مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 6348
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَرَفَعَ أُصْبُعَهُ الْيُمْنَى الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ، فَدَعَا بِهَا، وَيَدُهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتَيْهِ، بَاسِطَهَا عَلَيْهَا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کو بلند کر لیتے اور دعاء فرماتے اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر بچھا کر رکھتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6348]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 580
حدیث نمبر: 6349
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ , قَالَ:" رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ" ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا دَعَا عَلَى نَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر کی دوسری رکعت میں رکوع سے سر اٹھا کر ربناولک الحمد کہنے کے بعد ایک مرتبہ یہ بدعاء کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ فلاں پر لعنت نازل فرما اور چند منافقین کا نام لیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی طرف متوجہ ہو جائے یا انہیں سزادے کہ یہ ظالم ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6349]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6350
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنَ الْفَجْرِ , يَقُولُ:" اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا"، بَعْدَمَا يَقُولُ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ"، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر کی دوسری رکعت میں رکوع سے سر اٹھا کر ربنا ولک الحمد کہنے کے بعد ایک مرتبہ یہ بدعاء کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ فلاں پر لعنت نازل فرما اور چند منافقین کا نام لیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی طرف متوجہ ہو جائے یا انہیں سزا دے کہ یہ ظالم ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6350]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4069
حدیث نمبر: 6351
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا، وَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ، وَجَاءَ أُولَئِكَ، فَصَلَّى بِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَضَى هَؤُلَاءِ رَكْعَةً، وَهَؤُلَاءِ رَكْعَةً".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلوۃ الخوف اس طرح پڑھائی ہے کہ ایک گروہ کو اپنے پیچھے کھڑا کر کے ایک رکوع اور دو سجدے کروائے دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جس گروہ نے ایک رکعت پڑھی تھی وہ چلا گیا اور دوسرا گروہ آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے کروائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا اس کے بعد دونوں گروہوں کے ہر آدمی نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک رکعت پڑھ لی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6351]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4133، م: 839
حدیث نمبر: 6352
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بِمِنًى، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ، ثُمَّ صَلَّاهَا أَرْبَعًا.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منٰی میں عشاء کی دو رکعتیں پڑھی ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی ایام خلافت میں بھی ان کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں بعد میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسے مکمل کر نے لگے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6352]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 694
حدیث نمبر: 6353
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ نَجِدُ صَلَاةَ الْخَوْفِ وَصَلَاةَ الْحَضَرِ فِي الْقُرْآنِ وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ الْمُسَافِرِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ بَعَثَ اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَجْفَى النَّاسِ فَنَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبدالرحمن بن امیہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ قرآن کریم میں ہمیں نماز خوف اور حضر کی نماز کا تذکر ہ تو ملتا ہے لیکن سفر کی نماز کا تذکر ہ نہیں ملتا (اس کے باوجود سفر میں نماز قصر کی جاتی ہے؟) انہوں نے فرمایا: ”کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت مبعوث فرمایا: ”ہم کچھ نہیں جانتے تھے ہم تو وہ یہ کر یں گے جیسے ہم نے انہیں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6353]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 6354
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجِلَ فِي السَّيْرِ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر کی جلدی ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کے درمیان جمع صوری فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6354]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1805
حدیث نمبر: 6355
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھا کرو اور جب صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ بطور وتر کے ایک رکعت اور ملا لو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6355]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 473، م: 749
حدیث نمبر: 6356
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ عَنْ عُمَرَ ، قَدْ اسْتَيْقَنَ نَافِعٌ الْقَائِلَ، قَدْ اسْتَيْقَنْتُ أَنَّهُ أَحَدُهُمَا، وَمَا أُرَاهُ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَشْتَمِلْ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ اشْتِمَالَ الْيَهُودِ، لِيَتَوَشَّحْ، مَنْ كَانَ لَهُ ثَوْبَانِ فَلْيَأْتَزِرْ وَلْيَرْتَدِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ ثَوْبَانِ فَلْيَأْتَزِرْ، ثُمَّ لِيُصَلِّ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص یہودیوں کی طرح نماز میں اشتمال نہ کرے بلکہ توشیح کرے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ جس شخص کے پاس دو کپڑے ہوں وہ ایک تہبند اور دوسرے کو چادر بنا لے اور جس کے پاس دو کپڑے نہ ہوں بلکہ ایک ہی کپڑا ہو تو وہ اسے تہبند بنا کر نماز پڑھ لے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6356]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، لكن روي مرفوعا وموقوفا، و رجح الطحاوي و قفه
حدیث نمبر: 6357
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، المعنى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ، فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ، وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بِلَالُ، قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مسلمان جب مدینہ منورہ میں آئے تھے تو اس وقت نماز کے لئے اذان نہ ہوتی تھی بلکہ لوگ اندازے سے ایک وقت میں جمع ہوجاتے تھے ایک دن انہوں نے اس موضوع پر گفتگو کی اور بعض لوگ کہنے لگے کہ دوسروں کو اطلاع دینے کے لئے ناقوس بنا لیا جائے جیسے نصاریٰ کے یہاں ہوتا ہے بعض کہنے لگے کہ یہودیوں کے بگل کی طرح ایک بگل بنا لینا چاہئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ آپ لوگ ایسا کیوں نہیں کرتے کہ کسی آدمی کو بھیج کر نماز کی منادی کروادیا کر یں؟ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بلال اٹھو اور نماز کی منادی کر دو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6357]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 604، م: 377