🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (مِفْتَاحُ الفَتْحِ)
فتح کی کنجی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6009
6009 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيَقُولُونَ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، يُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: (يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُبْعَثُ مِنْهُمُ الْبَعْثُ فَيَقُولُونَ: انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيكُمْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ، ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّانِي فَيَقُولُونَ: هَلْ فِيهِمْ مَنْ رَأَى أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّالِثُ فَيُقَالُ: انْظُرُوا، هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ مَنْ رَأَى مَنْ رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; ثُمَّ يَكُونُ الْبَعْثُ الرَّابِعُ فَيُقَالُ: انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ أَحَدًا رَأَى مَنْ رَأَى أَحَدًا رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ) .
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ لوگوں کی جماعتیں جہاد کریں گی، ان سے کہا جائے گا: کیا تم میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کوئی صحابی بھی ہے؟ وہ کہیں گے: ہاں، انہیں فتح ہو گی، پھر لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ لوگوں کی جماعتیں جہاد کریں گی تو ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی صحبت اختیار کی ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں، تو انہیں فتح حاصل ہو گی۔ پھر لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ لوگوں کی جماعتیں جہاد کریں گی، ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی تبع تابعین ہے؟ وہ کہیں گے: ہاں، تو انہیں فتح حاصل ہو گی۔“ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے، فرمایا: ”لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ ان میں سے ایک لشکر بھیجا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا: دیکھو، کیا تم اپنے ساتھ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کوئی صحابی پاتے ہو؟ ایک صحابی مل جائے گا تو انہیں فتح نصیب ہو جائے گی، پھر دوسرا لشکر بھیجا جائے گا، تو ان سے کہا جائے گا: کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہو؟ انہیں فتح حاصل ہو گی۔ پھر تیسرا لشکر بھیجا جائے گا، تو کہا جائے گا: دیکھو، کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہو؟ پھر چوتھا لشکر ہو گا، کہا جائے گا: کیا تم ان میں کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہو جس نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والے شخص کو دیکھا ہو؟ ایسا شخص مل جائے گا تو انہیں فتح حاصل ہو جائے گی۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6009]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3649) و مسلم (208/ 2532 و الرواية الثانية 209/ 2532)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (خَيْرُ القُرُونِ)
خیر القرون
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6010
6010 - وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي  ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ إِنَّ بَعْدَهُمْ قَوْمًا يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَنْذُرُونَ، وَلَا يُوفُونَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ) . وَفِي رِوَايَةٍ (وَيَحْلِفُونَ وَلَا يُسْتَحْلَفُونَ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد آئیں گے، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو گواہی طلب کیے بغیر گواہی دیں گے، وہ خیانت کریں گے اور ان پر اعتماد نہیں کیا جائے گا، وہ نذر مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا عام ہو جائے گا۔“ ایک دوسری روایت میں ہے: ”وہ حلف طلب کیے بغیر حلف اٹھائیں گے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6010]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3650) و مسلم (214 / 2535 و الرواية الثانية 215/ 2535)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَفْضَلُ أُمَّتِي بَعْدِي ثُمَّ الَّذِينَ بَعْدَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ بَعْدَهُمْ)
میری امت کے بہترین لوگ میرے بعد پھر ان کے بعد پھر ان کے بعد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6011
6011 - وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: (ثُمَّ يَخْلُفُ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السِّمَانَةَ  .
اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ”پھر ایسے لوگ جانشین بنیں گے جو موٹاپے کو پسند کریں گے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6011]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (213/ 2534)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضِيلَةٌ دَرَجَةً بَعْدَ دَرَجَةٍ)
درجہ بدرجہ فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6012
الْفَصْلُ الثَّانِي 6012 - عَنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (أَكْرِمُوا أَصْحَابِي، فَإِنَّهُمْ خِيَارُكُمْ  ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَظْهَرُ الْكَذِبُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَحْلِفُ وَلَا يُسْتَحْلَفُ، وَيَشْهَدُ وَلَا يُسْتَشْهَدُ، أَلَا مَنْ سَرَّهُ بُحْبُوحَةُ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْفَذِّ وَهُوَ مِنْ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، وَلَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمْ، وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ) رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَسَنِ الْخَثْعَمِيَّ فَإِنَّهُ لَمْ يُخْرِجْ لَهُ الشَّيْخَانِ وَهُوَ ثِقَةٌ ثَبْتٌ.
عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کی عزت کرو، کیونکہ وہ تم میں سے سب سے بہتر ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا حتیٰ کہ آدمی حلف طلب کیے بغیر حلف اٹھائے گا، گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے گا، سن لو! جو شخص جنت کے وسط میں مقام حاصل کرنا پسند کرتا ہے وہ جماعت کے ساتھ لگا رہے، کیونکہ منفرد شخص کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور وہ دو افراد سے (ایک کی نسبت) زیادہ دور ہوتا ہے، اور کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے کیونکہ تیسرا ان کا شیطان ہوتا ہے، اور جس شخص کو اس کی نیکی خوش کر دے اور اس کی برائی اسے بری لگے تو وہ مومن ہے۔“ صحیح، رواہ النسائی فی الکبریٰ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6012]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه [النسائي في الکبري (5/ 387. 388 ح 9222. 9224) و عبد بن حميد (23) و له طريق آخر عند الحميدي (32) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضِيلَةُ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَالتَّابِعِينَ رَحِمَهُمُ اللَّهُ)
صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمۃ اللہ علیہم کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6013
6013 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالَ: (لَا تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِمًا رَآنِي أَوْ رَأَى مَنْ رَآنِي) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس مسلمان کو، جس نے مجھے دیکھا یا اس شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا، جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6013]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3858)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَصِيَّةٌ نَبَوِيَّةٌ عَنْ أَصْحَابِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نبوی وصیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6014
6014 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي  ، اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے (حقوق کے) متعلق اللہ سے بار بار ڈرتے رہنا، میرے بعد انہیں نشانہ مت بنانا، جس شخص نے ان سے محبت کی تو اس نے میری محبت کے باعث ان سے محبت کی، اور جس نے ان سے دشمنی رکھی تو اس نے میرے ساتھ دشمنی رکھنے کی وجہ سے ان سے دشمنی رکھی، جس شخص نے ان کو اذیت پہنچائی، اس نے مجھے اذیت پہنچائی اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی، اس نے اللہ کو اذیت پہنچائی، قریب ہے کہ وہ اس کو (دنیا میں) پکڑ لے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6014]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3862)
٭ عبد الرحمٰن بن زياد اختلفوا في اسمه و لم يوثقه غير ابن حبان وھو مجھول الحال و لم يثبت عن الترمذي بأنه قال في حديثه: حسن: و قال البخاري: فيه نظر (التاريخ الکبير 5/ 131 ت 389)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَثَلُ الأُمَّةِ بِدُونِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ)
صحابہ رضی اللہ عنہم کے بغیر امت کی مثال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6015
6015 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (مَثَلُ أَصْحَابِي فِي أُمَّتِي كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ  ، لَا يَصْلُحُ الطَّعَامُ إِلَّا بِالْمِلْحِ (قَالَ الْحَسَنُ: فَقَدْ ذَهَبَ مِلْحُنَا فَكَيْفَ نَصْلُحُ؟ رَوَاهُ فِي (شَرْحِ السُّنَّةِ) .
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں میرے صحابہ کی مثال اس طرح ہے جس طرح کھانے میں نمک، اور کھانا نمک کے ساتھ ہی بہتر (لذیذ) بنتا ہے۔“ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ» ”اس کی سند ضعیف ہے“، اسے «رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ» ”شرح السنہ میں روایت کیا گیا ہے“، حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمارا نمک تو جا چکا تو ہم کس طرح سنور سکتے ہیں؟“ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6015]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (14/ 72. 73 ح 3863)
٭ فيه إسماعيل بن مسلم المکي وھو ضعيف و في السند علة أخري .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فِي يَوْمِ القِيَامَةِ، الصَّحَابِيُّ يَأْخُذُ أَهْلَ مَكَانِهِ إِلَى الجَنَّةِ)
قیامت کے دن جو صحابی جہاں سے اٹھے گا وہاں کے لوگوں کو جنت لے جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6016
6016 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ أَبِيهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي يَمُوتُ بِأَرْضٍ إِلَّا بُعِثَ قَائِدًا وَنُورًا لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَذَكَرَ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ (لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ) فِي بَابِ (حِفْظِ اللِّسَانِ) .
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میرا کوئی صحابی جس سرزمین پر فوت ہوگا تو وہ قیامت کے دن ان لوگوں کا قائد اور نور بن کر اٹھایا جائے گا۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے «لَا يُبَلِّغْنِي أَحَدٌ» ”مجھ تک کوئی شخص نہ پہنچائے“ مروی حدیث باب حفظ اللسان میں ذکر کی گئی ہے۔ اس کی سند ضعیف ہے، اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6016]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3865)
٭ فيه عثمان بن ناجية: مستور .
حديث ابن مسعود تقدم (4852)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَعْنَةٌ عَلَى مَنْ يَسُبُّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہنے والوں پر لعنت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6017
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 6017 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِي يَسُبُّونَ أَصْحَابِي فَقُولُوا: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى شَرِّكُمْ  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا کہتے ہوں تو تم کہو: تمہارے شر پر اللہ کی لعنت ہو۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6017]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3866)
٭ نصر بن حماد: ضعيف و سيف بن عمر: ضعيف في الحديث و ضعيف في التاريخ علي الراجح .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اقْتِدَاءُ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَسِيلَةٌ لِلْهِدَايَةِ)
صحابہ رضی اللہ عنہم کی اقتداء ہدایت کا ذریعہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6018
6018 - وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ (سَأَلْتُ رَبِّي عَنِ اخْتِلَافِ أَصْحَابِي مِنْ بَعْدِي، فَأَوْحَى إِلَيَّ: يَا مُحَمَّدُ! إِنَّ أَصْحَابَكَ عِنْدِي بِمَنْزِلَةِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ، بَعْضُهَا أَقْوَى مِنْ بَعْضٍ، وَلِكُلٍّ نُورٌ، فَمَنْ أَخَذَ بِشَيْءٍ مِمَّا هُمْ عَلَيْهِ مِنِ اخْتِلَافِهِمْ فَهُوَ عِنْدِي عَلَى هُدًى) قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ، فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ) . رَوَاهُ رَزِينٌ.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں نے اپنے رب سے اپنے بعد اپنے صحابہ کے اختلاف کے متعلق دریافت کیا تو اس نے میری طرف وحی فرمائی: محمد! آپ کے صحابہ میرے نزدیک آسمان کے ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے بعض، بعض سے زیادہ قوی ہیں، اور ہر ایک کی روشنی ہے، اور جس شخص نے باوجود ان کے اختلاف کے جن پر وہ ہیں، عمل کیا تو وہ میرے نزدیک ہدایت پر ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔“ ضعیف جدا، رواہ رزین۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6018]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف جدًا، رواه رزين (لم أجده) [و الخطيب في الفقيه و المتفقه (1/ 177) و فيه نعيم بن حماد صدوق حسن الحديث و لکن عبد الرحيم بن زيد العمي کذاب و أبوه ضعيف، و للحديث شواھد باطلة و مردودة] »
قال الشيخ الألباني: بَاطِل
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف جدًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں