مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 6189
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ كلاهما حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: وَلَقَدْ كُنْتُ مَعَهُمَا فِي الْمَجْلِسِ، وَلَكِنِّي كُنْتُ صَغِيرًا فَلَمْ أَحْفَظْ الْحَدِيثَ , قَالَا: سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْوِتْرُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ أَنْ تُجْعَلَ آخِرَ صَلَاةِ اللَّيْلِ الْوَتْرُ.
محمد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور سلیمان بن یسار دونوں نے ان سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث ذکر کی ہے گو کہ اس مجلس میں ان دونوں کے ساتھ میں بھی موجود تھا لیکن میں چھوٹا بچہ تھا اس لئے اسے یاد نہ رکھ سکا کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے وتروں کے متعلق دریافت کیا؟ اور پوری حدیث ذکر کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی آخری نماز وتر کو بنانے کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6189]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 998، م: 751، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 6190
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الْوَتْرِ , قَالَ: أَمَّا أَنَا فَلَوْ أَوْتَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ، ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ بِاللَّيْلِ، شَفَعْتُ بِوَاحِدَةٍ مَا مَضَى مِنْ وِتْرِي، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا قَضَيْتُ صَلَاتِي أَوْتَرْتُ بِوَاحِدَةٍ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ أَنْ يُجْعَلَ آخِرَ صَلَاةِ اللَّيْلِ الْوَتْرُ".
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب وتر کے متعلق سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے کہ میں تو اگر سونے سے پہلے وتر پڑھنا چاہوں پھر رات کی نماز کا ارادہ بھی بن جائے تو میں وتر کی پڑھی گئی رکعت کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لیتاہوں پھر دو دو رکعتیں پڑھتا رہتا ہوں جب نماز مکمل کر لیتاہوں تو دو رکعتوں کے ساتھ ایک رکعت کو ملا کرو تر پڑھ لیتا ہوں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی آخری نماز وتر کو بنانے کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6190]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح، خ: 998، م: 751 .
حدیث نمبر: 6191
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَهُمْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَبْعَثُ عَلَيْهِمْ إِذَا ابْتَاعُوا مِنَ الرُّكْبَانِ الْأَطْعِمَةَ مَنْ يَمْنَعُهُمْ أَنْ يَتَبَايَعُوهَا حَتَّى يُؤْوُوا إِلَى رِحَالِهِمْ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب لوگ سواروں سے کوئی سامان خریدتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس کچھ لوگوں کو بھیجتے تھے جو انہیں اس بات سے منع کرتے تھے کہ اسی جگہ کھڑے کھڑے اسے کسی اور کے ہاتھ فروخت کر دیں جب تک کہ اسے اپنے خیمے میں نہ جائیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6191]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن .
حدیث نمبر: 6192
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ: يَلَمْلَمَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لئے یلملم کو میقات فرمایا:۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6192]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7344 .
حدیث نمبر: 6193
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) میں سے ہر ایک کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں یا یہ کہ وہ بیع خیار ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6193]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2113 .
حدیث نمبر: 6194
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، عَنْ أَبِي حَنْظَلَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ السَّفَرِ، فَقَالَ: رَكْعَتَيْنِ , قَالَ: قُلْتُ: فَأَيْنَ قَوْلُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: فَإِنْ خِفْتُمْ سورة البقرة آية 229، وَنَحْنُ آمِنُونَ؟ قَالَ: سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: كَذَاكَ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوحنظلہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سفر کی نماز کے متعلق دریافت کیا انہوں نے فرمایا: کہ سفر میں نماز کی دو رکعتیں ہیں ہم نے کہا کہ اب تو ہر طرف امن وامان ہے جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر تمہیں خوف ہو؟ فرمایا: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6194]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل أبى حنظلة .
حدیث نمبر: 6195
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا أَبُو شُعْبَةَ الطَّحَّانُ جَارُ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي جَنَازَةٍ، فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانٍ يَصِيحُ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ، فَأَسْكَتَهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لِمَ أَسْكَتَّهُ؟ قَالَ:" إِنَّهُ يَتَأَذَّى بِهِ الْمَيِّتُ حَتَّى يُدْخَلَ قَبْرَهُ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أُصَلِّي مَعَكَ الصُّبْحَ، ثُمَّ أَلْتَفِتُ، فَلَا أَرَى وَجْهَ جَلِيسِي، ثُمَّ أَحْيَانًا تُسْفِرُ؟ قَالَ: كَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، وَأَحْبَبْتُ أَنْ أُصَلِّيَهَا , كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا.
ابوالربیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک جنازے میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ شریک تھا، ان کے کانوں میں ایک آدمی کے چیخنے چلانے کی آواز آئی انہوں نے اس کے پاس ایک آدمی کو بھیج کر اسے خاموش کروایا میں نے ان سے پوچھا اے ابوعبدالرحمن آپ نے اسے کیوں خاموش کروایا؟ انہوں نے فرمایا: کہ جب تک مردہ قبر میں داخل نہ ہو جائے اسے اس سے اذیت ہوتی ہے میں نے ان سے پھر پوچھا کہ بعض اوقات میں آپ کے ساتھ صبح کی نماز ایسے وقت میں پڑھتا ہوں کہ سلام پھیرنے کے بعد مجھے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی کا چہرہ نظر نہیں آتا اور کبھی آپ خوب روشنی کر کے نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور مجھے یہ بات محبوب ہے کہ میں اسی طرح نماز پڑھوں جیسے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6195]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لأبي شعبة الطحان جار الأعمش، قال الدارقطني: متروك، وأبي الربيع، قال الدارقطني: مجهول .
حدیث نمبر: 6196
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , وَحَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَاهُ، عَنْ أَبِيهِمَا ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمَا , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الشُّؤْمُ فِي الْفَرَسِ، وَالدَّارِ، وَالْمَرْأَةِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نحوست تین چیزوں میں ہوسکتی تھی گھوڑے میں عورت میں اور گھر میں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6196]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 999، م: 700 .
حدیث نمبر: 6197
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي الْخَطَّابِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ شَرِبَهَا فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ شَرِبَهَا فَاجْلِدُوهُ"، فَقَالَ فِي الرَّابِعَةِ أَوْ الْخَامِسَةِ: فَاقْتُلُوهُ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوبارہ پیئے تو پھر مارو سہ بارہ پیئے تو پھر مارو اور چوتھی یا پانچویں مرتبہ فرمایا: کہ اسے قتل کر دو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6197]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف الجهالة حال حميد بن يزيد أبى الخطاب .
حدیث نمبر: 6198
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَعُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قبیلہ اسلم اللہ اسے سلامت رکھے قبیلہ غفار اللہ اس کی بخشش کرے اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6198]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2518 .