مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (رَمْيُ مَقْتُولِي الْمُشْرِكِينَ فِي الْبِئْرِ)
مشرکین کے مقتولین کو کنویں میں پھینکنا
حدیث نمبر: 3967
3967 - وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ فَقَذَفُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ وَكَانَ إِذَا أَظْهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَلَمَّا كَانَ بِبَدْرٍ الْيَوْمَ الثَّالِثَ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَشَدَّ عَلَيْهَا رَحْلَهَا، ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ ; أَيَسُرُّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تُكَلِّمَ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ لَهَا قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَفِي رِوَايَةٍ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لَا يُجِيبُونَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَزَادَ الْبُخَارِيُّ قَالَ قَتَادَةُ أَحْيَاهُمُ اللَّهُ حَتَّى أَسْمَعَهُمْ قَوْلَهُ تَوْبِيخًا وَتَصْغِيرًا وَنِقْمَةً وَحَسْرَةً وَنَدَمًا.
قتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سند سے ہمیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ بدر کے روز قریش کے چوبیس سرداروں کے متعلق حکم فرمایا تو انہیں بدر کے ایک بند کنویں «خَبِيثٍ مُخْبِثٍ» ”جو کہ خبیث اور خبیث بنا دینے والا تھا“ میں ڈال دیا گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی قوم پر غالب آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میدانِ قتال میں تین راتیں قیام فرماتے، چنانچہ جب بدر میں تیسرا روز ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رختِ سفر باندھنے کا حکم فرمایا، سواریاں تیار کر دی گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چلنے لگے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کنویں کے کنارے، جس میں سردارانِ قریش کی لاشیں پھینکی گئی تھیں، کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں ان کے اور ان کے آبا کے نام لے کر پکارنے لگے: ”فلاں بن فلاں! فلاں بن فلاں! کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرتے؟ چنانچہ ہمارے رب نے جس چیز کا ہم سے وعدہ کیا تھا ہم نے تو اسے سچ پا لیا، تو کیا تمہارے رب نے جس چیز کا تم سے وعدہ کیا تھا، تم نے اسے سچا پایا؟“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مردہ جسموں سے کلام فرما رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! میں جو کہہ رہا ہوں تم اسے ان سے زیادہ نہیں سن رہے۔“ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ”تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے لیکن وہ جواب نہیں دیتے۔“ بخاری و مسلم۔ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کر دیا حتیٰ کہ باعثِ توبیخ و تحقیر، انتقام و حسرت اور ندامت، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سنا دی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3967]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3976 و الرواية الثانية: 1270) و مسلم (2875/78)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (إِرْجَاعُ أَسْرَى هَوَازِنَ)
ہوازن کے قیدی واپس کرنا
حدیث نمبر: 3968
3968 - وَعَنْ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْيَ وَإِمَّا الْمَالَ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ جَاءُوا تَائِبِينَ وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ ; إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَنْ يَفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مروان اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب قبیلہ ہوازن کے لوگ مسلمان ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ وعظ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، انہوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ ان کے اموال اور ان کے قیدی لوٹا دیے جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں میں سے ایک چیز اختیار کر لو، خواہ قیدی، خواہ مال۔“ انہوں نے عرض کیا: ہم اپنے قیدی لینا چاہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے پھر اللہ کی شایانِ شان اس کی ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ” «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد“ تمہارے بھائی مسلمان ہو کر آئے ہیں، میری رائے تو یہی ہے کہ ان کے قیدی انہیں لوٹا دیے جائیں، تم میں سے جو کوئی شخص بخوشی بے لوث ایسے کرنا چاہتا ہے تو وہ کرے اور اگر تم میں سے کوئی اپنا حصہ لینا پسند کرتا ہو تو وہ انتظار کرے حتی کہ اللہ ہمیں جو سب سے پہلے مالِ فے عطا فرمائے تو ہم اسے وہی چیز عطا کر دیں گے، لہذا اب وہ ایسا کر لے (کہ قیدی واپس کر دے)۔“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے یہ کام خوشی سے کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی اور کس نے اجازت نہیں دی، تم لوٹ جاؤ حتی کہ تمہارے رؤساء تمہارا معاملہ ہمارے سامنے پیش کریں۔“ لوگ لوٹ گئے، ان کے رؤساء نے ان سے بات چیت کی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ آئے اور انہوں نے آپ کو بتایا کہ وہ راضی ہیں اور انہوں نے اجازت دی ہے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3968]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (2307)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ تَبَادُلِ الْأَسْرَى الْحَرْبِيِّينَ)
جنگی قیدیوں کے تبادلے کا بیان
حدیث نمبر: 3969
3969 - وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كَانَ ثَقِيفٌ حَلِيفًا لِبَنِي عُقَيْلٍ فَأَسَرَتْ ثَقِيفٌ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ فَأَوْثَقُوهُ فَطَرَحُوهُ فِي الْحَرَّةِ فَمَرَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَادَاهُ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ فِيمَ أُخِذْتُ قَالَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكُمْ ثَقِيفٍ فَتَرَكَهُ وَمَضَى فَنَادَاهُ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ فَرَحِمَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَجَعَ وَقَالَ مَا شَأْنُكَ قَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ فَقَالَ لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ قَالَ فَفَدَاهُ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ أَسَرَتْهُمَا ثَقِيفٌ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ثقیف، بنو عُقیل کے حلیف تھے، ثقیف (قبیلے) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو صحابی قید کر لیے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے بنو عقیل کا ایک آدمی قید کر لیا اور اسے باندھ کر پتھریلی زمین پر پھینک دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو اس نے آپ کو آواز دی: محمد! محمد! مجھے کس لیے پکڑا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے حلیف ثقیف کے جرم کے بدلے میں۔“ آپ نے اسے اس کے حال پر چھوڑا اور آگے چل دیے، اس نے پھر آواز دی: محمد! محمد! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پر ترس آ گیا اور واپس تشریف لا کر فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہے؟“ اس نے کہا: میں مسلمان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس وقت کہتے جب کہ تم اپنے معاملے کے خود مختار تھے تو تم مکمل فلاح پا جاتے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ان دو آدمیوں، جنہیں ثقیف نے قید کر رکھا تھا، کے بدلے میں چھوڑ دیا۔ (یعنی تبادلہ کر لیا) رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3969]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1641/8)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (قِلَادَةُ السَّيِّدَةِ زَيْنَبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا)
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا ہار
حدیث نمبر: 3970
الْفَصْلُ الثَّانِي 3970 - عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أُسَرَائِهِمْ بَعَثَتْ زَيْنَبُ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ بِمَالٍ وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلَادَةٍ لَهَا كَانَتْ عِنْدَ خَدِيجَةَ أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً وَقَالَ إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا فَقَالُوا نَعَمْ وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَذَ عَلَيْهِ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَ زَيْنَبَ إِلَيْهِ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَرَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ كُونَا بِبَطْنِ يَأْجَجَ حَتَّى تَمُرَّ بِكُمَا زَيْنَبُ فَتَصْحَبَاهَا حَتَّى تَأْتِيَا بِهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب مکہ والوں نے اپنے قیدیوں کی رہائی کے لیے فدیہ بھیجا تو زینب رضی اللہ عنہا نے ابوالعاص (اپنے خاوند) کے فدیہ میں مال بھیجا اور اس میں اپنا ہار بھی بھیجا جو خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تھا جو انہوں نے انہیں ابوالعاص کے ساتھ شادی کے موقع پر عطا کیا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس (ہار) کو دیکھا تو ان (زینب رضی اللہ عنہا) کی خاطر آپ پر شدید رقت طاری ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم مناسب سمجھو تو اس کی خاطر قیدی کو رہا کرو اور اس کا ہار بھی واپس کر دو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: (اللہ کے رسول!) ٹھیک ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوالعاص سے یہ عہد لیا کہ وہ زینب کو میرے پاس (مدینہ) آنے کی اجازت دے دے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور انصار کے ایک آدمی کو (مکہ) بھیجا تو فرمایا: ”تم دونوں یاجج کے مقام پر ہونا حتیٰ کہ زینب تمہارے پاس سے گزریں تو تم ان کے ساتھ ہو لینا حتیٰ کہ تم انہیں (یہاں مدینہ) لے آنا۔“ اسنادہ حسن، رواہ احمد و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3970]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (276/6 ح 26894) و أبو داود (2692)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (قَتْلُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ)
عقبہ بن ابی معیط کا قتل
حدیث نمبر: 3971
3971 - وَعَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَسَرَ أَهْلَ بَدْرٍ قَتَلَ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ وَالنَّضْرَ بْنَ الْحَارِثِ وَمَنَّ عَلَى أَبِي عَزَّةَ الْجُمَحِيِّ . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل بدر کو قید کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث کو قتل کیا اور ابوعزہ جمحی پر (بلا معاوضہ آزاد کرنے کا) احسان کیا۔ ضعیف، «رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ» ”اسے شرح السنہ میں روایت کیا گیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3971]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (78/11 بعد ح 2711) بدون السند عن الشافعي و للحديث شواھد ضعيفة في السير و التاريخ .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
--. (هَمُّ أَسِيرٍ حَرْبِيٍّ)
ایک جنگی قیدی کی فکر
حدیث نمبر: 3972
3972 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَرَادَ قَتْلَ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ قَالَ مَنْ لِلصِّبْيَةِ قَالَ النَّارُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عقبہ بن ابی معیط کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے کہا: بچوں کے لیے کون (کفیل) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”(تم اپنی جان کی فکر کرو تمہارے لیے) آگ ہے۔“ سندہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3972]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (2686)
٭ إبراهيم النخعي مدلس و عنعن و للحديث شواھد ضعيفة .»
٭ إبراهيم النخعي مدلس و عنعن و للحديث شواھد ضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (تَفْوِيضُ الصَّحَابَةِ فِي أَمْرِ الْفِدْيَةِ)
فدیہ کے بارے میں صحابہ کو اختیار ملتا
حدیث نمبر: 3973
3973 - وَعَنْ عَلِيٍّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ جِبْرِيلَ هَبَطَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ خَيِّرْهُمْ يَعْنِي أَصْحَابَكَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ الْقَتْلَ، أَوِ الْفِدَاءَ عَلَى أَنْ يُقْتَلَ مِنْهُمْ قَابِلًا مِثْلُهُمْ قَالُوا الْفِدَاءَ وَيُقْتَلَ مِنَّا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ”جبریل علیہ السلام کا نزول ہوا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: اپنے صحابہ کو بدر کے قیدیوں کے بارے میں اختیار دیں کہ وہ انہیں قتل کریں یا فدیہ لے لیں کہ آئندہ سال اتنے ہی (ستر) ان میں سے شہید کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے عرض کیا: ہم فدیہ قبول کرتے ہیں، اور ہمیں منظور ہے کہ ہم میں سے قتل کیے جائیں۔“ ترمذی، اور فرمایا: یہ حدیث غریب ہے، «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ» ”اس کی سند ضعیف ہے“، «رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ» ”اسے ترمذی نے روایت کیا“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3973]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1567)
٭ هشام بن حسان مدلس و عنعن .»
٭ هشام بن حسان مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (مَا هِيَ عَلَامَةُ الْبُلُوغِ؟)
بالغ ہو جانے کی نشانی کیا ہے
حدیث نمبر: 3974
3974 - وَعَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ قَالَ كُنْتُ فِي سَبْيِ بَنِي قُرَيْظَةَ ، عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانُوا يَنْظُرُونَ فَمَنْ أَنْبَتَ الشَّعَرَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ لَمْ يُقْتَلْ فَكَشَفُوا عَانَتِي فَوَجَدُوهَا لَمْ تُنْبِتْ فَجَعَلُونِي فِي السَّبْيِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.
عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں قریظہ کے قیدیوں میں تھا، ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روبرو پیش کیا گیا، وہ دیکھتے کہ جس کے زیر ناف بال اگے ہوتے اسے قتل کر دیا جاتا اور جس کے بال نہ ہوتے اسے قتل نہ کیا جاتا، انہوں نے میری شرم گاہ سے پردہ اٹھایا اور دیکھا کہ وہاں بال نہیں اگے تو انہوں نے مجھے قیدیوں میں شامل کر دیا۔ صحیح، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3974]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (4404) و ابن ماجه (2541) و الدارمي (223/2 ح 2467)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (إِعْلَانُ عِتْقِ عَبِيدِ الْمُشْرِكِينَ)
مشرکین کے غلاموں کو آزاد قرار دینا
حدیث نمبر: 3975
3975 - وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ خَرَجَ عِبْدَانٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةَ قَبْلَ الصُّلْحِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ مَوَالِيهِمْ قَالُوا يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا خَرَجُوا إِلَيْكَ رَغْبَةً فِي دِينِكَ وَإِنَّمَا خَرَجُوا هَرَبًا مِنَ الرِّقِّ فَقَالَ نَاسٌ صَدَقُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رُدَّهُمْ إِلَيْهِ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ مَا أُرَاكُمْ تَنْتَهُونَ يَا مَشْعَرَ قُرَيْشٍ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مَنْ يَضْرِبُ رِقَابَكُمْ عَلَى هَذَا وَأَبَى أَنْ يَرُدَّهُمْ وَقَالَ هُمْ عُتَقَاءَ اللَّهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صلح حدیبیہ کے روز صلح سے پہلے کچھ غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے تو ان کے مالکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام خط لکھا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اللہ کی قسم! یہ لوگ آپ کے دین میں رغبت رکھنے کے پیش نظر آپ کے پاس نہیں آئے، بلکہ یہ تو غلامی سے بھاگ کر آئے ہیں۔ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! انہوں نے سچ کہا ہے، آپ انہیں لوٹا دیجیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہو گئے اور فرمایا: ”جماعتِ قریش! میں سمجھتا ہوں کہ تم باز نہیں آؤ گے حتی کہ اللہ تم پر ایسے شخص کو بھیجے جو اس (تعصب) پر تمہاری گردنیں اڑا دے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو لوٹانے سے انکار کر دیا، اور فرمایا: ”وہ اللہ کے لیے آزاد کردہ ہیں۔“ (سندہ ضعیف، رواہ ابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3975]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (2700)
٭ محمد بن إسحاق عنعن و رواه الترمذي (3715) من حديث شريک القاضي به وھو مدلس و عنعن .»
٭ محمد بن إسحاق عنعن و رواه الترمذي (3715) من حديث شريک القاضي به وھو مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (سَوْءُ فَهْمِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی غلط فہی
حدیث نمبر: 3976
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 3976 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا فَجَعَلُوا يَقُولُونَ صَبَأْنَا صَبَأْنَا فَجَعَلَ خَالِدٌ يَأْسِرُ وَيَقْتُلُ وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمٌ أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْنَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنو جذیمہ کی طرف بھیجا، انہوں نے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی، انہوں نے واضح طور پر (لفظ «أَسْلَمْنَا») ”ہم نے اسلام قبول کر لیا“ نہ کہا، بلکہ انہوں نے (لفظ «صَبَأْنَا») ”ہم بے دین ہوئے“ کہنا شروع کر دیا، اس پر خالد رضی اللہ عنہ انہیں قتل کرنے لگے اور قیدی بنانے لگے، اور انہوں نے ہم میں سے ہر شخص کو اس کا قیدی دیا حتی کہ ایک روز ایسے ہوا کہ انہوں نے حکم دیا کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کرے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنا قیدی قتل نہیں کروں گا اور نہ میرا کوئی ساتھی اپنے قیدی کو قتل کرے گا، یہاں تک کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دو مرتبہ فرمایا: ”اے اللہ! خالد نے جو کیا میں اس سے تیرے حضور براءت کا اعلان کرتا ہوں۔“ [رواہ البخاری] [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3976]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (7189)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح