🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3856
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ قَتَلَ أَبَا جَهْلٍ، فَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَصَرَ عَبْدَهُ، وَأَعَزَّ دِينَهُ"، وَقَالَ مَرَّةً، يَعْنِي أُمَيَّةَ:" صَدَقَ عَبْدَهُ، وَأَعَزَّ دِينَهُ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ابوجہل مارا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس اللہ کا شکر جس نے اپنے بندے کی مدد کی اور اپنے دین کو عزت بخشی۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3856]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبدالله ابن مسعود.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3857
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِي الْيَعْفُورِ ، عَنْ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ أَبِي عَقْرَبٍ ، قَالَ: غَدَوْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ذَاتَ غَدَاةٍ فِي رَمَضَانَ، فَوَجَدْتُهُ فَوْقَ بَيْتِهِ جَالِسًا، فَسَمِعْنَا صَوْتَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: صَدَقَ اللَّهُ، وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، فَقُلْنَا: سَمِعْنَاكَ تَقُولُ: صَدَقَ اللَّهُ، وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، فَقَالَ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي النِّصْفِ مِنَ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، تَطْلُعُ الشَّمْسُ غَدَاةٍ إذٍ صَافِيَةً، لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ"، فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فَوَجَدْتُهَا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوعقرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان کے مہینے میں صبح کے وقت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے انہیں اپنے گھر کی چھت پر بیٹھے ہوئے پایا، ہم نے ان کی آواز سنی کہ وہ کہہ رہے تھے: اللہ نے سچ کہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنچا دیا، ہم نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے پوچھا کہ ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ اللہ نے سچ کہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنچا دیا، اس کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شب قدر رمضان کی آخری سات راتوں کے نصف میں ہوتی ہے، اور اس رات کے بعد جب صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ بالکل صاف ہوتا ہے، اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔“ میں ابھی یہی دیکھ رہا تھا تو میں نے اسے بعینہ اسی طرح پایا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3857]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الصلت.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3858
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ ، عَنْ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ أَبِي عَقْرَبٍ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ: غَدَوْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ... فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3858]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، وهو مكرر سابقه.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3859
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ يُقْرِئُنَا، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، هَلْ حَدَّثَكُمْ نَبِيُّكُمْ، كَمْ يَكُونُ مِنْ بَعْدِهِ خَلِيفَةً؟ قَالَ: نَعَمْ، كَعِدَّةِ نُقَبَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ".
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمیں قرآن پڑھا رہے تھے، اسی اثناء میں ایک آدمی آ کر کہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! کیا آپ لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا تھا کہ اس امت میں کتنے خلفاء ہوں گے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! (ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا اور) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”بارہ خلفاء ہوں گے، نقباء بنی اسرائیل کی تعداد کی طرح۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3859]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف مجالد.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3860
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَحَسَنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ هِلَالٍ، وَقَلَّمَا كَانَ يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نئے مہینے کے آغاز میں تین روزے رکھا کرتے تھے اور جمعہ کے دن بہت کم روزہ چھوڑا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3860]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3861
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ . ح وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى الْفِطْرَةِ"، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَجَ مِنَ النَّارِ"، قَالَ: فَابْتَدَرْنَاهُ، فَإِذَا هُوَ صَاحِبُ مَاشِيَةٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ، فَنَادَى بِهَا.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے تو ہم نے ایک منادی کو یہ کہتے ہوئے سنا: «الله اكبر الله اكبر»، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: ”یہ شخص فطرت سلیمہ پر ہے“، پھر اس نے کہا: «أشهد أن لا إلٰه إلا الله»، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”یہ آگ سے نکل گیا“، ہم جلدی سے اس کی جانب لپکے تو وہ ایک بکریوں والا تھا جس نے نماز کو پا لیا تھا اور اسی نے یہ نداء لگائی تھی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3861]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3862
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَلَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ"، قَالَ: سَأَلْتُ عَاصِمًا عَنِ الْأَجْنِحَةِ؟ فَأَبَى أَنْ يُخْبِرَنِي، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي بَعْضُ أَصْحَابِهِ أَنَّ الْجَنَاحَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر جبرئیل کو ان کی اصلی شکل و صورت میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔“ راوی نے اپنے استاذ عاصم سے اس کی وضاحت معلوم کی تو انہوں نے بتانے سے انکار کر دیا، ان کے کسی دوسرے شاگرد نے بتایا کہ ایک پر مشرق اور مغرب کے درمیانی فاصلے کو پر کر دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3862]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن، خ: 3232، م: 174.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3863
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنِي حُصَيْنٌ ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٌ بِهِ الدُّرُّ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس جبرئیل علیہ السلام ایک سبز لباس میں آئے جس پر موتی لٹکے ہوئے تھے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3863]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4858، م: 174.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3864
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي الْكَهْتَلَةِ ، قَالَ مُحَمَّدٌ: أَظُنُّهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ مُحَمَّداً لَمْ يَرَ جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ، أَمَّا مَرَّةٌ، فَإِنَّهُ سَأَلَهُ أَنْ يُرِيَهُ نَفْسَهُ فِي صُورَتِهِ، فَأَرَاهُ صُورَتَهُ فَسَدَّ الْأُفُقَ، وَأَمَّا الْأُخْرَى، فَإِنَّهُ صَعِدَ مَعَهُ حِينَ صَعِدَ بِهِ"، وَقَوْلُهُ: وَهُوَ بِالأُفُقِ الأَعْلَى ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى سورة النجم آية 7 - 10، قَالَ: فَلَمَّا أَحَسَّ جِبْرِيلُ رَبَّهُ، عَادَ فِي صُورَتِهِ، وَسَجَدَ، فَقَوْلُهُ: وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى، إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى، مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى، لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى سورة النجم آية 13 - 18، قَالَ: خَلْقَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام.
غالبا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو ان کی اصلی شکل و صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، ایک مرتبہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان سے اپنی اصل شکل و صورت دکھانے کی فرمائش کی تھی، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اصلی شکل دکھائی جس نے پورے افق کو گھیر رکھا تھا، اور دوسری مرتبہ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج پر لے گئے تھے، یہی مراد ہے اس آیت کی: «‏‏‏‏ ﴿وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى o ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى o فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى o فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى﴾ » ‏‏‏‏ [النجم: 7-10] پھر جب جبرئیل امین علیہ السلام کو اپنے پروردگار کا احساس ہوا تو وہ اپنی اصلی شکل میں آ کر سجدہ ریز ہو گئے، یہی مراد ہے اس آیت کی: « ﴿وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى o عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى o عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى o إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى o مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى o لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى﴾ » [النجم: 13-18] یعنی اس سے حضرت جبرئیل علیہ السلام کی خلقت اور جسم دیکھنا مراد ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3864]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال إسحاق، وأصله فى خ: 4858، م: 174.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3865
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ جَعَلَ لِلَّهِ نِدًّا، جَعَلَهُ اللَّهُ فِي النَّارِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَأُخْرَى أَقُولُهَا، لَمْ أَسْمَعْهَا مِنْهُ: وَمَنْ مَاتَ لَا يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا، أَدْخَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ، وَإِنَّ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَ الْمَقْتَلُ.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو باتیں ہیں جن میں سے ایک میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور دوسری میں اپنی طرف سے کہتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ ”جو شخص اس حال میں مر جائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہوگا۔“ اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا، اور یہ نمازیں اپنے درمیانی وقت کے لئے کفارہ بن جاتی ہیں بشرطیکہ آدمی قتل و قتال سے بچتا رہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3865]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں