🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5671
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَقِيلٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ يَزِيدَ الثُّمَالِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَجْلَانِ الْمُحَارِبِيُّ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الْكَافِرَ لَيَجُرُّ لِسَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَرَاءَهُ قَدْرَ فَرْسَخَيْنِ، يَتَوَطَّؤُهُ النَّاسُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن کافر اپنی زبان اپنے پیچھے دو فرسخ کی مسافت تک کھینچ رہا ہو گا اور لوگ اسے روند رہے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5671]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، أبو العجلان المحاربي مجهول.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5672
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، عَنْ بَرَكَةَ بْنِ يَعْلَى التَّيْمِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سُوَيْدٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ: أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ ، فَجَلَسْنَا بِبَابِهِ لِيُؤْذَنَ لَنَا، قال: فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا الْإِذْنُ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَى جُحْرٍ فِي الْبَابِ، فَجَعَلْتُ أَطَّلِعُ فِيهِ، فَفَطِنَ بِي، فَلَمَّا أَذِنَ لَنَا جَلَسْنَا، فَقَالَ: أَيُّكُمْ اطَّلَعَ آنِفًا فِي دَارِي؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: بِأَيِّ شَيْءٍ اسْتَحْلَلْتَ أَنْ تَطَّلِعَ فِي دَارِي؟! قَالَ: قُلْتُ: أَبْطَأَ عَلَيْنَا الْإِذْنُ، فَنَظَرْتُ، فَلَمْ أَتَعَمَّدْ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ"، قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا تَقُولُ فِي الْجِهَادِ؟ قَالَ: مَنْ جَاهَدَ، فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ.
ابوسوید عبدی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گھر کے دروازے پر اجازت کے انتظار میں بیٹھ گئے، جب اجازت ملنے میں دیر ہونے لگی تو میں نے ان کے گھرکے دروازے میں ایک سوراخ سے جھانکنا شروع کر دیا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو پتہ چل گیا، چنانچہ جب ہمیں اجازت ملی اور ہم اندر جا کر بیٹھ گئے، تو انہوں نے فرمایا کہ ابھی ابھی تم میں سے کس نے گھر میں جھانک کر دیکھا تھا؟ میں نے اقرار کیا، انہوں نے فرمایا کہ تمہارے لئے میرے گھر میں جھانکنا کیونکر حلال ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ جب ہمیں اجازت ملنے میں تاخیر ہوئی تب میں نے دیکھا تھا اور وہ بھی جان بوجھ کر نہیں۔ اس کے بعد ساتھیوں نے ان سے کچھ سوالات کئے انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے، اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا، میں نے عرض کیا کہ اے ابوعبدالرحمن! جہاد کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا: جو شخص مجاہدہ کرتا ہے وہ اپنے لئے کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5672]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة بركة بن يعلى التيمي، وشيخه أبى سويد العبدي .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5673
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَسْتَسْقِي، فَمَا يَنْزِلُ حَتَّى يَجِيشَ كُلُّ مِيزَابٍ"، وَأَذْكُرُ قَوْلَ الشَّاعِرِ: وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِه ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر بیٹھ کر طلب باران کر رہے ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اترنے سے پہلے ہی سارے نالے بہنے لگتے، اس وقت جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ زیبا کو دیکھتا تو مجھے شاعر کا یہ شعر یاد آتا۔ وہ سفید رنگت والا جس کی ذات کو واسطہ بنا کر بادلوں سے پانی برسنے کی دعاء کی جاتی ہے اور وہ شخص جو یتیموں کا فریاد رس اور بیواؤں کا محافظ ہے، یاد رہے کہ یہ ابو طالب کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کہا گیا شعر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5673]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عمر بن حمزة بن عبد الله ابن عمر.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5674
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ، صَالِحُ الْحَدِيثِ، ثِقَةٌ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا، اللَّهُمَّ الْعَنِ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ الْعَنْ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو، اللَّهُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ"، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128، قَالَ: فَتِيبَ عَلَيْهِمْ كُلِّهِمْ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ بددعاء کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ! فلاں پر لعنت نازل فرما، اے اللہ! حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو اور صفوان بن امیہ پر اپنی لعنت نازل فرما، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی طرف متوجہ ہو جائے یا انہیں سزا دے کہ یہ ظالم ہیں، چنانچہ ان سب پر اللہ کی توجہ مبذول ہوئی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5674]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمر بن حمزة .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5675
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، وَأَنَا جَالِسٌ، فَسَأَلَهُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ، فَقَالَ لَهُ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالَ: هَا، انْظُرُوا إِلَى هَذَا! يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ هُمَا رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا"!!.
ابن ابی نعم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی آدمی نے میری موجودگی میں یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر محرم کسی مکھی کو مار دے تو کیا حکم ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے پوچھا تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا عراق کا، انہوں نے فرمایا: واہ! اسے دیکھو، یہ اہل عراق آ کر مجھ سے مکھی مارنے کی بارے میں پوچھ رہے ہیں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو (کسی سے پوچھے بغیر ہی) شہید کر دیا، حالانکہ میں نے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں نواسوں کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ دونوں میری دنیا کے ریحان ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5675]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5994.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5676
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ نَزَعَ يَدَهُ مِنَ الطَّاعَةِ، فَلَا حُجَّةَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ مَاتَ مُفَارِقًا لِلْجَمَاعَةِ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صحیح حکمران وقت کی اطاعت سے ہاتھ کھینچتا ہے، قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہو گی اور جو شخص جماعت کو چھوڑ کر مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5676]

الحكم على الحديث:
إسناده قوي .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5677
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خلافت اس وقت تک قریش میں رہے گی جب تک دو آدمی (متفق و متحد) رہیں گے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5677]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 350، م: 1820 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5678
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى فِي النَّاسِ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ، فَانْطَلَقَ إِلَى أَهْلِهِ جَوَادًا، فَأَلْقَى ثِيَابًا كَانَتْ عَلَيْهِ، وَلَبِسَ ثِيَابًا كَانَ يَأْتِي فِيهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْمُصَلَّى، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ انْحَدَرَ مِنْ مِنْبَرِهِ، وَقَامَ النَّاسُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: مَا أَحْدَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ؟ قَالُوا:" نَهَى عَنِ النَّبِيذِ، قَالَ: أَيُّ النَّبِيذِ؟ قَالَ: نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ"، قَالَ: فَقُلْتُ لِنَافِعٍ فَالْجَرَّةُ؟ قَالَ: وَمَا الْجَرَّةُ؟ قَالَ: قُلْتُ: الْحَنْتَمَةُ، قَالَ: وَمَا الْحَنْتَمَةُ؟ قُلْتُ: الْقُلَّةُ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَالْمُزَفَّتُ؟ قَالَ: وَمَا الْمُزَفَّتُ؟ قُلْتُ: الزِّقُّ يُزَفَّتُ، وَالرَّاقُودُ يُزَفَّتُ، قَالَ: لَا، لَمْ يَنْهَ يَوْمَئِذٍ إِلَّا عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں الصلوة جامعة کی منادی کروائی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو پتہ چلا تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے گھر پہنچے، جو کپڑے پہن رکھے تھے وہ اتارے کیونکہ وہ ان کپڑوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ جاتے تھے اور دوسرے کپڑے بدل کر مسجد کی طرف چل پڑے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اتر رہے تھے اور لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے تھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے پوچھا کہ آج نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نیا حکم دیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیذ کی ممانعت کر دی ہے، انہوں نے پوچھا: کون سی نبیذ؟ لوگوں نے بتایا کدو اور لکڑی میں تیار کی جانے والی۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے نافع رحمہ اللہ سے پوچھا جرہ کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا جرہ کیا چیز ہوتی ہے؟ میں نے کہا حنتمہ، انہوں نے پوچھا حنتمہ کیا چیز ہوتی ہے؟ میں نے کہا مٹکا، انہوں نے فرمایا: اس کی ممانعت نہیں فرمائی، میں نے پوچھا مزفت کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے پوچھا مزفت کیا چیز ہوتی ہے؟ میں نے بتایا کہ ایک مشکیزہ ہوتا ہے جس پر لک مل دی جاتی ہے، انہوں نے فرمایا: اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف کدو اور لکڑی کے برتن سے منع فرمایا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5678]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1997.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5679
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا هَؤُلَاءِ،" أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ؟" قَالُوا: بَلَى، نَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ:" أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ؟" قَالُوا: بَلَى، نَشْهَدُ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَكَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَأَنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتَكَ، قَالَ:" فَإِنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ أَنْ تُطِيعُونِي وَإِنَّ مِنْ طَاعَتِي أَنْ تُطِيعُوا أَئِمَّتَكُمْ، أَطِيعُوا أَئِمَّتَكُمْ، فَإِنْ صَلَّوْا قُعُودًا فَصَلُّوا قُعُودًا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن وہ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا: ”اے لوگو! کیا تم نہیں جانتے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا پیغمبر بن کر آیا ہوں؟“ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے پیغمبر ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس نوعیت کا حکم نازل فرمایا ہے کہ جو میری اطاعت کرے گا گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی؟“ لوگوں نے عرض کیا، کیوں نہیں، ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جو شخص آپ کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے، آپ کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہ بھی اللہ کی اطاعت کا حصہ ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور یہ میری اطاعت کا حصہ ہے کہ تم اپنے ائمہ کی اطاعت کرو، اپنے ائمہ کی اطاعت کیا کرو، اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5679]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5680
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْمَسْأَلَةُ كُدُوحٌ فِي وَجْهِ صَاحِبِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ شاء فَلْيَسْتَبْقِ عَلَى وَجْهِهِ، وَأَهْوَنُ الْمَسْأَلَةِ مَسْأَلَةُ ذِي الرَّحِمِ، تَسْأَلُهُ فِي حَاجَةٍ، وَخَيْرُ الْمَسْأَلَةِ الْمَسْأَلَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مانگنے والے کے چہرے پر قیامت کے دن خراشیں ہوں گی اس لئے جو چاہے اپنے چہرے کو بچا لے، سب سے ہلکا سوال قریبی رشتہ دار سے سوال کرنا ہے جو اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے کوئی شخص کرے اور بہترین سوال وہ ہے جو دل کے استغناء کے ساتھ ہو اور تم دینے میں ابتداء ان لوگوں سے کرو جن کے تم ذمہ دار ہو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5680]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں