صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ الْحُجَّةِ عَلَى مَنْ قَالَ إِنَّ أَحْكَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ ظَاهِرَةً:
باب: اس شخص کا رد جو یہ سمجھتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام ہر ایک صحابی کو معلوم رہتے تھے۔
حدیث نمبر: 7354
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنَ الْأَعْرَجِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ، وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمُ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ، فَشَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، وَقَالَ:" مَنْ يَبْسُطْ رِدَاءَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي، ثُمَّ يَقْبِضْهُ فَلَنْ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي، فَبَسَطْتُ بُرْدَةً كَانَتْ عَلَيَّ، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا، مجھ سے زہری نے، انہوں نے اعرج سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ تم سمجھتے ہو کہ ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات زیادہ حدیث بیان کرتے ہیں، اللہ کے حضور میں سب کو جانا ہے۔ بات یہ تھی کہ میں ایک مسکین شخص تھا اور پیٹ بھرنے کے بعد ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتا تھا لیکن مہاجرین کو بازار کے کاروبار مشغول رکھتے تھے اور انصار کو اپنے مالوں کی دیکھ بھال مصروف رکھتی تھی۔ میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون اپنی چادر پھیلائے گا، یہاں تک کہ میں اپنی بات پوری کر لوں اور پھر وہ اپنی چادر سمیٹ لے اور اس کے بعد کبھی مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات نہ بھولے۔ چنانچہ میں نے اپنی چادر جو میرے جسم پر تھی، پھیلا دی اور اس ذات کی قسم جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا تھا پھر کبھی میں آپ کی کوئی حدیث جو آپ سے سنی تھی، نہیں بھولا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7354]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”تم خیال کرتے ہو کہ ابوہریرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت احادیث بیان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے حضور سب نے جانا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ میں ایک مسکین شخص تھا اور پیٹ بھرنے کے بعد ہر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا کرتا تھا، جبکہ مہاجرین کو بازار کے کاروبار مشغول رکھتے تھے اور انصار کو اپنی زمینوں کی دیکھ بھال مصروف رکھتی تھی۔ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو اپنی چادر پھیلائے رکھے یہاں تک کہ میں اپنا کلام پورا کر لوں، پھر وہ اپنی چادر سمیٹ لے اور اس کے بعد کبھی مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات نہ بھولے۔“ تو میں نے اپنے بدن کی چادر پھیلا دی۔ اللہ کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! اس کے بعد میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو چیز بھی سنی اس کو نہیں بھولا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7354]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
23. بَابُ مَنْ رَأَى تَرْكَ النَّكِيرِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّةً لاَ مِنْ غَيْرِ الرَّسُولِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات کہی جائے اور آپ اس پر انکار نہ کریں جسے تقریر کہتے ہیں تو یہ حجت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی کی تقریر پر حجت نہیں۔
حدیث نمبر: 7355
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ:" رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ الصَّائِدِ الدَّجَّالُ، قُلْتُ: تَحْلِفُ بِاللَّهِ؟، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْكِرْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے حماد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے، کہا ہم سے ہمارے والد معاذ بن حسان نے بیان کیا، ان سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ ابن صیاد کے واقعہ پر اللہ کی قسم کھاتے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ اللہ کی قسم کھاتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کی قسم کھاتے دیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی انکار نہیں فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7355]
محمد بن منکدر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ اللہ کی قسم اٹھا کر کہتے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے۔“ میں نے ان سے کہا: ”آپ اس بات پر اللہ کی قسم کیوں اٹھاتے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بات پر قسم اٹھاتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا انکار نہیں کیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7355]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
24. بَابُ الأَحْكَامِ الَّتِي تُعْرَفُ بِالدَّلاَئِلِ، وَكَيْفَ مَعْنَى الدِّلاَلَةِ وَتَفْسِيرِهَا:
باب: دلائل شرعیہ سے احکام کا نکالا جانا اور دلالت کے معنی اور اس کی تفسیر کیا ہو گی؟
حدیث نمبر: Q7356
وَقَدْ أَخْبَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَ الْخَيْلِ وَغَيْرِهَا، ثُمَّ سُئِلَ عَنِ الْحُمُرِ فَدَلَّهُمْ عَلَى قَوْلِهِ تَعَالَى: فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ سورة الزلزلة آية 7 وَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ، فَقَالَ: لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ، وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضَّبُّ فَاسْتَدَلَّ ابْنُ عَبَّاسٍ بِأَنَّهُ لَيْسَ بِحَرَامٍ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے وغیرہ کے احکام بیان کئے پھر آپ سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت بیان فرمائی «فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره» کہ ”جو ایک ذرہ برابر بھی بھلائی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ساہنہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں خود اسے نہیں کھاتا اور (دوسروں کے لیے) اسے حرام بھی نہیں قرار دیتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر ساہنہ کھایا گیا اور اس سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے استدلال کیا کہ وہ حرام نہیں ہے (یہ بھی دلالت کی مثال ہے یہ حدیث آگے آ رہی ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: Q7356]
حدیث نمبر: 7356
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْخَيْلُ لِثَلَاثَةٍ: لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَ لَهُ حَسَنَاتٍ وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا، فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ، فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَ بِهِ كَانَ ذَلِكَ حَسَنَاتٍ لَهُ، وَهِيَ لِذَلِكَ الرَّجُلِ أَجْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا وَلَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَلَا ظُهُورِهَا فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَاءً فَهِيَ عَلَى ذَلِكَ وِزْرٌ، وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحُمُرِ؟، قَالَ: مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ فِيهَا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْفَاذَّةَ الْجَامِعَةَ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ {7} وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ {8} سورة الزلزلة آية 7-8.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ابی صالح السمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گھوڑے تین طرح کے لوگوں کے لیے ہیں۔ ایک شخص کے لیے ان کا رکھنا کار ثواب ہے، دوسرے کے لیے برابر برابر نہ عذاب نہ ثواب اور تیسرے کے لیے وبال جان ہیں۔ جس کے لیے وہ اجر ہیں یہ وہ شخص ہے جس نے اسے اللہ کے راستے کے لیے باندھ کر رکھا اور اس کی رسی چراہ گاہ میں دراز کر دی تو وہ گھوڑا جتنی دور تک چراہ گاہ میں گھوم کر چرے گا وہ مالک کی نیکیوں میں ترقی کا ذریعہ ہو گا اور اگر گھوڑے نے اس دراز رسی کو بھی تڑوا لیا اور ایک یا دو دوڑ اس نے لگائی تو اس کے نشانات قدم اور اس کی لید بھی مالک کے لیے باعث اجر و ثواب ہو گی اور اگر گھوڑا کسی نہر سے گزرا اور اس نے نہر کا پانی پی لیا، مالک نے اسے پلانے کا کوئی ارادہ نہیں کیا تھا تب بھی مالک کے لیے یہ اجر کا باعث ہو گا اور ایسا گھوڑا اپنے مالک کے لیے ثواب ہوتا ہے اور دوسرا شخص برابر برابر والا ہوتا ہے جو گھوڑے کو اظہار بے نیازی یا اپنے بچاؤ کی غرض سے باندھتا ہے اور اس کی پشت اور گردن پر اللہ کے حق کو بھی نہیں بھولتا تو یہ گھوڑا اس کے لیے نہ عذاب ہے نہ ثواب اور تیسرا وہ شخص ہے جو گھوڑے کو فخر اور ریا کے لیے باندھتا ہے تو یہ اس کے لیے وبال جان ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں مجھ پر اس جامع اور نادر آیت کے سوا اور کچھ نہیں نازل فرمایا ہے «فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره» ”پس جو کوئی ایک ذرہ برابر بھی بھلائی کرے گا وہ اسے دیکھے گا اور جو کوئی ایک ذرہ برابر بھی برائی کرے گا وہ اسے دیکھے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7356]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑے تین طرح کے لوگوں کے لیے ہیں: ایک شخص کے لیے ان کا رکھنا باعثِ ثواب ہے، دوسرے کے لیے پردہ پوشی کا سبب اور تیسرے کے لیے وبالِ جان ہیں۔ جس کے لیے وہ اجر کا باعث ہیں، یہ وہ شخص ہے جس نے اسے اللہ کے راستے میں باندھے رکھا اور اس کی رسی کو چراگاہ میں دراز کر دیا، وہ گھوڑا جس قدر چراگاہ میں گھوم پھر کر چارہ کھائے گا وہ اس کے لیے نیکیاں ہوں گی۔ وہ ایک یا دو بلندیاں دوڑ جائے تو اس کے قدموں کے نشانات اور اس کی لید بھی مالک کے لیے باعثِ اجر و ثواب ہو گا۔ اور اگر وہ نہر کے پاس سے گزرے اور اس سے پانی پی لے، جبکہ مالک نے اسے پانی پلانے کا کوئی ارادہ بھی نہیں کیا تھا، تب بھی مالک کے لیے اجر و ثواب کا موجب ہو گا۔ اور جس نے اپنے گھوڑے کا اظہارِ بے نیازی یا اپنے بچاؤ کی غرض سے باندھا، پھر اس کی گردن اور پیٹھ کے متعلق اللہ کے حق کو بھی فراموش نہ کیا تو یہ گھوڑا اس کے لیے پردہ پوشی، یعنی اس کے لیے نہ ثواب نہ عذاب کا باعث ہو گا۔ تیسرا وہ شخص جو اپنے گھوڑے کو فخر و ریا کے لیے باندھتا ہے، وہ اس کے لیے گناہ کا سبب ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اس جامع اور نادر آیت کے علاوہ کچھ نازل نہیں فرمایا ہے: ﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [سورة الزلزلة: 7-8] ”جو کوئی ذرہ بھر بھلائی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔““ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7356]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7357
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنُ شَيْبَةَ، حَدَّثَتْنِي أُمِّي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَيْضِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ مِنْهُ؟، قَالَ: تَأْخُذِينَ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، فَتَوَضَّئِينَ بِهَا، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَوَضَّئِي، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَوَضَّئِينَ بِهَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَعَرَفْتُ الَّذِي يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَذَبْتُهَا إِلَيَّ فَعَلَّمْتُهَا".
ہم سے یحییٰ بن جعفر بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے منصور بن صفیہ نے، ان سے کی والدہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک خاتون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے محمد نے بیان کیا یعنی ابن عقبہ نے، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان النمیری نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن بن شیبہ نے بیان کیا، ان سے ان کی والدہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے متعلق پوچھا کہ اس سے غسل کس طرح کیا جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشک لگا ہوا ایک کپڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کر۔ اس عورت نے پوچھا: یا رسول اللہ! میں اس سے پاکی کس طرح حاصل کروں گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پاکی حاصل کرو۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ کس طرح پاکی حاصل کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا کہ پاکی حاصل کرو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا سمجھ گئی اور اس عورت کو میں نے اپنی طرف کھینچ لیا اور انہیں طریقہ بتایا کہ پاکی سے آپ کا مطلب یہ ہے کہ اس کپڑے کو خون کے مقاموں پر پھیر تاکہ خون کی بدبو رفع ہو جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7357]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض سے متعلق سوال کیا کہ وہ اس سے (فراغت کے بعد) غسل کیسے کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشک لگا ہوا روئی کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کر۔“ اس نے عرض کی: اللہ کے رسول! اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے پاکی حاصل کر۔“ اس نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں اس سے پاکی کیسے حاصل کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے پاکی حاصل کر۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشا کو معلوم کر لیا اس لیے میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے وہ طریقہ سکھا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7357]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7358
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ أُمَّ حُفَيْدٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ حَزْنٍ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا، فَدَعَا بِهِنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُكِلْنَ عَلَى مَائِدَتِهِ، فَتَرَكَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَالْمُتَقَذِّرِ لَهُنَّ، وَلَوْ كُنَّ حَرَامًا مَا أُكِلْنَ عَلَى مَائِدَتِهِ وَلَا أَمَرَ بِأَكْلِهِنَّ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ام حفید بنت حارث بن حزن رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھی اور پنیر اور بھنا ہوا سانڈا ہدیہ میں بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چیزیں قبول فرما لیں اور آپ کے دستر خوان پر انہیں کھایا گیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (سانڈے کو) ہاتھ نہیں لگایا، جیسے آپ کو پسند نہ ہو اور اگر وہ حرام ہوتا تو آپ کے دستر خوان پر نہ کھایا جاتا اور نہ آپ کھانے کے لیے کہتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7358]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ام حفید بنت حزن رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گھی، پنیر اور سانڈے بطور تحفہ پیش کیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبول فرما لیا۔ پھر آپ کے دستر خوان پر انہیں کھایا گیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سانڈے کو ہاتھ نہیں لگایا جیسے آپ کو وہ پسند نہ ہو۔ اگر وہ حرام ہوتا تو آپ کے دستر خوان پر نہ کھایا جاتا اور نہ آپ کسی دوسرے کو اسے کھانے کا حکم ہی دیتے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7358]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7359
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزِلْنَا، أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ وَإِنَّهُ أُتِيَ بِبَدْرٍ"، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: يَعْنِي: طَبَقًا فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ، فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا، فَسَأَلَ عَنْهَا؟، فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ، فَقَالَ: قَرِّبُوهَا، فَقَرَّبُوهَا إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ كَانَ مَعَهُ، فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا، قَالَ: كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِي، وَقَالَ ابْنُ عُفَيْرٍ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّيْثُ وَأَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ قِصَّةَ الْقِدْرِ فَلَا أَدْرِي هُوَ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ أَوْ فِي الْحَدِيثِ.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا مجھے یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے کہا کہ مجھ کو عطاء بن ابی رباح نے خبر دی، انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص کچی لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے دور رہے یا (یہ فرمایا کہ) ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے (یہاں تک کہ وہ بو رفع ہو جائے) اور آپ کے پاس ایک طباق لایا گیا جس میں سبزیاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بو محسوس کی، پھر آپ کو اس میں رکھی ہوئی سبزیوں کے متعلق بتایا گیا تو آپ نے اپنے بعض صحابی کی طرف جو آپ کے ساتھ تھے اشارہ کر کے فرمایا کہ ان کے پاس لے جاؤ لیکن جب ان صحابی نے اسے دیکھا تو انہوں نے بھی اسے کھانا پسند نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان سے فرمایا کہ تم کھا لو کیونکہ میں جس سے سرگوشی کرتا ہوں تم اس سے نہیں کرتے۔ (آپ کی مراد فرشتوں سے تھی) سعید بن کثیر بن عفیر نے جو امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ ہیں، عبداللہ بن وہب سے اس حدیث میں یوں روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہانڈی لائی گئی جس میں ترکاریاں تھیں اور لیث و ابوصفوان عبداللہ بن سعید اموی نے بھی اس حدیث کو یونس سے روایت کیا لیکن انہوں نے ہانڈی کا قصہ نہیں بیان کیا، اب میں نہیں جانتا کہ ہانڈی کا قصہ حدیث میں داخل ہے یا زہری نے بڑھا دیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7359]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے علیحدہ رہے۔۔۔۔۔ یا فرمایا: وہ ہماری مسجد سے الگ تھلگ رہے۔۔۔۔۔۔ اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے۔“ اس دوران میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھال لایا گیا جس میں ترکاریاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بو محسوس کی تو ان کے متعلق پوچھا، آپ کو اس میں رکھی ہوئی سبزیوں کے متعلق بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے صحابی کے قریب کیا گیا تو انہوں نے دیکھتے ہی انہیں کھانا پسند نہ کیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ناگواری دیکھی تو فرمایا: ”تم اسے کھا لو کیونکہ میں جس سے سرگوشی کرتا ہوں تم اس سے نہیں کرتے۔“ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہنڈیا لائی گئی جس میں ترکاریاں تھیں، لیث اور ابو صفوان نے یونس سے (یہ روایت بیان کی لیکن) ہنڈیا کا قصہ بیان نہیں کیا، اب میں نہیں جانتا کہ ہنڈیا کا ذکر حدیث کا حصہ ہے یا امام زہری رحمہ اللہ نے اپنی طرف سے بڑھا دیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7359]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7360
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَعَمِّي، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ،" أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ، فَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ، فَقَالَتْ: أَرَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ أَجِدْكَ؟، قَالَ: إِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ"، زَادَ لَنَا الْحُمَيْدِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ كَأَنَّهَا تَعْنِي الْمَوْتَ.
مجھ سے عبیداللہ بن سعد بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد اور چچا نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے، انہیں محمد بن جبیر نے خبر دی اور انہیں ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک حکم دیا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں آپ کو نہ پاؤں تو پھر کیا کروں گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مجھے نہ پانا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جانا۔ حمیدی نے ابراہیم بن سعد سے یہ اضافہ کیا کہ غالباً خاتون کی مراد وفات تھی۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ حمیدی نے اس روایت میں ابراہیم بن سعد سے اتنا بڑھایا ہے کہ آپ کو نہ پاؤں، اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کی وفات ہو جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7360]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ انصار قبیلے کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کسی چیز کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی حکم دیا تو اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اگر میں آپ کو نہ پاؤں تو کیا کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو مجھے نہ پائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ جانا۔“ حمیدی نے ابراہیم بن سعد سے یہ بیان کیا ہے کہ اس خاتون کی مراد گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7360]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
25. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ”اہل کتاب سے دین کی کوئی بات نہ پوچھو“۔
حدیث نمبر: 7361
وَقَالَ أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يُحَدِّثُ رَهْطًا مِنْ قُرَيْشٍ بِالْمَدِينَةِ وَذَكَرَ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ مِنْ أَصْدَقِ هَؤُلَاءِ الْمُحَدِّثِينَ الَّذِينَ يُحَدِّثُونَ عَنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَإِنْ كُنَّا مَعَ ذَلِكَ لَنَبْلُو عَلَيْهِ الْكَذِبَ.
ابوالیمان امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ نے بیان کیا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ مدینے میں قریش کی ایک جماعت سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار کا ذکر کیا اور فرمایا جتنے لوگ اہل کتاب سے احادیث نقل کرتے ہیں ان سب میں کعب احبار بہت سچے تھے اور باوجود اس کے کبھی کبھی ان کی بات جھوٹ نکلتی تھی، یہ مطلب نہیں ہے کہ کعب احبار جھوٹ بولتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7361]
حمید بن عبدالرحمن سے روایت ہے، انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے سنا جبکہ وہ مدینہ طیبہ میں قریش کی ایک جماعت سے گفتگو کر رہے تھے، انہوں نے کعب احبار کا ذکر کیا اور فرمایا: ”وہ اہل کتاب کے محدثین میں سب سے زیادہ سچے تھے جو اہل کتاب سے روایت کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم ان کے کلام میں جھوٹ پاتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7361]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7362
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ وَيُفَسِّرُونَهَا بِالْعَرَبِيَّةِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ وَقُولُوا: آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو علی بن المبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اہل کتاب توریت عبرانی زبان میں پڑھتے تھے اور اس کی تفسیر مسلمانوں کے لیے عربی میں کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ ان کی تکذیب کرو کیونکہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہم پر نازل ہوا اور جو ہم سے پہلے تم پر نازل ہوا آخر آیت تک جو سورۃ البقرہ میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7362]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: اہل کتاب عبرانی زبان میں تورات پڑھتے تھے اور مسلمانوں کے لیے عربی زبان میں اس کی تفسیر کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نہ تو اہل کتاب کی تصدیق کرو اور نہ ان کی تکذیب ہی کرو بلکہ یوں کہو: ﴿آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ﴾ [سورة العنكبوت: 46] ”ہم اس چیز پر ایمان لائے جو ہماری طرف نازل کی گئی اور جو تمہاری طرف نازل کی گئی۔“” [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7362]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة