🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6338
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ، إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کر نے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہو گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6338]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6288، م: 2183
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6339
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى عُطَارِدًا يَبِيعُ حُلَّةً مِنْ دِيبَاجٍ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُ عُطَارِدًا يَبِيعُ حُلَّةً مِنْ دِيبَاجٍ، فَلَوْ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا لِلْوُفُودِ وَلِلْعِيدِ وَلِلْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ"، حَسِبْتُهُ قَالَ:" فِي الْآخِرَةِ"، قَالَ: ثُمَّ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَلٌ مِنْ سِيَرَاءَ حَرِيرٍ، فَأَعْطَى عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ حُلَّةً، وَأَعْطَى أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حُلَّةً، وَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِحُلَّةٍ، وَقَالَ لِعَلِيٍّ:" شَقِّقْهَا بَيْنَ النِّسَاءِ خُمُرًا"، وَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِعْتُكَ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِحُلَّةٍ؟ فَقَالَ:" إِنِّي لَمْ أُرْسِلْهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَلَكِنْ لِتَبِيعَهَا"، فَأَمَّا أُسَامَةُ فَلَبِسَهَا، فَرَاحَ فِيهَا، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى أُسَامَةُ يُحَدَّدُ إِلَيْهِ الطَّرْفَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَسَوْتَنِيهَا؟ قَالَ:" شَقِّقْهَا بَيْنَ النِّسَاءِ خُمُرًا"، أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عطارد کو کچھ ریشمی جوڑے بیچتے ہوئے دیکھا تو بارگارہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے عطارد کو ریشمی جوڑے بیچتے ہوئے دیکھا ہے اگر آپ اس میں سے ایک جوڑا خرید لیتے تو وفود کے سامنے اور عید اور جمعہ کے موقع پر پہن لیتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا کوئی آخرت میں حصہ نہ ہو۔ کچھ عرصے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے کچھ ریشمی جوڑے آگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک جوڑا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کودے دیا ایک سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کودے دیا اور ایک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اسے پھاڑ کر اس کے دوپٹے عورتوں میں تقسیم کر دو اسی اثنا میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر کہنے لگے یا رسول اللہ! میں نے ریشم کے متعلق آپ کو جو فرماتے ہوئے سنا تھا وہ آپ ہی نے فرمایا: ”تھا اور پھر آپ ہی نے مجھے یہ جوڑا بھیج دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اسے تمہارے پاس اس لئے نہیں بھیجا کہ تم اسے پہن لو بلکہ اس لئے بھیجا ہے کہ تم اسے فروخت کر لوجب کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے وہ جوڑا پہن لیا اور باہر نکل آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تیز نظروں سے دیکھنے لگے جب سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں گھور کر دیکھ رہے ہیں تو کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ ہی نے مجھے یہ لباس پہنایا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پھاڑ کر عورتوں کے درمیان دوپٹے تقسیم کر دو یا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6339]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2068
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6340
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ زَيْدٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُحَدِّثُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَآهُ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ يَتَقَعْقَعُ يَعْنِي جَدِيدًا، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" فَقُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ:" إِنْ كُنْتَ عَبْدَ اللَّهِ، فَارْفَعْ إِزَارَكَ"، قَالَ: فَرَفَعْتُهُ، قَالَ:" زِدْ"، قَالَ: فَرَفَعْتُهُ، حَتَّى بَلَغَ نِصْفَ السَّاقِ، قَالَ: ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّهُ يَسْتَرْخِي إِزَارِي أَحْيَانًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَسْتَ مِنْهُمْ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہنبد زمین پر لٹکاتا ہے اللہ اس پر قیامت کے دن نظر رحم نہیں فرمائے گا وہ بیان کرتے تھے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اس وقت میری تہبند نیچے لٹک رہی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا عبداللہ بن عمر ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم عبداللہ ہو تو اپنی تہبند اونچی کرو چنانچہ میں نے اسے نصف پنڈلی تک چڑھا لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا: ”جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے زمین پر گھسیٹتا ہے اللہ اس پر قیامت کے دن نظر رحم نہیں فرمائے گا سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے کپڑے کا ایک کونا بعض اوقات نیچے لٹک جاتا ہے گو کہ میں کوشش تو بہت کرتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو یہ کام تکبر کی وجہ سے کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6340]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5783، م: 2085
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6341
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ مِنَ الْحَيَاءِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهُ، فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک انصاری آدمی اپنے بھائی کو حیاء کے متعلق نصیحت کر رہا تھا (کہ اتنی بھی حیاء کیا کرو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہنے دو حیاء تو ایمان کا حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6341]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6118، م: 36
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6342
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ، انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ایسا کتا رکھے جو جانوروں کی حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتاہو تو اس کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی رہے گی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6342]

الحكم على الحديث:
إسناداه صحيحان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6343
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، قَالَ:" بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ، حَتَّى إِنِّي أَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ مِنْ أَطْرَافِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ"، فَقَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْعِلْمُ".
اور نبی کریم صلی اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ خواب میں میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا میں نے اسے اتناپیا کہ میرے ناخنوں سے دودھ نکلنے لگا پھر میں نے اپنا پس خوردہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کودے دیا کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6343]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3681، م: 2391
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6344
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَذَكَرَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6344]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7007، م: 2391
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6345
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْفَعُ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَهُمَا، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ رَفَعَهُمَا، وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے وقت اپنے کندھوں کے برابر یا قریب کر کے رفع یدین کرتے تھے نیز رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی رفع یدین کرتے تھے لیکن دو سجدوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6345]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6346
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ , قَالَ:" رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو ربنا ولک الحمد کہتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6346]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6347
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْلِسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ وَهُوَ يَعْتَمِدُ عَلَى يَدَيْهِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی کو نماز میں اس طرح بیٹھنے سے منع فرمایا: ”ہے کہ وہ اپنے ہاتھ پر سہارا لگائے ہوئے ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6347]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں