مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 6667
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَتَانِ، فِي أَيْدِيهِمَا أَسَاوِرُ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَسَاوِرَ مِنْ نَارٍ؟" قَالَتَا: لَا، قَالَ:" فَأَدِّيَا حَقَّ هَذَا الَّذِي فِي أَيْدِيكُمَا".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ دو عورتیں آئیں جن کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دونوں اس بات کو پسند کر تی ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے؟ وہ کہنے لگیں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر تمہارے ہاتھوں میں جو کنگن ہیں ان کا حق ادا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6667]
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 6668
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالنَّاسُ يَتَكَلَّمُونَ فِي الْقَدَرِ، قَالَ: وَكَأَنَّمَا تَفَقَّأَ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ مِنَ الْغَضَبِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ:" مَا لَكُمْ تَضْرِبُونَ كِتَابَ اللَّهِ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ؟! بِهَذَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ"، قَالَ: فَمَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِمَجْلِسٍ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَشْهَدْهُ، بِمَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِذَلِكَ الْمَجْلِسِ، أَنِّي لَمْ أَشْهَدْهُ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف تو لوگ تقدیر کے متعلق گفتگو کر رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر غصے کے مارے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کسی نے انار نچوڑ دیا ہو اور فرمایا: ”کیا بات ہے کہ تم کتاب اللہ کے ایک حصے کو دوسرے حصے پر مارتے ہو؟ تم سے پہلی قومیں اسی وجہ سے تباہ ہوئیں مجھے کسی مجلس کے متعلق اتناخیال کبھی پیدا نہیں ہوا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہوں کہ میں اس میں حاضر نہ ہوتا تو اچھا ہوتا سوائے اس مجلس کے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6668]
الحكم على الحديث:
صحيح ، و هذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6669
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ أَطْوَلَ مِمَّا وَقَفَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْأُولَى، ثُمَّ أَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَرَمَاهَا، وَلَمْ يَقِفْ عِنْدَهَا".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ اولیٰ کی نسبت زیادہ دیر ٹھہرے رہے پھر جمرہ عقبہ پر تشریف لا کر رمی کی اور وہاں نہیں ٹھہرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6669]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 6670
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا الْتَقَتْ الْخِتَانَانِ، وَتَوَارَتْ الْحَشَفَةُ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب شرمگاہیں مل جائیں اور مرد کی شرمگاہ چھپ جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6670]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 6671
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: ذَكَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ، وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع کر نے اور ادھار سے اس چیز کی بیع سے ضمانت میں بھی داخل نہ ہوئی ہو اور اس چیز کی بیع سے " جو آپ کے پاس موجود نہ ہو " منع فرمایا: ”۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6671]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 6672
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ، فَإِنَّهُ نُورُ الْمُسْلِمِ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشِيبُ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ، وَرُفِعَ بِهَا دَرَجَةً، أَوْ حُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سفید بالوں کو مت نوچا کرو کیونکہ یہ مسلمان کا نور ہے جس مسلمان کے بال حالت میں اسلام میں سفید ہوتے ہیں اس کے ہر بال پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے یا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6672]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6673
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ مَنَعَ فَضْلَ مَائِهِ، أَوْ فَضْلَ كَلَئِهِ، مَنْعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص زائد پانی یا زائدگھاس کسی کو دینے سے روکتا ہے اللہ قیامت کے اس سے اپنا فضل روک لے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6673]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 6674
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6674]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 6675
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ، فَإِنَّهُ مَا مِنْ عَبْدٍ يَشِيبُ فِي الْإِسْلَامِ شَيْبَةً إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سفید بالوں کو مت نوچا کرو کیونکہ یہ مسلمان کا نور ہے جس مسلمان کے بال حالت میں اسلام میں سفید ہوتے ہیں اس کے ہر بال پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے یا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6675]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 6676
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ الْأَشْعَارُ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ الضَّالَّةُ، وَعَنِ الْحِلَقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خریدو فروخت اشعار کہنے گمشدہ چیزوں کا اعلان کر نے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقے لگانے سے منع فرمایا: ”ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6676]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن