🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5651
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُلْتَمِسًا، فَلْيَلْتَمِسْ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، وَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ أَوْ غُلِبَ، فَلَا يُغْلَبْ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شب قدر کو تلاش کرنے والا اسے آخری عشرے میں تلاش کرے، اگر اس سے عاجز آ جائے یا کمزور ہو جائے تو آخری سات راتوں پر مغلوب نہ ہو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5651]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2015، م: 1165 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5652
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" نَهَى عَنْ تَلَقِّي السِّلَعِ حَتَّى يُهْبَطَ بِهَا الْأَسْوَاقُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بازار میں سامان پہنچنے سے پہلے تاجروں سے ملنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5652]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2165، م: 1517.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5653
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا مَرَّ عَلَيْهِ وَهُمْ فِي طَرِيقِ الْحَجِّ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: أَلَسْتَ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَانْطَلَقَ إِلَى حِمَارٍ كَانَ يَسْتَرِيحُ عَلَيْهِ إِذَا مَلَّ رَاحِلَتَهُ، وَعِمَامَةٍ كَانَ يَشُدُّ بِهَا رَأْسَهُ، فَدَفَعَهَا إِلَى الْأَعْرَابِيِّ، فَلَمَّا انْطَلَقَ، قَالَ لَهُ بَعْضُنَا: انْطَلَقْتَ إِلَى حِمَارِكَ الَّذِي كُنْتَ تَسْتَرِيحُ عَلَيْهِ، وَعِمَامَتِكَ الَّتِي كُنْتَ تَشُدُّ بِهَا رَأْسَكَ، فَأَعْطَيْتَهُمَا هَذَا الْأَعْرَابِيَّ، وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا يَرْضَى بِدِرْهَمٍ! قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ، صِلَةُ الْمَرْءِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ".
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرا، وہ حج کے لئے جا رہے تھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس دیہاتی سے پوچھا کہ کیا آپ فلاں بن فلاں نہیں ہیں؟ اس نے کہا کیوں نہیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے گدھے کے پاس آئے، جب آپ اپنی سواری سے اکتا جاتے تو اس پر آرام کرتے تھے اور اپناعمامہ لیا جس سے وہ اپنے سر پر پگڑی باندھا کرتے تھے اور یہ دونوں چیزیں اس دیہاتی کو دے دیں، جب وہ چلا گیا تو ہم میں سے کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اپنا گدھا جس پر آپ آرام کیا کرتے تھے اور وہ عمامہ جسے آپ اپنے سر پر باندھتے تھے، اس دیہاتی کو دے دیئے جب کہ وہ تو ایک درہم سے بھی خوش ہو جاتا؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے والد کے مرنے کے بعد اس کے دوستوں سے صلہ رحمی کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5653]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2552.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5654
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زکوٰۃ وصول کر نے والے کا کچھ دور قیام کر کے زکوٰۃ دینے والوں کو بلانا یا زکوٰۃ دینے والوں کا زکوٰۃ وصول کر نے والے کو اپنے حکم سے آگے پیچھے کرنا صحیح نہیں ہے اور وٹے سٹے کے نکاح کی اسلام میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5654]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري، وأما الشطر الأول منه فله شواهد تصححه .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5655
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُرَادٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حَمَى النَّقِيعَ لِخَيْلِهِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھوڑوں کی چراگاہ نقیع کو بنایا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5655]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري، وقد توبع .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5656
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُرَادٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" سَبَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْخَيْلِ، وَأَعْطَى السَّابِقَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ دوڑ کا مقابلہ منعقد کروایا اور جیتنے والے کو انعام دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5656]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عمر العمري، وقد سلف بنحوه برقم: 5348، بإسناد صحيح .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5657
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُرَادٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَجْلِسُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دونوں خطبوں کے درمیان ذرا سا وقفہ کر کے بیٹھ جاتے تھے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5657]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، عبد الله بن عمر العمري- وإن كان ضعيفا- قد توبع .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5658
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ،" أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ میں ایک مقتول عورت کو دیکھا تو اس پر نکیر فرمائی اور عورتوں اور بچوں کو قتل کر نے سے روک دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5658]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3014، م: 1744.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5659
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْتَقْبِلٌ الْمَشْرِقَ يَقُولُ:" أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ”جبکہ ان کا رخ مشرق کی جانب تھا“ یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آگاہ رہو، فتنہ یہاں سے ہو گا، فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5659]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7093، م: 2905.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5660
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5660]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، فيه شريك سيء الحفظ.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں