صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ”اہل کتاب سے دین کی کوئی بات نہ پوچھو“۔
حدیث نمبر: 7363
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:" كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ تَقْرَءُونَهُ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ؟ وَقَدْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ بَدَّلُوا كِتَابَ اللَّهِ وَغَيَّرُوهُ وَكَتَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الْكِتَابَ، وَقَالُوا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلا سورة البقرة آية 79 أَلَا يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مَسْأَلَتِهِمْ؟ لَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِنْهُمْ رَجُلًا يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں کیوں پوچھتے ہو جب کہ تمہاری کتاب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ تازہ بھی ہے اور محفوظ بھی اور تمہیں اس نے بتا بھی دیا کہ اہل کتاب نے اپنا دین بدل ڈالا اور اللہ کی کتاب میں تبدیلی کر دی اور اسے اپنے ہاتھ سے از خود بنا کر لکھا اور کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ دنیا کا تھوڑا سا مال کما لیں۔ تمہارے پاس (قرآن و حدیث کا) جو علم ہے وہ تمہیں ان سے پوچھنے سے منع کرتا ہے۔ واللہ! میں تو نہیں دیکھتا کہ اہل کتاب میں سے کوئی تم سے اس کے بارے میں پوچھتا ہو جو تم پر نازل کیا گیا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7363]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”تم اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق کیوں پوچھتے ہو، حالانکہ کتاب جسے تم پڑھتے ہو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تازہ تازہ ہوئی ہے؟ نیز یہ خالص ہے اس میں کوئی ملاوٹ نہیں کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں بتایا ہے کہ اہل کتاب نے کتابِ الٰہی کو بدل دیا ہے اور اس میں تغیر کر دیا ہے۔ ﴿انہوں نے ازخود اپنے ہاتھوں سے لکھا اور کہہ دیا: یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعے سے دنیا کا تھوڑا سا مال کما لیں﴾ [سورة البقرة: 79] کیا تمہارے پاس جو علم آیا ہے وہ تمہیں ان سے پوچھنے سے منع نہیں کرتا؟ اللہ کی قسم! میں نے نہیں دیکھا کہ اہل کتاب میں سے کوئی شخص تم سے اس کے متعلق سوال کرتا ہو جو تم پر نازل کیا گیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7363]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
26. بَابُ كَرَاهِيَةِ الْخِلاَفِ:
باب: احکام شرع میں جھگڑا کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7364
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ قُلُوبُكُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ سَمِعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَلَّامًا.
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے خبر دی، انہیں سلام بن ابی مطیع نے، انہیں ابوعمران الجونی نے، ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہارے دل ملے رہیں قرآن پڑھو اور جب تم میں اختلاف ہو جائے تو اس سے دور ہو جاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7364]
حضرت جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک تمہارے دل ملے رہیں قرآن کریم پڑھو اور جب تم میں اختلاف ہو جائے تو اس سے اٹھ کھڑے ہو۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا: عبدالرحمن نے (راوی حدیث) سلام بن ابو مطیع سے سنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7364]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7365
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَارُونَ الْأَعْوَرِ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ، عَنْ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالصمد بن عبدالوارث نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ بصریٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعمران جونی نے اور ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تک تمہارے دلوں میں اتحاد و اتفاق ہو قرآن پڑھو اور جب اختلاف ہو جائے تو اس سے دور ہو جاؤ۔“ اور یزید بن ہارون واسطی نے ہارون اعور سے بیان کیا، ان سے ابوعمران نے بیان کیا، ان سے جندب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7365]
حضرت جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن پڑھتے رہو جب تک تمہارے دل اس پر لگے رہیں اور جب اختلاف ہو جائے تو اس سے کھڑے ہوجاؤ۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: ”یزید بن ہارون واسطی نے ہارون اعور سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو عمران نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7365]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7366
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَمَّا حُضِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ، قَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَلَبَهُ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ، فَحَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَاخْتَصَمُوا، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: مَا قَالَ عُمَرُ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغَطَ وَالِاخْتِلَافَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُومُوا عَنِّي، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنَ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو گھر میں بہت سے صحابہ موجود تھے، جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آؤ میں تمہارے لیے ایک ایسا مکتوب لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آؤ میں تمہارے لیے ایک ایسا مکتوب لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف میں مبتلا ہیں، تمہارے پاس اللہ کی کتاب ہے اور یہی ہمارے لیے کافی ہے۔ گھر کے لوگوں میں بھی اختلاف ہو گیا اور آپس میں بحث کرنے لگے۔ ان میں سے بعض نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب (لکھنے کا سامان) کر دو۔ وہ تمہارے لیے ایسی چیز لکھ دیں گے کہ اس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے اور بعض نے وہی بات کہی جو عمر رضی اللہ عنہ کہہ چکے تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگ اختلاف و بحث زیادہ کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس سے ہٹ جاؤ۔ عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ سب سے بھاری مصیبت تو وہ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اس نوشت لکھوانے کے درمیان حائل ہوئے، یعنی جھگڑا اور شور۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7366]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو گھر میں بہت سے صحابہ کرام موجود تھے۔ ان میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ، میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تکلیف میں مبتلا ہیں، تمہارے پاس قرآن موجود ہے اور ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے۔“ گھر کے لوگوں میں بھی اختلاف ہو گیا اور وہ آپس میں جھگڑنے لگے۔ کچھ کہنے لگے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب (لکھنے کا سامان) کر دو، وہ تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دیں کہ اس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے“ اور کچھ حضرات نے وہی بات کہی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہہ چکے تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شور و غل اور اختلاف زیادہ ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: ”سب سے بھاری مصیبت تو یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اس نوشت لکھوانے کے درمیان اختلاف اور جھگڑا حائل ہوا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7366]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
27. بَابُ نَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّحْرِيمِ إِلاَّ مَا تُعْرَفُ إِبَاحَتُهُ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے لوگوں کو منع کریں تو وہ حرام ہو گا مگر یہ کہ اس کی اباحت دلائل سے معلوم ہو جائے۔
حدیث نمبر: Q7367
وَكَذَلِكَ أَمْرُهُ نَحْوَ قَوْلِهِ حِينَ أَحَلُّوا أَصِيبُوا مِنَ النِّسَاءِ، وَقَالَ جَابِرٌ وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ وَلَكِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ، وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا.
اسی طرح آپ جس کام کا حکم کریں۔ مثلاً جب لوگ حج سے فارغ ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اپنی بیویوں کے پاس جاؤ۔ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صحابہ پر آپ نے اس کا کرنا ضروری نہیں قرار دیا بلکہ صرف اسے حلال کیا تھا۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہمیں جنازے کے ساتھ چلنے سے منع کیا گیا ہے لیکن حرام نہیں ہوا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: Q7367]
حدیث نمبر: 7367
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ، قَالَ جَابِرٌ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ البُرْسَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي أُنَاسٍ مَعَهُ، قَالَ:" أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ عُمْرَةٌ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ، وَقَالَ: أَحِلُّوا وَأَصِيبُوا مِنَ النِّسَاءِ، قَالَ عَطَاءٌ، قَالَ جَابِرٌ: وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ وَلَكِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ، فَبَلَغَهُ أَنَّا نَقُولُ: لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْن عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ إِلَى نِسَائِنَا، فَنَأْتِي عَرَفَةَ تَقْطُرُ مَذَاكِيرُنَا الْمَذْيَ، قَالَ: وَيَقُولُ جَابِرٌ بِيَدِهِ هَكَذَا وَحَرَّكَهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ، وَلَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ كَمَا تَحِلُّونَ، فَحِلُّوا، فَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا".
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے عطاء نے بیان کیا، ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) امام ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ محمد بن بکر برقی نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عطاء نے خبر دی، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، اس وقت اور لوگ بھی ان کے ساتھ تھے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خالص حج کا احرام باندھا اس کے ساتھ عمرہ کا نہیں باندھا۔ عطاء نے بیان کیا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم 4 ذی الحجہ کی صبح کو آئے اور جب ہم بھی حاضر ہوئے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حلال ہو جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حلال ہو جاؤ اور اپنی بیویوں کے پاس جاؤ۔ عطاء نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ ان پر یہ ضروری نہیں قرار دیا بلکہ صرف حلال کیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ ہم میں یہ بات ہو رہی ہے کہ عرفہ پہنچنے میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں اور پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کا حکم دیا ہے، کیا ہم عرفات اس حالت میں جائیں کہ مذی یا منی ہمارے ذکر سے ٹپک رہی ہو۔ عطاء نے کہا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس طرح مذی ٹپک رہی ہو، اس کو ہلایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا، تمہیں معلوم ہے کہ میں تم میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، تم میں سب سے زیادہ سچا ہوں اور سب سے زیادہ نیک ہوں اور اگر میرے پاس ہدی (قربانی کا جانور) نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا، پس تم بھی حلال ہو جاؤ۔ اگر مجھے وہ بات پہلے سے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا۔ چنانچہ ہم حلال ہو گئے اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی اور آپ کی اطاعت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7367]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے صرف حج کا احرام باندھا، اس کے ساتھ عمرے کی نیت نہ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کی چار تاریخ کو مکہ مکرمہ تشریف لائے تو ہمیں آپ نے حکم دیا کہ ہم حج کا احرام کھول دیں اور فرمایا: ”تم حج کا احرام کھول دو اور اپنی بیویوں کے پاس جاؤ۔““ حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ نے بیویوں سے جماع کرنا ان پر واجب نہیں کیا تھا صرف عورتوں کو ان پر حلال کیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ ہم لوگ کہتے ہیں: ”جب ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں تو آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنی عورتوں کے پاس جائیں اس حالت میں جب ہم عرفہ جائیں گے تو ہماری شرم گاہوں سے منی ٹپک رہی ہوگی۔““ حضرت جابر رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے تھے اور اسے حرکت دیتے تھے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”تمہیں معلوم ہے کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ سچا اور نیک ہوں۔ اگر میرے پاس قربانی نہ ہوتی تو میں بھی احرام کھول دیتا جیسا کہ تم نے کھول دیے ہیں، لہذا تم مکمل طور پر حلال ہو جاؤ۔ اگر مجھے وہ بات پہلے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی ہے تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا۔“ پھر ہم احرام کھول کر (پوری طرح) حلال ہوگئے، ہم نے آپ کی بات سنی اور آپ کی اطاعت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7367]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7368
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ الْحُسَيْنِ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صَلُّوا قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، قَالَ: فِي الثَّالِثَةِ لِمَنْ شَاءَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے حسین بن ذکوان معلم نے، ان سے عبیداللہ بن بریدہ نے، کہا مجھ سے عبداللہ بن مغفل مزنی نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مغرب کی نماز سے پہلے بھی نماز پڑھو اور تیسری مرتبہ میں فرمایا کہ جس کا جی چاہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند نہیں کرتے تھے کہ اسے لوگ لازمی سنت بنا لیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7368]
حضرت عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”نماز مغرب سے پہلے نماز پڑھو۔“ تیسری مرتبہ فرمایا: ”یہ اس کے لیے جو پڑھنا چاہے۔“ کیونکہ آپ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ لوگ اسے لازمی سنت بنا لیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7368]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
28. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ} {وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ شوریٰ میں) فرمانا ”مسلمانوں کا کام آپس کے صلاح اور مشورے سے چلتا ہے“ اور اللہ تعالیٰ کا (سورۃ آل عمران میں) فرمان ”اے پیغمبر! ان سے کاموں میں مشورہ لے“۔
حدیث نمبر: Q7369
وَأَنَّ الْمُشَاوَرَةَ قَبْلَ الْعَزْمِ وَالتَّبَيُّنِ، لِقَوْلِهِ: فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ سورة آل عمران آية 159، فَإِذَا عَزَمَ الرَّسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِبَشَرٍ التَّقَدُّمُ عَلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَشَاوَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ يَوْمَ أُحُدٍ فِي الْمُقَامِ وَالْخُرُوجِ فَرَأَوْا لَهُ الْخُرُوجَ فَلَمَّا لَبِسَ لَأْمَتَهُ وَعَزَمَ، قَالُوا: أَقِمْ فَلَمْ يَمِلْ إِلَيْهِمْ بَعْدَ الْعَزْمِ، وَقَالَ: لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ يَلْبَسُ لَأْمَتَهُ فَيَضَعُهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ وَشَاوَرَ عَلِيًّا، وَأُسَامَةَ فِيمَا رَمَى بِهِ أَهْلُ الْإِفْكِ عَائِشَةَ فَسَمِعَ مِنْهُمَا حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ فَجَلَدَ الرَّامِينَ، وَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَى تَنَازُعِهِمْ وَلَكِنْ حَكَمَ بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ وَكَانَتِ الْأَئِمَّةُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَشِيرُونَ الْأُمَنَاءَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْأُمُورِ الْمُبَاحَةِ لِيَأْخُذُوا بِأَسْهَلِهَا فَإِذَا وَضَحَ الْكِتَابُ أَوِ السُّنَّةُ لَمْ يَتَعَدَّوْهُ إِلَى غَيْرِهِ اقْتِدَاءً بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَى أَبُو بَكْرٍ قِتَالَ مَنْ مَنَعَ الزَّكَاةَ، فَقَالَ عُمَرُ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَابَعَهُ بَعْدُ عُمَرُ فَلَمْ يَلْتَفِتْ أَبُو بَكْرٍ إِلَى مَشُورَةٍ إِذْ كَانَ عِنْدَهُ حُكْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِينَ فَرَّقُوا بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَأَرَادُوا تَبْدِيلَ الدِّينِ وَأَحْكَامِهِ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ وَكَانَ الْقُرَّاءُ أَصْحَابَ مَشُورَةِ عُمَرَ كُهُولًا كَانُوا أَوْ شُبَّانًا، وَكَانَ وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
اور یہ بھی بیان ہے کہ مشورہ ایک کام کا مصمم عزم اور اس کے بیان کر دینے سے پہلے لینا چاہئیے جیسے فرمایا «فإذا عزمت فتوكل على الله» ”پھر جب ایک بات ٹھہرا لے (یعنی صلاح و مشورہ کے بعد) تو اللہ پر بھروسہ کر (اس کو کر گزر)“ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مشورے کے بعد ایک کام ٹھہرا لیں اب کسی آدمی کو اللہ اور اس کے رسول کے آگے بڑھنا درست نہیں (یعنی دوسری رائے دینا) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد میں اپنے اصحاب سے مشورہ لیا کہ مدینہ ہی میں رہ کر لڑیں یا باہر نکل کر۔ جب آپ نے زرہ پہن لی اور باہر نکل کر لڑنا ٹھہرا لیا، اب بعض لوگ کہنے لگے مدینہ ہی میں رہنا اچھا ہے۔ آپ نے ان کے قول کی طرف التفاف نہیں کیا کیونکہ (مشورے کے بعد) آپ ایک بات ٹھہرا چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب پیغمبر (لڑائی پر مستعد ہو کر) اپنی زرہ پہن لے (ہتھیار وغیرہ باندھ کر لیس ہو جائے) اب بغیر اللہ کے حکم کے اس کو اتار نہیں سکتا (اس حدیث کو طبرانی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وصل کیا)۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مشورہ کیا، عائشہ رضی اللہ عنہا پر جو بہتان لگایا گیا تھا اس مقدمہ میں، اور ان کی رائے سنی یہاں تک کہ قرآن اترا اور آپ نے تہمت لگانے والوں کو کوڑے مارے اور علی اور اسامہ رضی اللہ عنہما میں جو اختلاف رائے تھا اس پر کچھ التفات نہیں کیا (علی رضی اللہ عنہ کی رائے اوپر گزری ہے) بلکہ آپ نے اللہ کے ارشاد کے موافق حکم دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جتنے امام اور خلیفہ ہوئے وہ ایماندار لوگوں سے اور عالموں سے مباح کاموں میں مشورہ لیا کرتے تاکہ جو کام آسان ہو اس کو اختیار کریں پھر جب ان کو قرآن اور حدیث کا حکم مل جاتا تو اس کے خلاف کسی کی نہ سنتے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سب پر مقدم ہے اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے جو زکوٰۃ نہیں دیتے تھے لڑنا مناسب سمجھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تم ان لوگوں سے کیسے لڑو گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا کہ مجھ کو لوگوں سے لڑنے کا حکم ہوا یہاں تک کہ وہ لا الہٰ الا اللہ کہیں جب انہوں نے لا الہٰ الا اللہ کہہ لیا تو اپنی جانوں اور مالوں کو مجھ سے بچا لیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا، میں تو ان لوگوں سے ضرور لڑوں گا جو ان فرضوں کو جدا کریں جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یکساں رکھا۔ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کی وہی رائے ہو گئی، غرض ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کے مشورے پر کچھ التفاف نہ کیا ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم موجود تھا جو لوگ نماز اور زکوۃٰ میں فرق کریں، دین کے احکام اور ارکان کو بدل ڈالیں ان سے لڑنا چاہئیے (وہ کافر ہو گئے) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنا دین بدل ڈالے (اسلام سے پھر جائے) اس کو مار ڈالو اور عمر رضی اللہ عنہ کے مشورے میں وہی صحابہ شریک رہتے جو قرآن کے قاری تھے (یعنی عالم لوگ) جوان ہوں یا بوڑھے اور عمر رضی اللہ عنہ جہاں اللہ کی کتاب کا کوئی حکم سنتے بس ٹھہر جاتے اس کے موافق عمل کرتے اس کے خلاف کسی کا مشورہ نہ سنتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: Q7369]
حدیث نمبر: 7369
حَدَّثَنَا الْأُوَيْسِيُّ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، حِينَ قَال لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا؟، قَالَتْ:" وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ يَسْأَلُهُمَا وَهُوَ يَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ، فَأَمَّا أُسَامَةُ فَأَشَارَ بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ وَأَمَّا عَلِيٌّ، فَقَالَ: لَمْ يُضَيِّقْ اللَّهُ عَلَيْكَ وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ وَسَلِ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْكَ، فَقَالَ: هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَيْءٍ يَرِيبُكِ؟، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَمْرًا أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا، فَتَأْتِي الدَّاجِنُ، فَتَأْكُلُهُ، فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ بَلَغَنِي أَذَاهُ فِي أَهْلِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا، فَذَكَرَ بَرَاءَةَ عَائِشَةَ"، وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے، کہا کہ مجھ سے عروہ بن مسیب اور علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جب تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بلایا کیونکہ اس معاملہ میں وحی اس وقت تک نہیں آئی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اہل خانہ کو جدا کرنے کے سلسلہ میں ان سے مشورہ لینا چاہتے تھے تو اسامہ رضی اللہ عنہ نے وہی مشورہ دیا جو انہیں معلوم تھا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل خانہ کی برات کا لیکن علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی پابندی تو عائد نہیں کی ہے اور اس کے سوا اور بہت سی عورتیں ہیں، باندی سے آپ دریافت فرما لیں، وہ آپ سے صحیح بات بتا دے گی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نے کوئی ایسی بات دیکھی ہے جس سے شبہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا کہ وہ کم عمر لڑکی ہیں، آٹا گوندھ کر بھی سو جاتی ہیں اور پڑوس کی بکری آ کر اسے کھا جاتی ہے، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا، اے مسلمانو! میرے معاملے میں اس سے کون نمٹے گا جس کی اذیتیں اب میرے اہل خانہ تک پہنچ گئی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں نے ان کے بارے میں بھلائی کے سوا اور کچھ نہیں جانا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کا قصہ بیان کیا اور ابواسامہ نے ہشام بن عروہ سے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7369]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بلایا، اس وقت واقعہ افک کے متعلق کوئی وحی نہیں آئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے پوچھا اور اپنے اہل خانہ کو جدا کرنے کے سلسلے میں ان حضرات سے مشورہ لینا چاہا تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے وہی مشورہ دیا جو انہیں معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ اس تہمت سے بری ہیں، لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی پابندی تو عائد نہیں کی، ان کے علاوہ عورتیں بہت ہیں، آپ اس سلسلے میں لونڈی (بریرہ رضی اللہ عنہا) سے دریافت کر لیں وہ آپ سے سچی بات کرے گی۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے کوئی ایسی بات دیکھی ہے جس سے تجھے کوئی شبہ پیدا ہوتا ہو؟“ اس (حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: ”میں نے اس سے زیادہ کوئی شے نہیں دیکھی کہ وہ ایک کم عمر لڑکی ہے، اپنے گھر والوں کا آٹا گوندھ کر سو جاتی ہے تو بکری آ کر کھا جاتی ہے (یعنی کم عمری کی وجہ سے مزاج میں بے پروائی ہے)۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے مسلمانو! وہ کون ہے جو مجھے اس شخص کو سزا دینے میں معذور خیال کرے جس نے مجھے میری بیوی کے بارے میں تکلیف پہنچائی ہے؟ اللہ کی قسم! مجھے اپنی اہلیہ محترمہ کے متعلق خیر کے علاوہ کچھ معلوم نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءت ذکر فرمائی۔ اس واقعے کو ابو اسامہ نے ہشام بن عروہ سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7369]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7370
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ الْغَسَّانِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: مَا تُشِيرُونَ عَلَيَّ فِي قَوْمٍ يَسُبُّونَ أَهْلِي مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ سُوءٍ قَطُّ، وَعَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: لَمَّا أُخْبِرَتْ عَائِشَةُ بِالْأَمْرِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَنْطَلِقَ إِلَى أَهْلِي، فَأَذِنَ لَهَا وَأَرْسَلَ مَعَهَا الْغُلَامَ، وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ.
ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن زکریا نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے عروہ اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب کیا اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”تم مجھے ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دیتے ہو جو میرے اہل خانہ کو بدنام کرتے ہیں حالانکہ ان کے بارے میں مجھے کوئی بری بات کبھی نہیں معلوم ہوئی۔ عروہ سے روایت ہے، انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب اس واقعہ کا علم ہوا (کہ کچھ لوگ انہیں بدنام کر رہے ہیں) تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! کیا مجھے آپ اپنے والد کے گھر جانے کی اجازت دیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور ان کے ساتھ غلام کو بھیجا۔ انصار میں سے ایک صاحب ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا «سبحانك ما يكون لنا أن نتكلم بهذا، سبحانك هذا بهتان عظيم.» ”تیری ذات پاک ہے، اے اللہ! ہمارے لیے مناسب نہیں کہ ہم اس طرح کی باتیں کریں تیری ذات پاک ہے، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7370]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”تم مجھے ان لوگوں کے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہو جو میرے اہل خانہ کو بدنام کرتے ہیں، حالانکہ مجھے ان کے متعلق کبھی کوئی بری بات معلوم نہیں ہوئی؟“ حضرت عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس واقعے کا علم ہوا تو انہوں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے میکے چلی جاؤں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور ان کے ہمراہ ایک غلام بھیجا۔ انصار میں سے ایک صاحب نے کہا: ﴿مَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّتَكَلَّمَ بِهَٰذَا سُبْحَانَكَ هَٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة النور: 16] ”اے اللہ تیری ذات پاک ہے ہمارے لیے زیبا نہیں کہ ہم ایسی باتیں زبان پر لائیں۔ تیری ذات پاک ہے یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7370]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة