🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4615
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُسَافِرْ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی عورت محرم کے بغیر تین دن کا سفر نہ کرے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4615]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1087، م: 1338
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4616
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْخَيْلُ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے لئے گھوڑوں کی پیشانی میں خیر اور بھلائی رکھ دی گئی ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4616]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3644، م: 1871
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4617
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" رَقِيتُ يَوْمًا عَلَى بَيْتِ حَفْصَةَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَاجَتِهِ، مُسْتَدْبِرَ الْبَيْتِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ کی گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شام کی طرف رخ کر کے اور قبلہ کی طرف پشت کر کے قضاء حاجت فرما رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4617]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 148، م: 266
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4618
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَان" يَرْمُلُ ثَلَاثًا وَيَمْشِي أَرْبَعًا، وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ، وَكَانَ يَمْشِي مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَمْشِي مَا بَيْنَهُمَا لِيَكُونَ أَيْسَرَ لِاسْتِلَامِهِ".
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل اور باقی چار چکروں میں معمول کی رفتار رکھتے تھے ان کا خیال یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام رفتار سے چلتے تھے تاکہ استلام کر نے میں آسانی ہو سکے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4618]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1617، م: 1261
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4619
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الضَّبِّ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ؟ فَقَالَ:" لَا آكُلُهُ وَلَا أَنَهَى عَنْهُ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسْجِدَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جبکہ وہ منبر پر تھے، گوہ کے متعلق پوچھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے کھاتاہوں اور نہ منع کرتا ہوں۔“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو شخص اس درخت سے کچھ کھا کر آئے (کچا لہسن) تو وہ مسجد میں نہ آئے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4619]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1943
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4620
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ" يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَيُوتِرُ عَلَيْهَا، وَيَذْكُرُ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سواری پر نفل نماز اور وتر پڑھ لیا کرتے تھے اور اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4620]

الحكم على الحديث:
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4621
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ مُتَعَمِّدًا حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کی نماز عصر عمداً فوت ہو جائے حتٰی کہ سورج غروب ہو جائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہو گیا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4621]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 626، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج مدلس، وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4622
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمِنْهَالِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَقَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً حَيَّةً يَرْمُونَهَا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَنَ مَنْ مَثَّلَ بِالْبَهَائِمِ".
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا گزر ہوا دیکھا کہ کچھ نوجوانوں نے ایک زندہ مرغی کو باندھ رکھا ہے اور اس پر نشانہ درست کر رہے ہیں اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو جانور کا مثلہ کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4622]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4623
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَيَنْظُرُ فِي مُلْكِ أَلْفَيْ سَنَةٍ، يَرَى أَقْصَاهُ كَمَا يَرَى أَدْنَاهُ، يَنْظُرُ فِي أَزْوَاجِهِ وَخَدَمِهِ، وَإِنَّ أَفْضَلَهُمْ مَنْزِلَةً لَيَنْظُرُ فِي وَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں سب سے کم درجے کا آدمی دو ہزار سال کے فاصلے پر پھیلی ہوئی مملکت کے آخری حصے کو اس طرح دیکھے گا، جیسے اپنے قریب کے حصے کو دیکھتا ہو گا اور اس پورے علاقے میں اپنی بیویوں اور خادموں کو بھی اسی طرح دیکھتا ہو گا جب کہ سب سے افضل درجے کا جنتی روزانہ دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے والا ہو گا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4623]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ثوير بن فاختة ضعفه ابن معين وأبو زرعة وأبو حاتم والنسائي وابن عدي وغيرهم، وقال الدارقطني علي بن الجنيد: متروك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4624
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَذْنَبْتُ ذَنْبًا كَبِيرًا، فَهَلْ لِي تَوْبَةٌ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَكَ وَالِدَانِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَلَكَ خَالَةٌ"، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَبِرَّهَا إِذَنْ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ سے ایک بہت بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہے کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش اور کوئی صورت ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تمہارے والدین ہیں؟“ اس نے کہا: نہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالہ کے متعلق پوچھا، اس نے کہا: وہ ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور ان سے حسن سلوک کرو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4624]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں