🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6912
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ الْمُهَاجِرَ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ، وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے کہ جو اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں کو ترک کر دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6912]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6484.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6913
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ أَرْضًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، يُقَالُ لَهَا: الْوَهْطُ، فَأَمَرَ مَوَالِيَهُ، فَلَبِسُوا آلَتَهُمْ، وَأَرَادُوا الْقِتَالَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: مَاذَا؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُظْلَمُ بِمَظْلَمَةٍ فَيُقَاتِلَ فَيُقْتَلَ، إِلَّا قُتِلَ شَهِيدًا".
ایک غیر معروف راوی سے منقول ہے کہ سیدہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کی " وہط " نامی زمین پر قبضہ کر نے کا ارادہ کیا سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنے غلاموں کو اس کے لئے تیار کیا چنانچہ انہوں نے قتال کی نیت سے اسلحہ پہن لیا میں ان کے پاس آیا اور ان سے کہ یہ کیا؟ انہوں نے کہ کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس مسلمان پر کوئی ظلم توڑا جائے اور وہ اس کی مدافعت میں قتال کرے اور اس دوران لڑتا ہوا مارآ جائے تو وہ شہید ہو کر مقتول ہوا۔ فائدہ۔ سند کے اعتبار سے یہ روایت مضبوط نہیں ہے اور اسے صرف طیالسی نے نقل کیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6913]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لإبهام الرجل من بني مخزوم وعمه، وللحديث أصل صحيح سلف لفظه برقم: 6522
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6914
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ طَلْحَةَ أَوْ طَلْحَةَ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، صُمْ الدَّهْرَ، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ"، قَالَ: وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا سورة الأنعام آية 160 قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ:" صُمْ صِيَامَ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! ہمیشہ روزے سے رہو اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر مہینہ تین روزے رکھ لیا کرو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ جو ایک نیکی لے کر آئے کا اسے اس جیسی دس نیکیاں ملیں گی میں نے عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر سیدنا داؤدعلیہ السلام کی طرح روزہ رکھ لیا کرو وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6914]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، طلحة بن هلال مجهول.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6915
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ" حَتَّى عَدَّ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ أَوْ خَمْسَةً، شُعْبَةُ يَشُكُّ، قَالَ:" صُمْ أَفْضَلَ الصَّوْمِ، صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”ایک دن کا روزہ رکھو تمہیں بقیہ ایام کا اجر ملے گا حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار اور پانچ ایام کا تذکر ہ کیا اور سیدنا داؤد (علیہ السلام) کی طرح روزہ رکھ لیا کرو وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6915]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1159.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6916
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي حَصِينٍ نَعُودُهُ، وَمَعَنَا عَاصِمٌ، قَالَ: قَالَ أَبُو حَصِينٍ لِعَاصِمٍ : تَذْكُرُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ مُخَيْمِرَةَ ؟ قَالَ: قَالَ: نَعَمْ، إِنَّهُ حَدَّثَنَا يَوْمًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اشْتَكَى الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ، قِيلَ لِلْكَاتِبِ الَّذِي يَكْتُبُ عَمَلَهُ: اكْتُبْ لَهُ مِثْلَ عَمَلِهِ إِذْ كَانَ طَلِيقًا، حَتَّى أَقْبِضَهُ أَوْ أُطْلِقَهُ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا بِهِ عَاصِمٌ، وَأَبُو حَصِينٍ جَمِيعًا.
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو آدمی نیک اعمال سر انجام دیتا ہو اور وہ بیمار ہو جائے تو اللہ اس کے محافظ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ میرا بندہ خیر کے جتنے بھی کام کرتا تھا وہ ہر دن رات لکھتے رہو تا وقتیکہ میں اسے چھوڑوں یا اپنے پاس بلا لوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6916]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6917
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، يَقُول:" كُلُّ حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے سال یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جتنے بھی معاہدے ہوئے اسلام ان کی شدت میں مزید اضافہ کرتا ہے لیکن اب اسلام میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6917]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6918
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَلَفٍ وَبَيْعٍ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ، وَعَنْ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ، وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع کر نے سے بیع اور ادھار سے اس چیز کی بیع سے جو ضمانت میں ابھی داخل نہ ہوئی ہو اور اس چیز کی بیع سے جو آپ کے پاس موجود نہ ہو منع فرمایا: ”۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6918]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6919
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ أَبُو الْخَطَّابِ السَّدُوسِيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمُثَنَّى بْنَ الصَّبَّاحِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ زَادَكُمْ صَلَاةً، فَحَافِظُوا عَلَيْهَا، وَهِيَ الْوَتْرُ"، فَكَانَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ رَأَى أَنْ يُعَادَ الْوَتْرُ، وَلَوْ بَعْدَ شَهْرٍ.
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تم پر ایک نماز کا اضافہ فرمایا: ”ہے اور وہ وتر ہے لہٰذا اس کی پابندی کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6919]

الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف المثنى بن الصباح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6920
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي الْحَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَّا يُقَالُ لَهُ: أَيُّوبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ:" مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ عَامًا تِيبَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ تِيبَ عَلَيْهِ"، حَتَّى قَالَ:" يَوْمًا" حَتَّى قَالَ:" سَاعَةً"، حَتَّى قَالَ:" فُوَاقًا"، قَالَ: قَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ مُشْرِكًا أَسْلَمَ؟ قَالَ: إِنَّمَا أُحَدِّثُكُمْ كَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ.
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کر لے اس کی توبہ قبول ہو جائے گی جو ایک مہینہ پہلے توبہ کر لے اس کی توبہ بھی قبول ہو جائے گی حتیٰ کے ایک دن پہلے یا ایک گھنٹہ پہلے یا موت کی ہچکی سے پہلے بھی توبہ کر لے تو وہ بھی قبول ہو جائے گی کسی آدمی نے پوچھا یہ بتائیے اگر کوئی مشرک اس وقت اسلام قبول کر لے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”کہ میں نے تو تم سے اسی طرح حدیث بیان کر دی ہے جیسے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6920]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لإبهام الرجل من بني الحارث وجهالة شيخه أيوب .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6921
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ، كَانَ يَرْقُدُ شَطْرَ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَقُومُ، ثُمَّ يَرْقُدُ آخِرَهُ، ثُمَّ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کے نزدیک روزہ رکھنے کا سب سے زیادہ پسندیدہ طریقہ سیدنا داؤدعلیہ السلام کا ہے وہ نصف زمانے تک روزے سے رہتے تھے اسی طرح ان کی نماز ہی اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے وہ آدھی رات تک سوتے تھے تہائی رات تک قیام کرتے تھے اور چھٹا حصہ پر آرام کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6921]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1159.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں