مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7186
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ، وَيُلْقَى الشُّحُّ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ"، قَالَ: قَالُوا: أَيُّمَا هو يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ، الْقَتْلُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب زمانہ قریب آ جائے گا لوگوں کے دلوں میں بخل اور کنجوسی انڈیل دی جائے گی۔ فتنوں کا ظہور ہو گا اور ہرج کی کثرت ہو گی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل قتل۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7186]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672.
حدیث نمبر: 7187
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُونَ: آمِينَ، وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ: آمِينَ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب امام غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہہ لے تو تم اس پر آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی اس پر آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے سو جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو جائے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7187]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 782، م: 410.
حدیث نمبر: 7188
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ، فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ انْتَظَرَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا، فَلَهُ قِيرَاطَانِ"، قَالُوا: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ قَالَ:" مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے دو قیراط کی وضاحت دریافت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو عظیم پہاڑوں کے برابر۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7188]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945.
حدیث نمبر: 7189
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَتَهُ وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، وَكَأَنَّهُ يُعَرِّضُ أَنْ يَنْتَفِيَ مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَكَ إِبِلٌ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" مَا أَلْوَانُهَا؟" قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ:" فِيهَا ذَوْدٌ أَوْرَقُ؟" قَالَ: نَعَمْ، فِيهَا ذَوْدٌ أَوْرَقُ، قَالَ:" وَمِمَّا ذَاكَ؟" قَالَ: لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهَذَا لَعَلَّهُ يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنوفزارہ کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی! میری بیوی نے ایک سیاہ رنگت والا لڑکا جنم دیا ہے دراصل وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بچے کا نسب خود سے ثابت نہ کرنے کی درخواست پیش کرنا چاہ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ان کی رنگت کیا ہے؟ اس نے کہا سرخ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! اس میں خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سرخ اونٹوں میں خاکستری رنگ کا اونٹ کیسے آگیا؟ اس نے کہا کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیاہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس بچے کے متعلق بھی یہی سمجھ لو کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7189]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7314، م: 1500.
حدیث نمبر: 7190
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ صَاحَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7190]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7314، م: 1500.
حدیث نمبر: 7191
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثِ مَسَاجِدَ: إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سوائے تین مسجدوں کے کسی اور مسجد کی طرف خصوصیت سے کجاوے کس کر سفر نہ کیا جائے ایک تو مسجد حرام۔ دوسرے میری یہ مسجد (مسجد نبوی) اور تیسرے مسجد اقصیٰ۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7191]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1189، م: 1397.
حدیث نمبر: 7192
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الزَّرْعِ، لَا تَزَالُ الرِّيحُ تُمِيلُهُ، وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلَاءُ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَشَجَرَةِ الْأَرْزَةِ، لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تُسْتَحْصَدَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان کی مثال کھیتی کی طرح ہے کہ کھیت پر بھی ہمیشہ ہوائیں چل کر اسے ہلاتی رہتی ہیں اور مسلمان پر بھی ہمیشہ مصیبتیں آتی رہتی ہیں۔ اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے جو خود حرکت نہیں کرتا بلکہ اسے جڑ سے اکھیڑ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7192]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5644، م: 2809.
حدیث نمبر: 7193
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ عَلَيْهِ، لَا يَغْشَاهَا إِلَّا الْعَوَافِي، قَالَ: يُرِيدُ عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ، وَآخِرُ مَنْ يُحْشَرُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ، يَنْعِقَانِ لِغَنَمِهِمَا، فَيَجِدَاهَا وُحُوشًا، حَتَّى إِذَا بَلَغَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، حُشِرَا عَلَى وُجُوهِهِمَا، أَوْ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگ مدینہ منورہ کو بہترین حالت میں ہونے کے باوجود ایک وقت میں آ کر چھوڑ دیں گے اور وہاں صرف درندے اور پرندے رہ جائیں گے آخر میں وہاں قبیلہ مزینہ کے دو چرواہے جمع ہوں گے جو اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے لے جا رہے ہوں گے۔ لیکن وہاں پہنچ کر وحشی جانوروں کو پائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ ثنیتہ الوداع نامی گھاٹی پر پہنچیں گے تو اپنے چہروں کے بل گرپڑیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7193]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1874، م: 1389.
حدیث نمبر: 7194
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ:" مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا، يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ، وَيُعْطِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلّ".
اور فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرما لیتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطاء فرمادیتے ہیں اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں دینے والے تو اللہ تعالیٰ ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7194]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وهو في الصحيحين من حديث معاوية، خ: 3116، م: 1037.
حدیث نمبر: 7195
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ . وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالصَّوْمُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَذَرُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ بِجَرَّايَ، قَالَ يَزِيدُ: مِنْ أَجْلِي، الصَّوْمُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ عِنْدَ اللَّهِ، أَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے روزہ میرے لئے ہے اور اس کا بدلہ بھی میں خود ہی دوں گا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7195]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151.