مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 5581
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْ عَلِمَ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا أَعْلَمُ، مَا سَرَى رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کا نقصان معلوم ہو جائے تو رات کے وقت کوئی بھی تنہاسفر نہ کرے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5581]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2998 .
حدیث نمبر: 5582
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَارِقٍ أَبُو قُرَّةَ الزَّبِيدِيُّ ، مِنْ أَهْلِ زَبِيدٍ، مِنْ أَهْلِ الْحُصَيْبِ بِالْيَمَنِ قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: وَكَانَ قَاضًّيا لَهُمْ، عَنْ مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَّعَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے درخت کٹوا کر انہیں آگ لگا دی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5582]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3021، م: 1746 .
حدیث نمبر: 5583
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ" يَجْعَلُ فَصَّ خَاتَمِهِ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگوٹھی کا نگینہ ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5583]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5865، م: 291 .
حدیث نمبر: 5584
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى غُفْرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسٌ، ومَجُوسُ أُمَّتِي الَّذِينَ يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ، إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر امت کے مجوسی ہوئے ہیں اور میری امت کے مجوسی قدریہ (منکر ین تقدیر) ہیں اگر یہ بیمار ہوں تو تم ان کی عیادت کو نہ جاؤ اور اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شرکت نہ کرو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5584]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عمر بن عبدالله مولي غفرة ضعفه ابن معين ، وقال : لم يسمع من أحد من أصحاب النبي ، وقال أحمد: أكثر أحاديثه مراسيل
حدیث نمبر: 5585
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہاہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے، اگر وہ باز نہ آئے تو اس سے لڑے کیونکہ اس کے ساتھ اس کا ہم نشین (شیطان) ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5585]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 506، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 5586
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ مَاتَ، فَأَرَادُوا أَنْ يُخْرِجُوهُ مِنَ اللَّيْلِ لِكَثْرَةِ الزِّحَامِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِنْ أَخَّرْتُمُوهُ إِلَى أَنْ تُصْبِحُوا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بِقَرْنِ شَيْطَانٍ".
حفص بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ جب عبدالرحمن بن زید بن خطاب کا انتقال ہوا تو لوگوں نے رات ہی کو انہیں تدفین کے لئے لے جانا چاہا کیونکہ رش بہت زیادہ ہو گیا تھا, سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ اگر صبح ہونے تک رک جاؤ تو اچھا ہے کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سورج شیطان کے سینگ کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5586]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح .
حدیث نمبر: 5587
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ مَنْزِلهِ، فَمَرَرْنَا بِفِتْيَانٍ مِنْ قُرَيْشٍ، نَصَبُوا طَيْرًا يَرْمُونَهُ، وَقَدْ جَعَلُوا لِصَاحِبِ الطَّيْرِ كُلَّ خَاطِئَةٍ مِنْ نَبْلِهِمْ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : مَنْ فَعَلَ هَذَا؟ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَعَنَ مَنْ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا".
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ان کے گھر سے نکلا، ہمارا گزر قریش کے کچھ نوجوانوں پر ہوا جنہوں نے ایک پرندہ کو باندھ رکھا تھا اور اس پر اپنا نشانہ درست کر رہے تھے اور پرندے کے مالک سے کہہ رکھا تھا کہ جو تیر چوک جائے وہ تمھارا ہوگا، اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غصے میں آ گئے اور فرمانے لگے یہ کون کر رہا ہے؟ اسی وقت سارے نوجوان دائیں بائیں ہو گئے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو کسی جاندارچیز کو باندھ کر اس پر نشانہ درست کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5587]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5515، م: 1958 .
حدیث نمبر: 5588
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُضَمِّرُ الْخَيْلَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ دور کا مقابلہ کروایا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5588]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبى ليلى .
حدیث نمبر: 5589
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ:" نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ"، قَالَتْ: إِنَّهَا حَائِضٌ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ فِي كَفِّكِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے مسجد سے چٹائی پکڑانا“، وہ کہنے لگیں کہ وہ ایام سے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5589]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، فيه ابن أبى ليلى سيء الحفظ .
حدیث نمبر: 5590
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يُصَلِّي فِي السَّفَرِ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَتَهَجَّدُ مِنَ اللَّيْلِ"، قال: وكان ابن عمر لا يصلي في إلا ركعتين، غير أنه كان يتجهد من الليل، قَالَ جَابِرٌ: فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: كَانَا يُوتِرَانِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں دو رکعت نماز ہی پڑھتے تھے، البتہ رات کو تہجد پڑھ لیا کرتے تھے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے سالم رحمہ اللہ سے پوچھا کیا وہ دونوں وتر پڑھتے تھے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5590]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي .