مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 4975
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيَّ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم میں سے کسی کا پیٹ قے سے بھر جانا اس بات کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4975]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6154.
حدیث نمبر: 4976
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ" فَصَّ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگوٹھی کا نگینہ ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4976]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي.
حدیث نمبر: 4977
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ سَالِمًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ عِنْدَ 60 الْكَعْبَةِ 60، مِمَّا يَلِي وَجْهَهَا، رَجُلًا آدَمَ سَبْطَ الرَّأْسِ، وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى رَجُلَيْنِ، يَسْكُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ رَأْسُهُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، أَوْ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ، وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْمَرَ أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى، جَعْدَ الرَّأْسِ، أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنُ قَطَنٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے ایک مرتبہ خواب میں خانہ کعبہ کے پاس گندمی رنگ اور سیدھے بالوں والے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنا ہاتھ دو آدمیوں پر رکھا ہوا تھا، اس کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ پتہ چلا کہ یہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں پھر ان کے پیچھے میں نے سرخ رنگ کے، گھنگریالے بالوں والے دائیں آنکھ سے کانے اور میری دید کے مطابق ابن قطن سے انتہائی مشابہہ شخص کو دیکھا میں نے پوچھا یہ کون ہے تو پتہ چلا کہ یہ مسیح دجال ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4977]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3439، م: 169.
حدیث نمبر: 4978
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، سَمِعْتُ سَالِمًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَّةِ إِسْتَبْرَقٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ تَلْبَسَهَا إِذَا قَدِمَ عَلَيْكَ وُفُودُ النَّاسِ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ"، ثُمَّ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ ثَلَاثٍ، فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ، وَإِلَى عَلِيٍّ بِحُلَّةٍ، وَإِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ بِحُلَّةٍ، فَأَتَى عُمَرُ رضي الله عنه بِحُلَّتِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ، وَقَدْ سَمِعْتُكَ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ؟ قَالَ:" إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا أَوْ تُشَقِّقَهَا لِأَهْلِكَ خُمُرًا"، قَالَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ: وَأَتَاهُ أُسَامَةُ وَعَلَيْهِ الْحُلَّةُ، فَقَالَ:" إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا"، مَا أَدْرِي أَقَالَ لِأُسَامَةَ:" تُشَقِّقُهَا خُمُرًا" أَمْ لَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ فِي حَدِيثِهِ: أَنَّهُ سَمِعَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: وَجَدَ عُمَرُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی جوڑا فروخت ہوتے ہوئے دیکھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے کہ اگر آپ اسے خرید لیتے تو وفود کے سامنے پہن لیا کرتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو“، چند دن بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے چند ریشمی حلے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک جوڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بھجوا دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ آپ نے خود ہی تو اس کے متعلق وہ بات فرمائی تھی جو میں نے سنی تھی اور اب آپ ہی نے مجھے یہ ریشمی جوڑا بھیج دیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں یہ اس لئے بھجوایا ہے کہ تم اسے فروخت کر کے اس کی قیمت اپنے استعمال میں لے آؤ یا اپنے گھر والوں کو اس کے دوپٹے بنا دو۔“ اسی طرح سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے وہ ریشمی جوڑا پہن رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ تمہیں پہننے کے لئے نہیں بھجوایا تھا، میں نے تو اس لئے بھجوایا تھا کہ تم اسے فروخت کر دو“ یہ مجھے معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا یا نہیں کہ اپنے گھر والوں کو اس کے دوپٹے بنا دو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4978]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 948، م: 2068.
حدیث نمبر: 4979
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: وَأَتَاهُ أُسَامَةُ وَقَدْ لَبِسَهَا، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: أَنْتَ كَسَوْتَنِي، قَالَ:" شَقِّقْهَا بَيْنَ نِسَائِكَ خُمُرًا، أَوْ اقْضِ بِهَا حَاجَتَكَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشمی لباس پہن کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہی نے تو مجھے پہنایا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پھاڑ کر اپنی عورتوں کے درمیان دوپٹے تقسیم کر دو یا اپنی ضرورت پوری کر لو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4979]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5841، م: 2068 .
حدیث نمبر: 4980
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ ، سَمِعْتُ سَالِمًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ، أَوْ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ، وَيَقُولُ:" ها، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، هَا، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، هَا، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، مِنْ حَيْثُ يُطْلِعُ الشَّيْطَانُ قَرْنَيْهِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور تین مرتبہ فرمایا: ”فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4980]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2905 .
حدیث نمبر: 4981
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْيدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ يُخْبِرُ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مہینہ ٢٩ کا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4981]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1907، م: 1080.
حدیث نمبر: 4982
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ ، فَكَانَ" يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ هَاهُنَا وَهَاهُنَا، فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
عبدالرحمن بن سعد رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، وہ سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت ہو میں نے ایک مرتبہ ان سے اس کے متعلق پوچھا، تو وہ فرمانے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4982]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700.
حدیث نمبر: 4983
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَمَلَ ثَلَاثًا مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ، وَمَشَى أَرْبَعًا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل اور باقی چاروں میں اپنی رفتار معمول کے مطابق رکھی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4983]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1617، م: 1261.
حدیث نمبر: 4984
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ مِنْ أُحُدٍ، فَجَعَلَتْ نِسَاءُ 61 الْأَنْصَارِ 61 يَبْكِينَ عَلَى مَنْ قُتِلَ مِنْ أَزْوَاجِهِنَّ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلَكِنْ حَمْزَةُ لَا بَوَاكِيَ لَهُ"، قَالَ: ثُمَّ نَامَ، فَاسْتَنْبَهَ وَهُنَّ يَبْكِينَ، قَالَ:" فَهُنَّ الْيَوْمَ إِذًا يَبْكِينَ يَنْدُبْنَ بِحَمْزَةَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد سے واپس ہوئے، تو انصار کی عورتیں اپنے اپنے شہید ہونے والے شوہروں پر رونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حمزہ کے لئے کوئی رونے والی نہیں ہے؟“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ لگ گئی بیدار ہوئے تو وہ خواتین اسی طرح رو رہی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آج حمزہ کا نام لے کر روتی ہی رہیں گی۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4984]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن.