مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7586
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلَانِ، رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَرَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ، فَقَالَ الْمُسْلِمُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ، وَقَالَ الْيَهُودِيُّ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْعَالَمِينَ، فَغَضِبَ الْمُسْلِمُ، فَلَطَمَ عَيْنَ الْيَهُودِيِّ، فَأَتَى الْيَهُودِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، فَاعْتَرَفَ بِذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَأَجِدُ مُوسَى مُمْسِكًا بِجَانِبِ الْعَرْشِ، فَمَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي؟ أَمْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ؟!" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو آدمیوں میں جن میں سے ایک مسلمان اور دوسرا یہودی تھا تلخ کلامی ہوگئی مسلمان نے اپنی بات پر قسم کھاتے ہوئے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہان والوں پر برگزیدہ کیا اور یہودی نے قسم کھاتے ہوئے کہہ دیا کہ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہان والوں پر برگزیدہ کیا اس پر مسلمان کو غصہ آیا اور اس نے یہودی کو ایک طمانچہ دے مارا اس یہودی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسلمان کو بلا کر اس سے دریافت فرمایا اس نے تھپڑ مارنے کا اعتراف کیا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھے موسیٰ علیہ السلام پر ترجیح نہ دو کیونکہ قیامت کے دن سب لوگوں پر بیہوشی طاری ہوجائے گی سب سے پہلے مجھے افاقہ ہوگا میں اس وقت دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام نے عرش کے پائے کو پکڑ رکھا ہے مجھے معلوم نہیں کہ وہ بھی بیہوش ہونے والوں میں سے ہوں گے کہ انہیں مجھ سے قبل افاقہ ہوگیا یا ان لوگوں میں سے ہوں گے جنہیں اللہ نے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7586]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2411، م: 2373.
حدیث نمبر: 7587
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ"، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " ولَا أَنَا، إِلا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرا سکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں۔ الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7587]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816.
حدیث نمبر: 7588
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجَتْكَ خَطِيئَتُكَ مِنَ الْجَنَّةِ؟! فَقَالَ لَهُ آدَمُ: وَأَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ وَبِرِسَالَتِهِ، تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ؟!" قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم! آپ ہی ہیں جن کی غلطی نے ہمیں جنت سے نکلوا دیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ تم وہی ہو کہ اللہ نے تمہیں اپنے سے ہم کلام ہونے اور اپنی پیغام بری کے لئے منتخب کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہو جس کا فیصلہ اللہ نے میرے متعلق میری پیدائش سے پہلے کرلیا تھا؟ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7588]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3409، م: 2652.
حدیث نمبر: 7589
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7589]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7590
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ فقَالَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ"، قَالَ ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَال:" ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا سائل نے پوچھا کہ پھر کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا جہاد فی سبیل اللہ سائل نے پوچھا کہ اس کے بعد؟ فرمایا حج مبرور۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7590]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 26، م: 83.
حدیث نمبر: 7591
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ، لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے خواتین اسلام! کوئی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر نہ سمجھے خواہ وہ بکری کا ایک کھر ہی ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7591]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6017، م: 1030.
حدیث نمبر: 7592
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، وأبي سَلَمة بن عبد الرحمن ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ كُلَّ لَيْلَةٍ، حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآَخِرُ، إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: " مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَه؟" حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ" . فَلِذَلِكَ كَانُوا يُفَضِّلُونَ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ عَلَى صَلَاةِ أَوَّلِهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزانہ جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اسے قبول کرلوں؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے کہ میں اسے معاف کردوں؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے اسی وجہ سے وہ لوگ رات کے پہلے حصے کی بجائے آخری حصے میں نماز پڑھنے کو ترجیح دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7592]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1145، م: 758.
حدیث نمبر: 7593
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ مَرْجَانَةَ ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ، فَلَمْ يَمْشِ مَعَهَا، فَلْيَقُمْ حَتَّى تَغِيبَ عَنْهُ، وَمَنْ مَشَى مَعَهَا، فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز جنازہ پڑھے لیکن تدفین کے لئے اس کے ساتھ نہ جاسکے تو اسے جنازہ کی نظروں سے غائب ہونے تک کھڑا رہنا چاہئے اور جو شخص جنازے کے ساتھ چلا جائے وہ قبرستان پہنچ کر جنازہ زمین پر رکھے جانے سے قبل نہ بیٹھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7593]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعنة.
حدیث نمبر: 7594
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً، فَقَدْ أَدْرَكَهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بھی نماز کی ایک رکعت پالے گویا اس نے پوری نماز پا لی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7594]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 580، م: 607، وهذا إسناد ضعيف كسابقه.
حدیث نمبر: 7595
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ، وَنَهَانِي عَنْ ثَلَاثٍ: أَوْصَانِي بِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى، قَالَ: وَنَهَانِي عَنِ الِالْتِفَاتِ، وَإِقْعَاءٍ كَإِقْعَاءِ الْقِرْدِ، وَنَقْرٍ كَنَقْرِ الدِّيكِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے اور تین چیزوں سے منع کیا ہے وصیت تو (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔ (٣) اور چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کی فرمائی ہے اور ممانعت نماز میں دائیں بائیں دیکھنے، بندر کی طرح بیٹھنے اور مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے سے فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7595]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف يزيد، ولجهالة الراوي عن أبي هريرة، ولكن الشطر الأول من الحديث- وهو الأمر بالثلاث- صحيح، خ: 1178، م: 721.