🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (تَفَرُّقُ النَّاسِ خَوْفًا مِنْ حَضْرَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خوف سے لوگ منتشر ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6049
6049 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا، فَسَمِعْنَا لَغَطًا وَصَوْتَ صِبْيَانٍ. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا حَبَشِيَّةٌ تَزْفِنُ وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهَا، فَقَالَ: (يَا عَائِشَةُ! تَعَالَيْ فَانْظُرِي) فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ لَحْيَيَّ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا. مَا بَيْنَ الْمَنْكِبِ إِلَى رَأْسِهِ. فَقَالَ لِي: (أَمَا شَبِعْتِ؟ أَمَا شَبِعْتِ؟) فَجَعَلْتُ أَقُولُ: لَا، لِأَنْظُرَ مَنْزِلَتِي عِنْدَهُ، إِذْ طَلَعَ عُمَرُ فَارْفَضَّ النَّاسُ عَنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى شَيَاطِينِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ) . قَالَتْ: فَرَجَعْتُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف فرما تھے کہ ہم نے شور اور بچوں کی آواز سنی، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے تو دیکھا کہ ایک حبشی خاتون رقص کر رہی تھی اور بچے اس کے اردگرد (تماشا دیکھ رہے) تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! آؤ اور دیکھو۔“ میں آئی تو میں نے اپنے جبڑے (چہرہ) رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھے پر رکھ دیے اور میں آپ کے کندھے اور سر کے درمیان سے اسے دیکھنے لگی، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: ”کیا تم سیر نہیں ہوئی، کیا تم سیر نہیں ہوئی؟“ میں کہنے لگی نہیں، تاکہ میں آپ کے ہاں اپنی قدر و منزلت کا اندازہ لگا سکوں، اچانک عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے تو سارے لوگ اس (حبشیہ) کے پاس سے تتر بتر ہو گئے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں نے شیاطینِ جن و انس کو دیکھا کہ وہ عمر کی وجہ سے بھاگ رہے ہیں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں واپس آ گئی۔ (ترمذی، اور فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، اسنادہ حسن، رواہ الترمذی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6049]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3691)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مُوَافَقَةُ أَحْكَامِ حَضْرَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ السَّمَاءِ)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلوں کی آسمان سے موافقت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6050
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 6050 - عَنْ أَنَسٍ وَابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - قَالَ: وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ  : قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى؟ فَنَزَلَتْ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى. وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَدْخُلُ عَلَى نِسَائِكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَلَوْ أَمَرْتَهُنَّ يَحْتَجِبْنَ؟ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ، وَاجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْغَيْرَةِ، فَقُلْتُ: (عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ) ، فَنَزَلَتْ كَذَلِكَ.
انس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تین امور میں اپنے رب سے موافقت کی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر ہم مقامِ ابراہیم کو جائے نماز بنا لیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [سورة البقرة: 125] ”مقامِ ابراہیم کو جائے نماز بناؤ“ نازل فرما دی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کی ازواجِ مطہرات کے پاس نیک و فاسق قسم کے لوگ آتے ہیں، اگر آپ انہیں پردہ کرنے کا حکم فرما دیں، تب اللہ تعالیٰ نے آیتِ حجاب نازل فرمائی، اور (ایک موقع پر) نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواجِ مطہرات قصہ غیرت (شہد پینے والے واقعہ) پر اکٹھی ہو گئیں، تو میں نے کہا: ﴿عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ﴾ [سورة التحريم: 5] ”قریب ہے کہ اس کا رب، اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں، تو تم سے بہتر بیویاں انہیں عطا فرما دے“، اسی طرح یہ آیت نازل ہو گئی۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6050]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (402، 4483) [و أحمد (1/ 23) ] »
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:رواه البخاري (402، 4483)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ثَلَاثَةُ أُمُورٍ دَعَمَهَا اللَّهُ تَعَالَى لِحَضْرَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
تین معاملوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حمایت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6051
6051 - وَفِي رِوَايَةٍ لِابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ عُمَرُ: وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ: فِي مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ، وَفِي الْحِجَابِ، وَفِي أُسَارَى بَدْرٍ  . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے، انہوں نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے تین امور میں اپنے رب سے موافقت کی: مقامِ ابراہیم کے متعلق، پردے اور بدر کے قیدیوں کے بارے میں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6051]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (لم أجده) و مسلم (24/ 2399)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَشُورَةٌ بِشَأْنِ أَسْرَى بَدْرٍ)
اسیران بدر کی بابت مشورہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6052
6052 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: فُضِّلَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِأَرْبَعٍ  : بِذِكْرِ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ، أَمَرَ بِقَتْلِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ وَبِذِكْرِهِ الْحِجَابَ، أَمَرَ نِسَاءَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَحْتَجِبْنَ، فَقَالَتْ لَهُ زَيْنَبُ: وَإِنَّكَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ وَبِدَعْوَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (اللَّهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ) . وَبِرَأْيِهِ فِي أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - كَانَ أَوَّلَ نَاسٍ بَايَعَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو چار چیزوں کی وجہ سے دیگر لوگوں پر فضیلت عطا کی گئی؛ انہوں نے بدر کے قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة الأنفال: 68] ”اگر اللہ کی کتاب میں یہ حکم پہلے سے موجود نہ ہوتا تو تم نے جو (فدیہ) لیا اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا۔“ اور ان کا حجاب کے متعلق فرمانا؛ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواجِ مطہرات سے فرمایا کہ وہ پردہ کیا کریں، تو زینب رضی اللہ عنہا نے انہیں فرمایا: ”ابن خطاب! کیا آپ ہمیں حکم دیتے ہیں جبکہ وحی تو ہمارے گھروں میں اترتی ہے؟“ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ﴾ [سورة الأحزاب: 53] ”اور جب تم ان سے کوئی چیز طلب کرو تو ان سے پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔“ اور ان کے متعلق نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ» ”اے اللہ! عمر کے ذریعے اسلام کو تقویت فرما۔“ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے (خلیفہ ہونے کے) متعلق سب سے پہلی انہیں کی رائے تھی اور انہوں نے ہی سب سے پہلے ان کی بیعت کی۔ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6052]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (1/ 456 ح 3662)
٭ فيه أبو نھشل: مجھول و أبو النضر ھاشم بن القاسم سمع من المسعودي بعد اختلاطه .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنَاقِبُ حَضْرَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ المُتَنَوِّعَةُ)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متفرق مناقب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6053
6053 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (ذَاكَ الرَّجُلُ أَرْفَعُ أُمَّتِي دَرَجَةً فِي الْجَنَّةِ) . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَاللَّهِ مَا كُنَّا نُرَى ذَلِكَ الرَّجُلَ إِلَّا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”وہ آدمی میری امت میں سے جنت میں ایک درجہ بلند مقام پر فائز ہو گا۔“ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ہمارے خیال میں وہ آدمی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہی ہیں حتیٰ کہ وہ وفات پا گئے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6053]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (4077 ب)
٭ فيه عطية العوفي ضعيف و مدلس و عبيد الله بن الوليد الوصافي: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: واه
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا أَحَدَ يَجْتَهِدُ فِي الأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ أَكْثَرَ مِنْ حَضْرَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
اعمال صالح میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوشش کرنے والا کوئی نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6054
6054 - وَعَنْ أَسْلَمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَأَلَنِي ابْنُ عُمَرَ بَعْضَ شَأْنِهِ - يَعْنِي عُمَرَ - فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا قَطُّ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ حِينِ قُبِضَ كَانَ أَجَدَّ وَأَجْوَدَ حَتَّى انْتَهَى مِنْ عُمَرَ  . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
اسلم (عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام) بیان کرتے ہیں، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے عمر رضی اللہ عنہ کے بعض حالات کے متعلق دریافت کیا تو میں نے انہیں بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد کسی شخص کو اتنی زیادہ جدوجہد اور سخاوت کرنے والا نہیں دیکھا حتیٰ کہ یہ فضائل عمر رضی اللہ عنہ پر ختم ہو گئے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6054]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3687)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (شَهَادَةُ حَضْرَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6055
6055 - وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ جَعَلَ يَأْلَمُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكَأَنَّهُ يُجَزِّعُهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا كُلُّ ذَلِكَ؟، لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ، فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ، ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ، ثُمَّ صَحِبْتَ أَبَا بَكْرٍ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ، ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ، ثُمَّ صَحِبْتَ الْمُسْلِمِينَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُمْ، وَلَئِنْ فَارَقْتَهُمْ لَتُفَارِقَنَّهُمْ وَهُمْ عَنْكَ رَاضُونَ، قَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرِضَاهُ فَإِنَّمَا ذَلِكَ مَنٌّ مِنَ اللَّهِ مَنَّ بِهِ عَلَيَّ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ أَبِي بَكْرٍ وَرِضَاهُ، فَإِنَّمَا ذَلِكَ مَنٌّ مِنَ اللَّهِ مَنَّ بِهِ عَلَيَّ. وَأَمَّا مَا تَرَى مِنْ جَزَعِي، فَهُوَ مِنْ أَجْلِكَ وَمِنْ أَجْلِ أَصْحَابِكَ، وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلَاعَ الْأَرْضِ ذَهَبًا لَافْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ  قَبْلَ أَنْ أَرَاهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب عمر رضی اللہ عنہ زخمی کر دیے گئے تو وہ تکلیف محسوس کرنے لگے، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں تسلی دیتے ہوئے عرض کیا: امیر المومنین! آپ اتنی تکلیف کا کیوں اظہار کر رہے ہیں؟ آپ نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت اختیار کی اور اسے اچھے انداز میں نبھایا، پھر وہ آپ سے جدا ہوئے تو وہ آپ پر راضی تھے، پھر آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہے، اور ان کے ساتھ بھی خوب رہے، پھر وہ آپ سے جدا ہوئے تو وہ بھی آپ پر راضی تھے، پھر آپ مسلمانوں کی صحبت میں رہے، اور آپ ان کے ساتھ بھی خوب اچھی طرح رہے، اور اگر آپ ان سے جدا ہوئے تو آپ ان سے بھی اس حال میں جدا ہوں گے کہ وہ آپ سے راضی ہوں گے، انہوں نے فرمایا: تم نے جو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اور آپ کے راضی ہونے کا ذکر کیا ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ایک احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے، اور تم نے جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور ان کے راضی ہونے کا ذکر کیا ہے تو وہ بھی اللہ کی طرف سے ایک احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے، اور رہی میری گھبراہٹ اور پریشانی جو تم دیکھ رہے ہو تو وہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں فکر مند ہونے کی وجہ سے ہے، اللہ کی قسم! اگر میرے پاس زمین بھر سونا ہوتا تو میں اللہ کے عذاب کو دیکھنے سے پہلے اس کا فدیہ دے کر اس سے نجات حاصل کرتا۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6055]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3692)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَلَامُ الحَيَوَانَاتِ)
جانوروں کا کلام کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6056
[ 5 ] بَابُ مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 6056 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: (بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ أَعْيَا، فَرَكِبَهَا، فَقَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا، إِنَّمَا خُلِقْنَا لِحِرَاثَةِ الْأَرْضِ. فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، بَقَرَةٌ تَكَلَّمُ!) . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ) وَمَا هُمَا ثَمَّ. وَقَالَ: (بَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمٍ لَهُ إِذْ عَدَا الذِّئْبُ عَلَى شَاةٍ مِنْهَا، فَأَخَذَهَا، فَأَدْرَكَهَا صَاحِبُهَا، فَاسْتَنْقَذَهَا، فَقَالَ لَهُ الذِّئْبُ: فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبْعِ، يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي؟ فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ!، فَقَالَ أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ) وَمَا هُمَا ثَمَّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس اثنا میں کہ ایک آدمی گائے ہانک رہا تھا، جب وہ تھک جاتا تو وہ اس پر سوار ہو جاتا، اس نے کہا: ہمیں اس لیے نہیں پیدا کیا گیا، ہمیں تو کھیت جوتنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے، لوگوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“! گائے کلام کرتی ہے۔“ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں اس پر ایمان رکھتا ہوں، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی اس پر ایمان رکھتے ہیں۔“ اور وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے، اور فرمایا: ”ایک آدمی بکریاں چرا رہا تھا کہ بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اسے پکڑ لیا، اس کے مالک نے اسے جا لیا اور اسے چھڑا لیا، بھیڑیے نے اسے کہا: جس دن درندے ہی درندے رہ جائیں گے اور اس دن میرے سوا بکریوں کو چرانے والا کون ہوگا؟ لوگوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“! بھیڑیا کلام کرتا ہے۔“ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اس پر ایمان رکھتے ہیں۔“ اور وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔ [متفق علیہ] [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6056]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3471) و مسلم (13/ 2388)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (شَهَادَةُ أَمِيرِ المُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الشَّيْخَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا)
امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شیخین رضی اللہ عنہما کے متعلق گواہی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6057
6057 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: إِنِّي لَوَاقِفٌ فِي قَوْمٍ فَدَعَوُا اللَّهَ لِعُمَرَ وَقَدْ وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ، إِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلَفِي قَدْ وَقَعَ مِرْفَقُهُ عَلَى مَنْكِبِي يَقُولُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ، لِأَنِّي كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: (كُنْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ  ، وَفَعَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَانْطَلَقْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ) . فَالْتَفَتُّ فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں ان لوگوں میں کھڑا تھا جو عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعائیں کر رہے تھے، اور ان کا جنازہ ان کی چارپائی پر رکھا ہوا تھا، کہ اچانک ایک آدمی نے میرے پیچھے سے اپنی کہنی میرے کندھوں پر رکھ دی، اور وہ کہہ رہے تھے: «رَحِمَكَ اللَّهُ» ”اللہ آپ پر رحم فرمائے، مجھے امید ہے کہ اللہ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ (دفن) کرائے گا“، کیونکہ میں اکثر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کرتا تھا: ”میں، ابوبکر اور عمر تھے، میں، ابوبکر اور عمر نے کلام کیا، میں، ابوبکر اور عمر گئے، میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے، میں، ابوبکر اور عمر باہر نکلے۔“ میں نے جو مڑ کر دیکھا تو وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6057]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3677) و مسلم (14/ 2389)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَقَامٌ رَفِيعٌ لِحَضْرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا)
حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا بلند مقام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6058
الْفَصْلُ الثَّانِي 6058 - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: (إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ فِي عِلِّيِّينَ  ، كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا) . رَوَاهُ فِي (شَرْحِ السُّنَّةِ) ، وَرَوَى نَحْوَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جنت والے مقام علیین والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے افق میں چمک دار ستارے کو دیکھتے ہو، اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما انہی میں سے ہیں، اور وہ کیا خوب ہیں۔“ شرح السنہ، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے اسی طرح روایت کیا ہے۔ سندہ ضعیف، رواہ فی شرح السنہ و ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6058]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (14/ 100 ح 3893) و أبو داود (3987) و الترمذي (3658 وقال: حسن) و ابن ماجه (96)
٭ عطية العوفي ضعيف مدلس و للحديث شواھد ضعيفة و روي الطبراني في الأوسط (7/ 6 ح 6003) بلفظ: ((إن الرجل من أھل عليين يشرف علي أھل الجنة کأنه کوکب دري و إن أبا بکر و عمر منھما و أنعما .)) و سنده حسن .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں