🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (الْمَدْحُ عَلَى الْوَجْهِ بِمَنْزِلَةِ قَطْعِ الرَّقَبَةِ)
منھ پر تعریف گردن کاٹنے کے برابر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4828
4828 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"أَتُدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ  ؟"قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ:"ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ". قِيلَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟ قَالَ:"إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَّهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ:"إِذَا قُلْتَ لِأَخِيكَ مَا فِيهِ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِذَا قُلْتَ مَا لَيْسَ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تیرا اپنے بھائی کو ان الفاظ سے یاد کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔“ عرض کیا گیا: آپ مجھے بتائیں کہ جو بات میں کر رہا ہوں وہ میرے بھائی میں موجود ہو تو پھر؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اگر تو وہ چیز اس میں ہے جو تم کہہ رہے ہو تو پھر تم نے اس کی غیبت کی، اور جب تم نے ایسی بات کی جو اس میں نہیں تو پھر تم نے اس پر بہتان لگایا۔“ ایک دوسری روایت میں ہے: ”جب تم نے اپنے بھائی کے متعلق ایسی بات کی جو اس میں ہے تو تم نے اس کی غیبت کی، اور جب تم نے ایسی بات کی جو اس میں نہیں ہے تو پھر تم نے اس پر بہتان بازی کی۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4828]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2589/70)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَا هِيَ الْغِيبَةُ؟)
غیبت کیا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4829
4829 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: ائْذَنُوا لَهُ، فَبِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ"فَلَمَّا جَلَسَ تَطَلَّقَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَجْهِهِ وَانْبَسَطَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا انْطَلَقَ الرَّجُلُ قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُلْتَ لَهُ: كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ تَطَلَّقْتَ فِي وَجْهِهِ، وَانْبَسَطْتَ إِلَيْهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَتَى عَاهَدْتِنِي فَحَّاشًا؟ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ  مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ"، وَفِي رِوَايَةٍ:"اتِّقَاءَ فُحْشِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اسے اجازت دے دو، وہ اپنی قوم کا کتنا برا شخص ہے!“ جب وہ بیٹھ گیا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے چہرے پر خوشی کا اظہار فرمایا اور اس کے لیے تبسم فرمایا، جب وہ آدمی چلا گیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کے متعلق اس طرح اس طرح کہا، پھر (اس کے آنے پر) آپ نے اپنے چہرے پر خوشی کا اظہار فرمایا اور اس کے لیے تبسم فرمایا۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تم نے مجھے کب فحش گو پایا؟ یقیناً قیامت کے دن اللہ کے ہاں مقام و مرتبہ کے لحاظ سے بدترین وہ شخص ہو گا جس کے شر سے بچنے کے لیے لوگ اسے چھوڑ دیں۔“ ایک دوسری روایت میں ہے: ”اس کی فحش گوئی سے بچنے کے لیے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4829]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6032. 6054) و مسلم (2591/73)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَخْلَاقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
اخلاقِ نبوی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4830
4830 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرُونَ  ، وَإِنَّ مِنَ الْمَجَانَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ عَمَلًا بِاللَّيْلِ ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللَّهُ فَيَقُولَ يَا فُلَانُ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ:"مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ"فِي بَابِ الضِّيَافَةِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میری ساری امت کے گناہ قابل معافی ہیں، مگر وہ لوگ جو اعلانیہ گناہ کرتے ہیں، اور اعلانیہ گناہ کرنا یہ ہے کہ آدمی رات کے وقت کوئی (گناہ کا) عمل کرے، پھر صبح ہونے پر کہتا پھرے: اے فلاں! میں نے رات کو اس طرح اس طرح کیا تھا، حالانکہ اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی ہوئی تھی، اور اس نے رات اس طرح بسر کی کہ اس کے رب نے اسے چھپا رکھا تھا اور جب صبح کرتا ہے تو اپنے اوپر سے اللہ کے پردے کو اٹھا دیتا ہے۔“ متفق علیہ۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث: ”جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو۔“ باب الضیافۃ میں ذکر کی گئی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4830]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6069) و مسلم (2990/52)
حديث أبي ھريرة رضي الله عنه: من کان يؤمن بالله تقدم (4243)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْإِعْلَانُ بِالذَّنْبِ وَالْعَيْبِ كَبِيرَةٌ)
اعلانیہ گناہ اور عیب جوئی کبیرہ گناہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4831
الْفَصْلُ الثَّانِي 4831 - عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ  وَهُوَ بَاطِلٌ بُنِيَ لَهُ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ تَرَكَ وَهُوَ مُحِقٌّ بُنِيَ لَهُ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ بُنِيَ لَهُ فِي أَعْلَاهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَكَذَا فِي"شَرْحِ السُّنَّةِ". وَفِي"الْمَصَابِيحِ". قَالَ: غَرِيبٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑ دیتا ہے درآنحالیکہ وہ باطل پر تھا، اس کے لیے جنت کے کنارے پر ایک گھر بنا دیا جاتا ہے، اور جس نے حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا ترک کر دیا تو اس کے لیے جنت کے وسط میں گھر بنا دیا جاتا ہے، اور جس نے اپنا اخلاق سنوار لیا، اس کے لیے اس میں بلند جگہ پر گھر بنا دیا جاتا ہے۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو بیان کیا ہے اور اسے حسن کہا ہے، اور اسی طرح شرح السنہ اور مصابیح میں ہے، فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ «سَنَدُهُ ضَعِيفٌ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4831]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (1993) و البغوي في شرح السنة (82/13 ح 3502) وذکره في مصابيح السنة (322/3. 323 ح 3760) [و رواه ابن ماجه (51) ]
٭ سلمة بن وردان ضعيف و حديث أبي داود (4800) يغني عنه .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَجْرُ تَرْكِ الْكَذِبِ وَعَدَمِ الْخِصَامِ وَالْفَسَادِ)
جھوٹ ترک کرنے اور جھگڑا فساد نہ کرنے کا اجر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4832
4832 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَتُدْرُونَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ؟ تَقْوَى اللَّهِ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ  . أَتُدْرُونَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ؟ الْأَجْوَفَانِ: الْفَمُ وَالْفَرْجُ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ تر لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی؟ (پھر فرمایا) اللہ کا تقویٰ اور حسنِ خلق، کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ تر لوگوں کو جہنم میں داخل کرے گی؟ (پھر فرمایا) دو چیزیں، منہ اور شرم گاہ۔“ اس کی سند صحیح ہے، اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4832]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (2004 وقال: صحيح غريب) و ابن ماجه (4246)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْأَعْمَالُ الَّتِي تُدْخِلُ الْجَنَّةَ)
جنت میں لے جانے والے اعمال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4833
4833 - وَعَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنَ الْخَيْرِ  مَا يَعْلَمُ مَبْلَغَهَا يَكْتُبُ اللَّهُ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ. وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنَ الشَّرِّ  مَا يَعْلَمُ مَبْلَغَهَا يَكْتُبُ اللَّهُ بِهَا عَلَيْهِ سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ". رَوَاهُ"فِي شَرْحِ السُّنَّةِ". وَرَوَى مَالِكٌ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ نَحْوَهُ.
بلال بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بے شک آدمی بھلائی کی بات کرتا ہے اور وہ اس کی قدر و منزلت سے آگاہ نہیں ہوتا جس کے بدلہ میں اللہ اس شخص کے لیے روزِ قیامت تک اپنی رضا لکھ دیتا ہے، اور بے شک آدمی کوئی بُری بات کر دیتا ہے اور وہ اس کی بھی اہمیت نہیں جانتا تو اس کی وجہ سے اللہ روزِ قیامت تک کے لیے اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے۔“ شرح السنہ۔ اور امام مالک، ترمذی اور ابن ماجہ نے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔ «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَمَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4833]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه البغوي في شرح السنة (315/14 ح 4125) و مالک في الموطأ (985/2 ح 1914) و الترمذي (2319 وقال: حسن صحيح) و ابن ماجه (3969)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَلِمَةٌ سَيِّئَةٌ سَبَّبَتْ غَضَبًا)
ایک برا کلمہ ناراضگی کا سبب بنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4834
4834 - وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَيْلٌ لِمَنْ يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ  ، وَيْلٌ لَهُ، وَيْلٌ لَهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالدَّارِمِيُّ.
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جو بات کرتے وقت جھوٹ بولتا ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے لوگوں کو ہنسائے، تو اس کے لیے ہلاکت ہے، اس کے لیے ہلاکت ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ احمد والترمذی وابوداؤد والدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4834]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (3/5، 5، 7 ح 20333 وغيره) و الترمذي (2315 وقال: حسن) و أبو داود (4990) والدارمي (296/2 ح 2705)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْكَاذِبُ لِأَجْلِ إِضْحَاكِ النَّاسِ)
لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنے والا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4835
4835 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ الْعَبْدَ لَيَقُولُ الْكَلِمَةَ لَا يَقُولُهَا إِلَّا لِيُضْحِكَ بِهِ النَّاسَ  ، يَهْوِي بِهَا أَبْعَدَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَإِنَّهُ لَيَزِلُّ عَنْ لِسَانِهِ أَشَدَّ مِمَّا يَزِلُّ عَنْ قَدَمِهِ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بے شک بندہ محض لوگوں کو ہنسانے کے لیے بات کرتا ہے اور وہ اس کی وجہ سے زمین و آسمان کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ دور جہنم میں گر جاتا ہے، اور وہ اپنے پاؤں کی طرف سے پھسلنے سے اتنا نہیں پھسلتا جتنا کہ وہ زبان کے پھسلنے سے پھسلتا ہے۔“ اسنادہ ضعیف جدا، رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4835]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه البيھقي في شعب الإيمان (4832، نسخة محققة: 4492) [والبغوي في شرح السنة (319/14) واللفظ له]
٭ فيه يحيي بن عبيد الله التيمي: متروک، روي عن أبيه إلخ .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (السَّاقِطُ مِنْ مَسَافَةِ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ)
آسمان اور زمین کے فاصلے سے نیچے گرنے والا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4836
4836 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ صَمَتَ نَجَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جس نے خاموشی اختیار کی اس نے نجات پائی۔“ اسنادہ حسن، رواہ احمد والترمذی والدارمی والبیہقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4836]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (177/2 ح 6654) و الترمذي (2501) و الدارمي (299/2 ح 2716) والبيھقي في شعب الإيمان (4983)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (نَجَاةُ السَّاكِتِ)
خاموش رہنے والے کو نجات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4837
4837 - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: مَا النَّجَاةُ؟ فَقَالَ:"أَمْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ  ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ"رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملاقات کی اور میں نے عرض کیا: نجات کا باعث کیا چیز ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اپنی زبان پر قابو رکھ، تیرا گھر تیرے لیے کافی ہونا چاہیے، اور اپنی خطاؤں پر رویا کر۔“ ضعیف، رواہ احمد و الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4837]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه أحمد (259/5 ح 22590) و الترمذي (2406 وقال: حسن)
٭ علي بن يزيد: ضعيف جدًا و تلميذه عبيد الله بن زحر ضعيف و للحديث شواھد ضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں