🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (وَفَاءُ الوَعْدِ)
وعدہ پورا کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4880
4880 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْحَمْسَاءِ قَالَ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ، وَبَقِيَتْ لَهُ بَقِيَّةٌ، فَوَعَدْتُهُ أَنْ آتِيَهُ بِهَا فِي مَكَانِهِ، فَنَسِيتُ، فَذَكَرْتُ بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَإِذَا هُوَ فِي مَكَانِهِ، فَقَالَ:"لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَيَّ، أَنَا هَهُنَا مُنْذُ ثَلَاثٍ أَنْتَظِرُكَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبداللہ بن ابی حسماء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے، آپ کے اعلانِ نبوت سے پہلے کوئی چیز خریدی اور آپ کا کچھ بقایا میرے ذمے باقی رہ گیا تو میں نے آپ سے، وہ بقایا اسی جگہ لانے کا وعدہ کیا اور پھر میں بھول گیا، تین دن بعد مجھے یاد آیا (اور میں گیا) تو آپ اسی جگہ پر تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے مشقت میں مبتلا کر دیا، میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4880]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4996)
٭ فيه عبد الکريم بن عبد الله بن شقيق: مجھول .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حُكْمُ عَدَمِ الوُصُولِ إِلَى الوَعْدِ بِسَبَبِ الضَّرُورَةِ)
مجبوری میں وعدہ پر نہ پہنچ سکنے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4881
4881 - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ أَخَاهُ وَمِنْ نِيَّتِهِ أَنْ يَفِيَ لَهُ  ، فَلَمْ يَفِ وَلِمَ يَجِئْ لِلْمِيعَادِ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی وعدہ وفائی کی نیت سے اپنے بھائی سے کوئی وعدہ کر لیتا ہے لیکن اس سے وعدہ وفا نہیں ہوا اور نہ وہ وقت مقرر پر پہنچا تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4881]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4995) و الترمذي (2633 وقال: ليس إسناده بالقوي ... و أبو النعمان مجھول و أبو وقاص مجھول)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَدَمُ الكَذِبِ حَتَّى مَعَ الأَطْفَالِ)
بچوں سے بھی غلط بیانی نہ کی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4882
4882 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: دَعَتْنِي أُمِّي يَوْمًا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاعِدٌ فِي بَيْتِنَا، فَقَالَتْ: هَا تَعَالَ أُعْطِيكَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيهِ؟"قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أُعْطِيَهُ تَمْرًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِيهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذِبَةٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ".
عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز میری والدہ نے مجھے بلایا جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے، میری والدہ نے فرمایا: سنو! آؤ میں تمہیں کچھ دوں گی۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے اسے ایک کھجور دینے کا ارادہ کیا ہے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”سن لو! اگر تم اسے کوئی چیز نہ دیتیں تو تمہارے ذمے ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا۔“ (اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4882]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4991) و البيھقي في شعب الإيمان (4822)
٭ مولي عبد الله: مجھول .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حَقُّ اللهِ تَعَالَى مُقَدَّمٌ)
اللہ تعالیٰ کا حق مقدم ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4883
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 4883 - عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"مَنْ وَعَدَ رَجُلًا فَلَمْ يَأْتِ أَحَدُهُمَا إِلَى وَقْتِ الصَّلَاةِ، وَذَهَبَ الَّذِي جَاءَ لِيُصَلِّيَ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ". رَوَاهُ رَزِينٌ.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی آدمی سے وعدہ کیا، لیکن ان دونوں میں سے ایک وقتِ نماز تک نہ آیا جبکہ وہ شخص جو آ چکا تھا وہ نماز پڑھنے چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ ضعیف، رواہ رزین۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4883]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه رزين (لم أجده) [و ابن أبي حاتم في علل الحديث (274/2 ح 2321) و قال: في الإسناد مجھولان: أبو النعمان و أبو وقاص] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (طَبَاعٌ حَسَنَةٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الأَطْفَالِ)
بچوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش طبعی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4884
(12) بَابُ الْمُزَاحِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 4884 - عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: إِنْ كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ:"يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟"كَانَ لَهُ نُغَيْرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ  . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ساتھ تکلف نہیں برتتے تھے (گھل مل کر رہتے تھے) حتیٰ کہ آپ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے: ”ابوعمیر! چڑیا نے کیا کیا؟“ ابوعمیر کی ایک چڑیا تھی، وہ اس کے ساتھ کھیلا کرتا تھا، وہ مر گئی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4884]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6129) و مسلم (2150/30)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الاهْتِمَامُ بِقَوْلِ الصِّدْقِ فِي الهَزْلِ أَيْضًا)
ہنسی مذاق میں بھی سچ بولنے کا اہتمام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4885
الْفَصْلُ الثَّانِي 4885 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا. قَالَ:"إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ تو ہم سے خوش طبعی کر لیتے ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں حق بات ہی کہتا ہوں۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4885]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1990 وقال: حسن)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سَنُعْطِيكَ جَرْوَ النَّاقَةِ)
ہم تجھے اونٹنی کے بچّے دینگے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4886
4886 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَجُلًا اسْتَحْمَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي حَامِلُكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ، فَقَالَ: مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلُ إِلَّا النُّوقُ  ؟". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سواری طلب کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: «إِنِّي حَامِلُكَ عَلَى وَلَدِ النَّاقَةِ» ”میں تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کروں گا۔“ اس نے عرض کیا: میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: «وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ؟» ”اونٹنیاں ہی اونٹ کو جنم دیتی ہیں۔“ [اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی وابوداؤد] ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4886]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1991 وقال: صحيح غريب) و أبو داود (4998)
٭ حميد الطويل مدلس و عنعن .
تعديلات [4886] :
إسناده صحيح، رواه الترمذي (1991 وقال: صحيح غريب) و أبو داود (4998)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (يَا ذَا الأُذُنَيْنِ)
اے دو کانوں والے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4887
4887 - وَعَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ:"يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا: «يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ» ”اے دو کانوں والے!“ (صحیح، رواہ ابوداؤد والترمذی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4887]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (5007) و الترمذي (1991)
٭ حميد الطويل مدلس و عنعن و لحديثه شاھد حسن عند الطبراني في الکبير (240/1 ح 662)
تعديلات [4887] :
صحيح، رواه أبو داود (5007) و الترمذي (1991)
٭ و للحديث شاھد حسن عند الطبراني في الکبير (240/1 ح 662)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا تَدْخُلُ عَجُوزٌ الجَنَّةَ)
کوئی بڑھیا جنت میں نہیں جائے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4888
4888 - وَعَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِامْرَأَةٍ عَجُوزٍ:"إِنَّهُ لَا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَجُوزٌ". فَقَالَتْ: وَمَا لَهُنَّ؟ وَكَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ لَهَا:"أَمَا تَقْرَئِينَ الْقُرْآنَ؟ إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا، رَوَاهُ رَزِينٌ. وَفِي"شَرْحِ السُّنَّةِ"بِلَفْظِ"الْمَصَابِيحِ".
انس رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بڑھیا عورت سے فرمایا: ”کوئی بڑھیا جنت میں نہیں جائے گی۔“ اس (عورت) نے عرض کیا: ان کے لیے کیا (مانع) ہے؟ اور وہ قرآن پڑھتی تھی، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: ”کیا تم قرآن نہیں پڑھتی ہو؟ ﴿إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً * فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا﴾ [سورة الواقعة: 35-36] ”بے شک ہم نے ان (حوروں) کو ایک خاص طریقے پر پیدا کیا ہے، پھر ان کو کنوارا رکھا۔““ رزین۔ شرح السنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں۔ ضعیف، رواہ رزین وفِی شرح السنہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4888]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه رزين (لم أجده) و البغوي في شرح السنة (183/13 بعد ح 3606) [والترمذي في الشمائل (239) و البغوي في مصابيح السنة (335/3. 336ح 3796) ]
٭ مبارک بن فضالة مدلس و عنعن و الحسن البصري: مرسل، وله شاھد ضعيف عند ابن الجوزي في کتاب الوفاء و سنده ضعيف فيه رجل لم يسم، انظر تنقيح الرواة (321/3)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أُسْلُوبٌ مَحَبَّةٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ رَجُلٍ بَدَوِيٍّ)
ایک دیہاتی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا محبت بھرا انداز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4889
4889 - وَعَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمُهُ زَاهِرَ بْنَ حَرَامٍ، وَكَانَ يُهْدِي لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْبَادِيَةِ، فَيُجَهِّزُهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ". وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّهُ، وَكَانَ دَمِيمًا، فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ، فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ لَا يُبْصِرُهُ  . قَالَ: أَرْسِلْنِي، مَنْ هَذَا؟ فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ لَا يَأْلُو مَا أَلْزَقَ ظَهْرَهُ بِصَدْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ عَرَفَهُ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ؟"فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا وَاللَّهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَكِنْ عِنْدَ اللَّهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ"رَوَاهُ فِي"شَرْحِ السُّنَّةِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زاہر بن حرام نامی ایک دیہاتی شخص جنگل سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے تحائف لایا کرتا تھا، اور جب وہ واپسی کا ارادہ کرتا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے (سامان) دیا کرتے تھے، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ” «إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا، وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ» ”زاہر جنگل میں ہمارا کارندہ ہے اور ہم شہر میں اس کے کار پرداز ہیں۔““ اور نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے محبت کیا کرتے تھے، حالانکہ وہ کوئی خوبصورت نہیں تھا، چنانچہ ایک روز نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو وہ اپنا سامان فروخت کر رہا تھا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لے لیا اور وہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہیں دیکھ رہا تھا، اس نے عرض کیا: مجھے چھوڑ دو، یہ کون ہے؟ اس نے مڑ کر دیکھا تو پہچان لیا کہ وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، جب اس نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہچان لیا تو وہ بڑے اہتمام کے ساتھ اپنی پشت نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینہ مبارک کے ساتھ لگانے لگا، اور نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے: ” «مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ؟» ”اس غلام کو کون خریدے گا؟““ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میری بہت کم قیمت آپ کو ملے گی، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ” «لَكِنَّكَ عِنْدَ اللهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ» ”لیکن تم اللہ کے ہاں کم قیمت کے نہیں ہو۔““ اسنادہ صحیح، رواہ فی شرح السنہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4889]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه البغوي في شرح السنة (181/13 ح 3604) [و أحمد (161/3) والترمذي في الشمائل (238) ] و أخطأ من ضعفه.»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں