🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (كَلِمَةُ الرَّحْمِ مُشْتَقَّةٌ مِنَ الرَّحْمَانِ)
لفظ رحم، رحمان سے بنا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4920
4920 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الرَّحِمُ شِجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ  . فَقَالَ اللَّهُ مَنْ وَصَلَكِ وَصَلْتُهُ، وَمَنْ قَطَعَكِ قَطَعْتُهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ” «الرَّحِمُ» ”رحم“، «الرَّحْمٰنِ» ”رحمن“ سے مشتق ہے، اللہ نے فرمایا: ”جس نے تجھ سے تعلق قائم کیا میں اس سے تعلق قائم کروں گا اور جس نے تجھ سے تعلق توڑا میں اس سے تعلق توڑ دوں گا۔““ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4920]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5988)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الرَّحْمُ مُعَلَّقٌ بِالعَرْشِ)
رحم عرش سے معلق ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4921
4921 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الرَّحِمُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَقُولُ: مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللَّهُ، وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللَّهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”رحم عرش کے ساتھ معلق ہے، وہ عرض کرتا ہے: جس نے مجھے جوڑا اللہ اسے جوڑے اور جس نے مجھے توڑا اللہ اسے توڑے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4921]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5989) و مسلم (2555/17)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (البَخِيلُ بِالرَّحْمَةِ لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ)
بے رحم جنت میں نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4922
4922 - وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ"مُتَّفِقٌ عَلَيْهِ.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4922]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5984) و مسلم (2555/19)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْ هُوَ الوَاصِلُ لِلرَّحِمِ؟)
رشتہ جوڑنے والا کون
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4923
4923 - وَعَنِ ابْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”صلہ رحمی کے بدلے میں صلہ رحمی کرنے والا، صلہ رحمی کرنے والا نہیں، بلکہ صلہ رحمی کرنے والا تو وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ قطع رحمی کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4923]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5991)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَعُونَةُ اللهِ تَعَالَى مَعَ مَنْ يَتَجَاوَزُ)
درگزر کرنے والے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4924
4924 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِي، وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ  ، وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ. فَقَالَ:"لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ، وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے کچھ رشتہ دار ہیں، میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان سے حسن سلوک کرتا ہوں اور وہ مجھ سے بدسلوکی کرتے ہیں، میں ان سے درگزر کرتا ہوں اور وہ مجھ پر زیادتی کرتے ہیں۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارا بیان درست ہے تو پھر تم ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہے ہو، جب تک تم اس روش پر قائم رہو گے تو ان کے خلاف اللہ کی طرف سے تمہیں مدد پہنچتی رہے گی۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4924]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (22/ 2558)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (آثَارُ الذُّنُوبِ السَّيِّئَةُ)
گناہوں کے اثرات بد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4925
الْفَصْلُ الثَّانِي 4925 - عَنْ ثَوْبَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ  ، وَلَا يَزِيدُ فِي الْعُمُرِ إِلَّا الْبِرُّ  ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”دعا، تقدیر کو بدل دیتی ہے، حسن سلوک سے عمر میں اضافہ ہو جاتا ہے، بے شک آدمی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔“ سندہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4925]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه ابن ماجه (90، [4022] )
٭ سفيان الثوري مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَرَكَةُ حُسْنِ المُعَامَلَةِ مَعَ الأُمِّ)
ماں کے ساتھ حسن سلوک کی برکت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4926
4926 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ فِيهَا قِرَاءَةً، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ  ، كَذَلِكُمُ الْبِرُّ، كَذَلِكُمُ الْبِرُّ". وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهِ. رَوَاهُ فِي"شَرْحِ السُّنَّةِ"، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ". وَفِي رِوَايَتِهِمَا: قَالَ:"نِمْتُ فَرَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ"بَدَلَ:"دَخَلْتُ الْجَنَّةَ".
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں قراءت سنی تو میں نے کہا: یہ کون (قراءت کر رہا) ہے؟ انہوں نے کہا: یہ حارثہ بن نعمان ہیں، حسن سلوک کی یہی جزا ہوتی ہے، حسن سلوک کی جزا ایسی ہی ہوتی ہے۔“ اور وہ اپنی والدہ کے ساتھ سب سے بڑھ کر حسن سلوک کرنے والے تھے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ نے اسے «شُعَبُ الْإِيمَانِ» میں روایت کیا ہے اور ایک روایت میں ”میں جنت میں داخل ہوا“ کی بجائے ”میں نے خواب میں اپنے آپ کو جنت میں دیکھا۔“ کے الفاظ ہیں۔ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ» (اس کی سند ضعیف ہے)، اسے «شَرْحُ السُّنَّةِ» اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے «شُعَبُ الْإِيمَانِ» میں روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4926]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (7/13 ح 3418) و البيھقي في شعب الإيمان (7851)
٭ الزھري مدلس و عنعن و لم يثبت تصريح سماعه في السند المتصل، راجع مسند الحميدي (285 بتحقيقي) و صرح بالسماع في الرواية المرسلة عند ابن وھب في الجامع (ح133)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (رِضَا اللهِ تَعَالَى فِي رِضَا الأَبِ)
باپ کی رضا میں اللہ تعالیٰ کی رضا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4927
4927 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"رِضَا الرَّبِّ فِي رِضَا الْوَالِدِ  ، وَسُخْطُ الرَّبِّ فِي سُخْطِ الْوَالِدِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ” «رِضَى الرَّبِّ فِي رِضَى الْوَالِدِ، وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ» والد راضی تو رب راضی، والد ناراض تو رب ناراض۔“ [إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ] [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4927]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1899)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الأَبُ بَابُ الجَنَّةِ الأَوْسَطُ)
باپ جنت کا وسطی دروازہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4928
4928 - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ لِي امْرَأَةً وَإِنَّ أُمِّي تَأْمُرُنِي بِطَلَاقِهَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ  ، فَإِنْ شِئْتَ فَحَافِظْ عَلَى الْبَابِ أَوْ ضَيِّعْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا تو اس نے کہا: میری ایک بیوی ہے، جبکہ میری والدہ اسے طلاق دینے کا مجھے حکم دیتی ہے، (یہ سن کر) ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے اسے کہا، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”والد جنت کا بہترین دروازہ ہے، اگر تم چاہو تو دروازے کی حفاظت کر لو، اور چاہو تو ضائع کر لو۔“ حسن، اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4928]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (1900 وقال: صحيح) و ابن ماجه (2089)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الأُمُّ أَحَقُّ بِالإِحْسَانِ)
ماں احسان کی زیادہ حقدار ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4929
4929 - وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ:"أُمَّكَ" قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:"أُمَّكَ"، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:"أُمَّكَ". قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ قَالَ:"أَبَاكَ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کس سے حسن سلوک کروں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں سے۔“ میں نے عرض کیا: پھر کون؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اپنی والدہ کے ساتھ۔“ میں نے عرض کیا: پھر کون؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ۔“ میں نے عرض کیا: پھر کون؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ۔“ میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اپنے والد کے ساتھ، پھر قریب ترین اور پھر قریب تر رشتے دار کے ساتھ (اچھا سلوک کر)۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4929]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1897 وقال: حسن) و أبو داود (5139)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں