مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 6922
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ لَمَّا كَانَ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وعَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ مَا كَانَ وَتَيَسَّرُوا لِلْقِتَالِ، فَرَكِبَ خَالِدُ بْنُ العاص إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَوَعَظَهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ"، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ:" مَنْ قُتِلَ عَلَى مَالِهِ، فَهُوَ شَهِيدٌ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ اور عنبسہ بن ابی سفیان کے درمیان کچھ رنجش تھی نوبت لڑائی تک جا پہنچی سیدنا خالد بن عاص رضی اللہ عنہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی وہ کہنے لگے کہ کیا آپ کے علم میں نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارآ جائے وہ شہید ہے؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6922]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 141.
حدیث نمبر: 6923
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا عَبْدٍ كُوتِبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ، فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ، ثُمَّ عَجَزَ، فَهُوَ رَقِيقٌ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس غلام سے سو اوقیہ بدل کتابت اداء کر نے پر آزادی کا وعدہ کر لیا جائے اور وہ نوے اوقیہ ادا کر دے پھر عاجز آجاتے تب بھی وہ غلام ہی رہے گا (تا آنکہ مکمل ادائیگی کر دے) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6923]
الحكم على الحديث:
حديث حسن.
حدیث نمبر: 6924
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفیدبالوں کو نوچنے سے منع فرمایا: ”ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6924]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره.
حدیث نمبر: 6925
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" تَدْرُونَ مَنْ الْمُسْلِمُ؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ"، قَالَ: تَدْرُونَ مَنْ الْمُؤْمِنُ؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" مَنْ أَمِنَهُ الْمُؤْمِنُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السُّوءَ فَاجْتَنَبَهُ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ مسلم کون ہوتا ہے؟ صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں؟ فرمایا: ”جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں پھر پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ مومن کون ہوتا ہے؟ صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایا: ”جس کی طرف سے دوسرے مؤمنین کی جان ومال محفوظ ہو اور اصل مہاجر وہ ہے جو گناہوں کو چھوڑ دے اور ان سے اجتناب کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6925]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 6926
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: إِنِّي لَأُسَايِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَمُعَاوِيَةَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو لِعَمْرٍو : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ"، يَعْنِي عَمَّارًا، فَقَالَ عَمْرٌو لِمُعَاوِيَةَ: اسْمَعْ مَا يَقُولُ هَذَا، فَحَدَّثَهُ فَقَالَ: أَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ؟ إِنَّمَا قَتَلَهُ مَنْ جَاءَ بِهِ.
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ جب سیدہ امیر معاویہ و رضی اللہ عنہ جنگ صفین سے فارغ ہو کر آ رہے تھے تو میں ان کے اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے درمیان چل رہا تھا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنے والد سے کہنے لگے اباجان کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ کہتے ہوئے سنا کہ افسوس! اے سمیہ کے بیٹے تجھے ایک باغی گروہ قتل کر دے گا؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے سیدہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا آپ اس کی بات سن رہے ہیں؟ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے تم ہمیشہ ایسی ہی پریشان کن خبریں لے آنا کیا ہم نے انہیں شہید کیا ہے؟ انہوں کو ان لوگوں نے ہی شہید کیا ہے جو انہیں لے کر آئے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6926]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 6927
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي الضَّرِيرَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6927]
الحكم على الحديث:
صحيح.
حدیث نمبر: 6928
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ . وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ، وَرَأَيْتُهُ يَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا، وَرَأَيْتُهُ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران سفر روزہ رکھتے ہوئے اور ناغہ کرتے ہوئے دیکھا ہے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برہنہ پا اور جوتی پہن کر بھی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر بھی پانی پیتے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں بائیں جانب سے واپس جاتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6928]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 6929
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنِي أَسْوَدُ بْنُ مَسْعُودٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنْبَرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي رَأْسِ عَمَّارٍ، يَقُولُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتَلْتُهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بَنْ عَمرو : لِيَطِبْ بِهِ أَحَدُكُمَا نَفْسًا لِصَاحِبِهِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: كَذَا قَالَ أَبِي: يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ"، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: أَلَا تُغْنِي عَنَّا مَجْنُونَكَ يَا عَمْرُو؟! فَمَا بَالُكَ مَعَنَا؟ قَالَ: إِنَّ أَبِي شَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطِعْ أَبَاكَ مَا دَامَ حَيًّا وَلَا تَعْصِهِ" فَأَنَا مَعَكُمْ وَلَسْتُ أُقَاتِلُ.
خنظلہ بن خویلد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا دو آدمی ان کے پاس جھگڑا لے کر آئے ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ تھا کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو اس نے شہید کیا ہے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ تمہیں چاہئے ایک دوسرے کو مبارکباد دو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا سیدہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے پھر آپ ہمارے ساتھ کیا کر رہے ہو اے عمرو! اپنے اس دیوانے سے ہمیں مستغنی کیوں نہیں کر دیتے؟ انہوں نے فرمایا: ”کہ ایک مرتبہ میرے والد صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میری شکایت کی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھا زندگی بھر اپنے باپ کی اطاعت کرنا اس کی نافرمانی نہ کرنا اس لئے میں آپ کے ساتھ تو ہوں لیکن لڑائی میں شریک نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6929]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 6930
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيِدَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكْتُبُ مَا أَسْمَعُ مِنْكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قُلْتُ: فِي الرِّضَا وَالسُّخْطِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِي أَنْ أَقُولَ فِي ذَلِكَ إِلَّا حَقًّا"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ فِي حَدِيثِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَسْمَعُ مِنْكَ أَشْيَاءَ فَأَكْتُبُهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگارہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! میں آپ سے جو باتیں سنتا ہوں انہیں لکھ لیا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں میں نے پوچھا رضامندی اور ناراضگی دونوں حالتوں میں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں کیونکہ میری زبان سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6930]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره.
حدیث نمبر: 6931
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ . وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِث ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أَخْبَرَهُ، قَالَ: عَبْدُ الصَّمَدِ: ابْنُ الْعَاصِ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَيْهِ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذِهِ ثِيَابُ الْكُفَّارِ، فَلَا تَلْبَسْهَا".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصفر رنگے ہوئے دو کپڑے ان کے جسم پر دیکھے تو فرمایا: ”یہ کافروں کا لباس ہے اسے مت پہنا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6931]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2077.