مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 1882
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَالِسًا فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: مِنَ الأَنْصَارِ فَرُمِيَ بِنَجْمٍ عَظِيمٍ، فَاسْتَنَارَ، قَالَ:" مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ إِذَا كَانَ مِثْلُ هَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ"، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ يُولَدُ عَظِيمٌ، أَوْ يَمُوتُ عَظِيمٌ، قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: أَكَانَ يُرْمَى بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِنْ غُلِّظَتْ حِينَ بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنَّهُ لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ رَبَّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا، سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا، ثُمَّ يَسْتَخْبِرُ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ، فَيَقُولُ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ وَيُخْبِرُ أَهْلُ كُلِّ سَمَاءٍ، سَمَاءً، حَتَّى يَنْتَهِيَ الْخَبَرُ إِلَى هَذِهِ السَّمَاءِ، وَيَخْطِفُ الْجِنُّ السَّمْعَ، فَيُرْمَوْنَ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ، فَهُوَ حَقٌّ، وَلَكِنَّهُمْ يَقْذِفُونَ وَيَزِيدُونَ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ أبِى , قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَيَخْطِفُ الْجِنُّ وَيُرْمَوْنَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ تشریف فرما تھے، اتنی دیر میں ایک بڑا ستارہ ٹوٹا اور روشن ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زمانہ جاہلیت میں اس طرح ہوتا تھا تو تم لوگ کیا کہتے تھے؟“ لوگوں نے کہا کہ ہم کہتے تھے کسی عظیم آدمی کی پیدائش یا کسی عظیم آدمی کی موت واقع ہونے والی ہے (راوی کہتے ہیں کہ میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا زمانہ جاہلیت میں بھی ستارے پھینکے جاتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں! لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد سختی ہوگئی)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ستاروں کا پھینکا جانا کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں ہوتا، اصل بات یہ ہے کہ جب ہمارا رب کسی کام کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو حاملین عرش جو فرشتے ہیں وہ تسبیح کرنے لگتے ہیں، ان کی تسبیح سن کر قریب کے آسمان والے بھی تسبیح کرنے لگتے ہیں، حتی کہ ہوتے ہوتے یہ سلسلہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتا ہے، پھر اس آسمان والے فرشتے - جو حاملین عرش کے قریب ہوتے ہیں - ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ وہ انہیں بتا دیتے ہیں، اس طرح ہر آسمان والے دوسرے آسمان والوں کو بتا دیتے ہیں، یہاں تک کہ یہ خبر آسمان دنیا کے فرشتوں تک پہنچتی ہے، وہاں سے جنات کوئی ایک آدھ بات اچک لیتے ہیں، ان پر یہ ستارے پھینکے جاتے ہیں، اب جو بات وہ صحیح صحیح بتا دیتے ہیں وہ تو سچ ثابت ہو جاتی ہے لیکن وہ اکثر ان میں اپنی طرف سے اضافہ کر دیتے ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1882]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، 2229.
حدیث نمبر: 1883
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي رِجَالٌ مِنَ الأَنْصَارِ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُمْ كَانُوا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، إِذْ رُمِيَ بِنَجْمٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ، قَالَ:" إِذَا قَضَى رَبُّنَا أَمْرًا سَبَّحَهُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَيَقُولُونَ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟: فَيَقُولُونَ: الْحَقَّ، وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ، فَيَقُولُونَ: كَذَا وَكَذَا، فَيُخْبِرُ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ السَّمَاءَ الدُّنْيَا، قَالَ: وَيَأْتِي الشَّيَاطِينُ، فَيَسْتَمِعُونَ الْخَبَرَ، فَيَقْذِفُونَ بِهِ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ، وَيَرْمُونَ بِهِ إِلَيْهِمْ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ، وَلَكِنَّهُمْ يَزِيدُونَ فِيهِ، وَيَقْرِفُونَ، وَيَنْقُصُونَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ تشریف فرما تھے، اتنی دیر میں ایک بڑا ستارہ ٹوٹا اور روشن ہوگیا . . . . پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ”جب ہمارا رب کسی کام کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو حاملین عرش جو فرشتے ہیں وہ تسبیح کرنے لگتے ہیں، ان کی تسبیح سن کر قریب کے آسمان والے بھی تسبیح کرنے لگتے ہیں، حتی کہ ہوتے ہوتے یہ سلسلہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتا ہے، پھر اس آسمان والے فرشتے - جو حاملین عرش کے قریب ہوتے ہیں - ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ وہ انہیں بتا دیتے ہیں، اس طرح ہر آسمان والے دوسرے آسمان والوں کو بتا دیتے ہیں، یہاں تک کہ یہ خبر آسمان دنیا کے فرشتوں تک پہنچتی ہے، وہاں سے جنات کوئی ایک آدھ بات اچک لیتے ہیں، ان پر یہ ستارے پھینکے جاتے ہیں، اب جو بات وہ صحیح صحیح بتا دیتے ہیں وہ تو سچ ثابت ہوجاتی ہے لیکن وہ اکثر ان میں اپنی طرف سے اضافہ کر دیتے ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1883]
الحكم على الحديث:
صحيح، م: 2229. فى سنده محمد بن مصعب، وفيه كلام من جهة إلا أن حديثه عن الأوزاعي مقارب، ثم هو متابع.
حدیث نمبر: 1884
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُمَا قَالَا: لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، طَفِقَ يُلْقِي خَمِيصَةً عَلَى وَجْهِهِ، فَلَمَّا اغْتَمَّ، رَفَعْنَاهَا عَنْهُ، وَهُوَ يَقُولُ:" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ"، تَقُولُ عَائِشَةُ: فيُحَذِّرُهُمْ مِثْلَ الَّذِي صَنَعُوا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو بار بار اپنے رخ انور پر چادر ڈال لیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھبراہٹ ہوتی تو ہم وہ چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ہٹا دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ ”یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اس عمل سے لوگوں کو تنبیہ فرما رہے تھے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1884]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 435 ، م: 531.
حدیث نمبر: 1885
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَمَّ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو فرمایا کہ 29 کا مہینہ بھی مکمل ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1885]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1886
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ :" صَلَّيْتُ الظُّهْرَ بِالْبَطْحَاءِ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ، فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تِلْكَ صَلَاةُ أَبِي الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ".
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادی بطحا میں میں نے ایک احمق شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں 22 مرتبہ تکبیر کہی، وہ تو جب سجدے میں جاتا اور اس سے سر اٹھاتا تھا تب بھی تکبیر کہتا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1886]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبى عروبة مختلط ، ورواية ابن أبى عدي عنه بعد الاختلاط.
حدیث نمبر: 1887
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ , وَابْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , الْمَعْنَى، وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَدِي , عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَال:" قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي صَلَوَاتٍ، وَسَكَتَ، فَنَقْرَأُ فِيمَا قَرَأَ فِيهِنَّ نَبِيُّ اللَّهِ، وَنَسْكُتُ فِيمَا سَكَتَ، فَقِيلَ لَهُ: فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ فَغَضِبَ مِنْهَا، وَقَالَ: أَيُتَّهَمُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ , وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَتَتَّهِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض نمازوں میں جہری قراءت فرماتے تھے اور بعض میں خاموش رہتے تھے، اس لئے جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہری قراءت فرماتے تھے ان میں ہم بھی قراءت کرتے ہیں اور جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سکوت فرماتے تھے، ہم بھی ان میں سکوت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم سری قراءت فرماتے ہوں؟ اس پر وہ غضب ناک ہو گئے اور کہنے لگے کہ کیا اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی تہمت لگائی جائے گی؟ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1887]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، ابن أبى عدي ومحمد بن جعفر رويا عن ابن أبى عروبة بعد الاختلاط، قد رواه عنه يزيد بن زريع، وهو ممن سمع منه قبل الاختلاط، ثم إنه قد توبع.
حدیث نمبر: 1888
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے، البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1888]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1421.
حدیث نمبر: 1889
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ،" أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، كَانَ يَتَوَضَّأُ مَرَّةً مَرَّةً، وَيُسْنِدُ ذَاكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ بھی دھو لیا کرتے تھے اور اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1889]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد ضعيف، المطلب بن عبدالله مدلس وروايته عن ابن عباس مرسلة.
حدیث نمبر: 1890
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ، سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رِدْفُهُ، فَقَالَتْ:" إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ، أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَمْسِكَ عَلَى الرَّحْلِ، فَهَلْ تَرَى أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ".
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت مزدلفہ کی صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس وقت سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، وہ کہنے لگی: یا رسول اللہ! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہو چکا ہے، لیکن وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1890]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3999.
حدیث نمبر: 1891
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ وَنَحْنُ عَلَى أَتَانٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِعَرَفَةَ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْنَا عَنْهَا، وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ وَدَخَلْنَا فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يَقُلْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو میدان عرفات میں نماز پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے، ہم ایک صف کے آگے سے گزر کر اس سے اتر گئے، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہو گئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ بھی نہیں کہا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1891]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4412، م: 504.