَزْوِهِمْ، فَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی غزوہ کا ارادہ فرماتے تو آپ اس کے علاوہ کسی اور چیز کا توریہ فرمایا کرتے تھے، لیکن جب یہ غزوہ یعنی غزوہ تبوک پیش آیا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سخت گرمی میں لڑا، اور اس میں آپ کو دور دراز کا سفر، بے آب و گیاہ راستوں اور بہت زیادہ دشمنوں کا سامنا تھا، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کے لیے ان کے معاملے کو واضح کر دیا تاکہ وہ اپنے غزوہ کے لیے خوب تیاری کر لیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس سمت جانا تھا وہ انہیں بتا دی۔ [رواہ البخاری] [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3938]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4418)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الْحَرْبُ خُدْعَةٌ)
جنگ ایک دھوکہ
حدیث نمبر: 3939
3939 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"الْحَرْبُ خَدْعَةٌ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ» ”لڑائی ایک دھوکہ ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3939]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3030) و مسلم (1739/17)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مُشَارَكَةُ النِّسَاءِ فِي الْجِهَادِ)
جہاد میں عورتوں کی شرکت
حدیث نمبر: 3940
3940 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ، وَنِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مَعَهُ ، إِذَا غَزَا يَسْقِينَ الْمَاءَ وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاد کے لیے جاتے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا اور انصار کی کچھ عورتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کے لیے جاتیں، وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کا علاج کرتی تھیں۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3940]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1810/130)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَا هِيَ مَشَاغِلُ النِّسَاءِ فِي الْجِهَادِ؟)
جہاد میں عورتوں کی مصروفیات کیا ہیں
حدیث نمبر: 3941
3941 - وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ، فَأَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَ، وَأُدَاوِي الْجَرْحَى، وَأَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی، میں ان کے سامان کے پاس رہا کرتی تھی، ان کے لیے کھانا تیار کرتی، زخمیوں کا علاج کرتی اور مریضوں کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3941]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (142/ 1812)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَنْعُ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْأَطْفَالِ)
عورتوں اور بچّوں کو قتل کرنا منع
حدیث نمبر: 3942
3942 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ”عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3942]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3015) و مسلم (1744/25)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ أَهْلِ بُيُوتِ الْمُشْرِكِينَ)
مشرکین کے گھر والوں کا بیان
حدیث نمبر: 3943
3943 - وَعَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَهْلِ الدِّيَارِ يَبِيتُونَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَيُصَابَ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ ، قَالَ:"هُمْ مِنْهُمْ". وَفِي رِوَايَةٍ:"هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محلوں میں رہنے والے مشرکین کے بارے میں دریافت کیا گیا جن پر شب خون مارا جائے جس میں ان کی عورتیں اور ان کے بچے ہلاک ہو جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بھی انہی کے حکم میں ہیں۔“ ایک دوسری روایت میں ہے: ”وہ اپنے آبا کے تابع ہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3943]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3012) و مسلم (1745/26)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ حَرْقِ أَمْوَالِ الْكُفَّارِ)
کافروں کی املاک کو جلا دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3944
3944 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَحَرَّقَ ، وَلَهَا يَقُولُ حَسَّانُ: وَفِي ذَلِكَ نَزَلَتْ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت کاٹے اور جلائے، حسان رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق شعر کہا: ”بنو لؤی کے سرداروں کے لیے بویرہ پر (کھجوروں کے درختوں کو) جلانا آسان ہوا جو کہ پھیلا ہوا تھا۔“ اور اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی: ﴿مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ﴾ [سورة الحشر: 5] ”تم نے کھجور کے جو درخت کاٹ ڈالے یا انہیں ان کے تنوں پر قائم رہنے دیا وہ (سب) اللہ کے حکم سے تھا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3944]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4031. 4032) و مسلم (1746/30)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ أَسْرِ النِّسَاءِ وَالْأَطْفَالِ)
عورتوں اور بچّوں کو قیدی بنانے کا بیان
حدیث نمبر: 3945
3945 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ: أَنَّ نَافِعًا كَتَبَ إِلَيْهِ يُخْبِرُهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَارَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ غَارِّينِ فِي نَعَمِهِمْ بِالْمُرَيْسِيعِ فَقَتَلَ الْمُقَاتِلَةَ وَسَبَى الذُّرِّيَّةَ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عون رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ (ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام) نافع رحمہ اللہ نے انہیں خط لکھا جس میں انہوں نے انہیں (یعنی مجھے) یہ بتایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں (یعنی نافع کو) خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مصطلق پر اس وقت حملہ کیا جب وہ مریسیع کے مقام پر اپنے مویشیوں میں غافل تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگجوؤں کو قتل کیا اور بچوں کو قیدی بنایا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3945]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2541) و مسلم (1730/1)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ الْحِكْمَةِ الْحَرْبِيَّةِ)
جنگی حکمت عملی کا بیان
حدیث نمبر: 3946
3946 - وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَنَا يَوْمَ بَدْرٍ حِينَ صَفَفَنَا لِقُرَيْشٍ وَصَفُّوا لَنَا:"إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِالنَّبْلِ". وَفِي رِوَايَةٍ:"إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَارْمُوهُمْ وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَحَدِيثُ سَعْدٍ:"هَلْ تُنْصَرُونَ"، سَنَذْكُرُهُ فِي بَابِ"فَضْلِ الْفُقَرَاءِ". وَحَدِيثُ الْبَرَاءِ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَهْطًا فِي بَابِ"الْمُعْجِزَاتِ"إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.
ابواسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب غزوہ بدر کے موقع پر ہم اور قریش ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ تمہارے قریب آ جائیں تو تم ان پر تیر برساؤ“ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”جب وہ تمہارے قریب آ جائیں تو تم ان پر تیر برساؤ اور کچھ تیر اپنے پاس محفوظ رکھو۔“ رواہ البخاری۔ اور سعد رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث: ”تمہاری مدد نہیں کی جاتی ......“ ہم عنقریب باب فضل الفقراء میں ذکر کریں گے، اور براء رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا .....“ باب المعجزات میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3946]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (2900)
حديث سعد يأتي (5232) و حديث البراء يأتي (5876)»
حديث سعد يأتي (5232) و حديث البراء يأتي (5876)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح