🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7001
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ لِي مَالًا وَوَالِدًا، وَإِنَّ وَالِدِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي؟ قَالَ:" أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ، إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ، فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هو عَبْدُ اللهَ بن احمد: بَلَغَنِي أَنَّ حَبِيبًا الْمُعَلِّمَ يُقَالُ لَهُ: حَبِيبُ بْنُ أَبِي بَقِيَّةَ.
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ میرے پاس مال بھی ہے اور اولاد بھی میرا باپ میرے مال پر قبضہ کرنا چاہتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے تمہاری اولاد تمہاری سب سے پاکیزہ کمائی ہے لہٰذا اپنی اولاد کی کمائی کھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7001]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7002
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةٌ: فَرَجُلٌ حَضَرَهَا يَلْغُو، فَذَاكَ حَظُّهُ مِنْهَا، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِدُعَاءٍ، فَهُوَ رَجُلٌ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِإِنْصَاتٍ وَسُكُوتٍ، وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا، فَهِيَ كَفَّارَةٌ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا، وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا سورة الأنعام آية 160.
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ میں تین قسم کے لوگ آتے ہیں ایک آدمی تو وہ ہے جو نماز اور دعاء میں شریک ہوتا ہے اس آدمی نے اپنے رب کو پکار لیا اب اس کی مرضی ہے کہ وہ اسے عطاء کرے یا نہ کرے، دوسرا آدمی وہ ہے جو خاموشی کے ساتھ آ کر اس میں شریک ہو جائے کسی مسلمان کی گردن نہ پھلانگے اور کسی کو تکلیف نہ پہنچائے تو اگلے جمعہ تک اور مزید تین دن تک وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو شخص نیکی لے کر آئے گا اسے دس گنا ثواب ملے گا " اور تیسرا آدمی وہ ہے جو بیکار کاموں میں لگا رہتا ہے یہ اس کا حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7002]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7003
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، وَمَنْ شَرِبَ الثَّانِيَةَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ الثَّالِثَةَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ الرَّابِعَةَ فَاقْتُلُوهُ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوبارہ پیئے تو پھر مارو سہ بارہ پیئے تو پھر مارو اور چوتھی مرتبہ فرمایا: ”کہ اسے قتل کر دو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7003]

الحكم على الحديث:
صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7004
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ"، قَالَ: قِيلَ: وَمَا عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ قَالَ:" يَسُبُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ، فَيَسُبُّ أَبَاهُ، وَيَسُبُّ أُمَّهُ، فَيَسُبُّ أُمَّهُ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک کبیرہ گناہ یہ بھی ہے کہ ایک آدمی اپنے والدین کو گالیاں دے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کوئی آدمی اپنے والدین کو کیسے گالیاں دے سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کسی کے باپ کو گالی دے اور وہ پلٹ کر اس کے باپ کو گالی دے اسی طرح وہ کسی کی ماں کو گالی دے اور وہ پلٹ کر اس کی ماں کو گالی دے دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7004]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 90.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7005
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَدَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَالَ فِي يَوْمٍ مئتي مَرَّةٍ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَمْ يَسْبِقْهُ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَهُ، وَلَمْ يُدْرِكْهُ أَحَدٌ كَانَ بَعْدَهُ، إِلَّا بِأَفْضَلَ مِنْ عَمَلِهِ"، يَعْنِي: إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِأَفْضَلَ مِنْ عَمَلِهِ.
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص روزانہ دو سو مرتبہ یہ کلمات کہہ لے " اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا شریک نہیں حکومت بھی اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے " اس پر کوئی پہلا سبقت نہیں لے جاسکے گا اور بعد والا اسے کوئی پا نہیں سکے گا الاّ یہ کہ اس سے افضل عمل سر انجام دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7005]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7006
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، قَالَ: أَقْبَلَ أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ إِلَيْهِ مَكْحُولٌ، وَابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَحْرِيَّةَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میری طرف سے آگے پہنچادیا کرو خواہ ایک آیت ہی ہو بنی اسرائیل کی باتیں بھی ذکر کر سکتے ہو کوئی حرج نہیں اور جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار کر لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7006]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3461.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7007
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ، وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ، وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سوار ایک شیطان ہوتا ہے اور دو سوار دو شیطان ہوتے ہیں اور تین سوار ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7007]

الحكم على الحديث:
حديث حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7008
رقم الحديث: 6832
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، وَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الْحَجَرَ، وَالْمَقَامَ يَاقُوتَتَانِ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ، طَمَسَ اللَّهُ نُورَهُمَا، لَوْلَا ذَلِكَ لَأَضَاءَتَا مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَوْ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ"، كَذَا قَالَ يُونُسُ: رَجَاءُ بْنُ يَحْيَى، وقَالَ عَفَّانُ: رَجَاءُ أَبُو يَحْيَى.
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ اللہ کی قسم کھائی اور اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں پر رکھ کر فرمایا: ”کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے حجر اسود اور مقام ابراہیم جنت کے دو یاقوت ہیں اللہ نے ان کی روشنی بجھا دی ہے اگر اللہ ان کی روشنی نہ بجھاتا تو یہ دونوں مشرق ومغرب کے درمیان ساری جگہ کو روشن کر دیتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7008]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف على خطأ فى اسم أحد رواته، وهو مكرر 7000، والأصح فى هذا الحديث وقفه.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7008M
قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وحَدَّثَنَاه هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ صُبَيْحٍ أَبُو يَحْيَى الْحَرَشِيُّ ، وَالصَّوَابُ أَبُو يَحْيَى، كَمَا قَالَ: عَفَّانُ، وهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7008M]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، وهو مكرر ما قبله .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7009
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بن أحمد، حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَجَاءُ أَبُو يَحْيَى ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7009]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، وهو مكرر ما قبله .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں