مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 6687
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ،" أَنَّ قِيمَةَ الْمِجَنِّ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک ڈھال کی قیمت دس درہم تھی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6687]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ابن إسحاق مدلس وقد عنعن، وقد اختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 6688
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَمِعَهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فِي عِيدٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ تَكْبِيرَةً، سَبْعًا فِي الْأُولَى، وَخَمْسًا فِي الْآخِرَةِ، وَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا"، قال: عبد الله أحمد بن أحمد، قَالَ أَبِي: وَأَنَا أَذْهَبُ إِلَى هَذَا.
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید میں بارہ تکبیرات کہیں سات پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری میں اور اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نفل نماز نہیں پڑھی۔ عبداللہ بن احمد کہتے ہیں: میرے والد (امام احمد رحمہ اللہ) نے فرمایا: ”میں بھی اسی قول کو اختیار کرتا ہوں۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6688]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 6689
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا دَاود بْنُ سَوَّار ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُرُوا صِبْيَانَكُمْ بِالصَّلَاةِ إِذَا بَلَغُوا سَبْعًا، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا إِذَا بَلَغُوا عَشْرًا، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ"، قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: وَقَالَ الطُّفَاوِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ سَوَّارٌ أَبُو حَمْزَةَ، وَأَخْطَأَ فِيهِ.
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچوں کی عمر جب سات سال کی ہو جائے تو انہیں نماز کا حکم دو دس سال کی عمر ہوجانے پر ترک صلوۃ کی صورت میں انہیں سزا دو اور سونے کے بستر الگ کر دو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6689]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 6690
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي خُطْبَتِهِ، وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ:" لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے ساتھ اپنی پشت کی ٹیک لگائے ہوئے دوران خطبہ ارشاد فرمایا: ”کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے اور کسی معاہد کو مدت معاہدہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6690]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6691
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً فِي بَيْتِهِ تَحْتَ جَنْبِهِ، فَأَكَلَهَا".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پہلو کے نیچے اپنے گھر میں ایک کھجور پائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھالیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6691]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 6692
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، قَامَ فِي النَّاسِ خَطِيبًا، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّ الْإِسْلَامَ لَمْ يَزِدْهُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، وَالْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ يُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، تُرَدُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَعَدِهِمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، دِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ، لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ، وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دِيَارِهِمْ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو لوگوں میں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”لوگو! زمانہ جاہلیت میں جتنے بھی معاہدے ہوئے اسلام ان کی شدت میں مزید اضافہ کرتا ہے لیکن اب اسلام میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے مسلمان اپنے علاوہ سب پر ایک ہاتھ ہیں سب کا خون برابر ہے ایک ادنیٰ مسلمان بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے جو سب سے آخری مسلمان تک لوٹائی جائے گی، ان کے لشکروں کو بیٹھے ہوئے مجاہدین پر لوٹایا جائے گا کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور کافر کی دیت مسلمان کی دیت سے نصف ہے زکوٰۃ کے جانوروں کو اپنے پاس منگوانے کی اور زکوٰۃ سے بچنے کی کوئی حیثیت نہیں مسلمانوں سے زکوٰۃ ان کے علاقے ہی میں جا کروصول کی جائے گی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6692]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6693
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ زَادَكُمْ صَلَاةً، وَهِيَ الْوَتْرُ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تم پر ایک نماز کا اضافہ فرمایا: ”ہے اور وہ وتر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6693]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف حجاج بن أرطاة ضعيف
حدیث نمبر: 6694
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں دو نمازوں کو جمع فرمایا: ”ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6694]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لتدليس حجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 6695
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُوا، وَاشْرَبُوا، وَتَصَدَّقُوا، وَالْبَسُوا، غَيْرَ مَخِيلَةٍ وَلَا سَرَفٍ"، وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً:" فِي غَيْرِ إِسْرَافٍ وَلَا مَخِيلَةٍ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ پیو صدقہ کرو اور پہنو لیکن تکبر نہ کرو اور اسراف بھی نہ کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6695]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 6696
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا كَلِمَاتٍ نَقُولُهُنَّ عِنْدَ النَّوْمِ مِنَ الْفَزَعِ:" بِسْمِ اللَّهِ، أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّة، مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ، وَشَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ، وَأَنْ يَحْضُرُونِ"، قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يُعَلِّمُهَا مَنْ بَلَغَ مِنْ وَلَدِهِ أَنْ يَقُولَهَا عِنْدَ نَوْمِهِ، وَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ صَغِيرًا لَا يَعْقِلُ أَنْ يَحْفَظَهَا، كَتَبَهَا لَهُ، فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ.
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ کلمات سوتے وقت ڈر جانے کی صورت میں پڑھنے کے لئے سکھاتے تھے میں اللہ کی تمام صفات کے ذریعے اس کے غضب سزا اور اس کے بندوں کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں نیز شیاطین کی پھونکوں سے اور ان کے میرے قریب آنے سے بھی میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ خود بھی اپنے بچوں کو " جو بلوغ کی عمر کو پہنچ جاتے یہ دعا سوتے وقت پڑھنے کے لئے سکھایا کرتے تھے اور وہ چھوٹے بچے جو اسے یاد نہیں کر سکتے تھے ان کے گلے میں لکھ کر لٹکا دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6696]
الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن