مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7626
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو نہ ستائے جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7626]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6138، م: 47.
حدیث نمبر: 7627
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، هُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا، الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7627]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52.
حدیث نمبر: 7628
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَن ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أنهما سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ"، وَهُمْ رَهْطُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ"، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَج"، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ"، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" ثُمَّ فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں انصار کے سب سے بہترین گھر کا پتہ نہ بتاؤں۔؟ لوگوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! فرمایا عبد الاشہل کے لوگ (جو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا گروہ تھا) لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد کون لوگ ہیں؟ فرمایا بنی نجار لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد کون لوگ ہیں؟ فرمایا بنی حارث بن خزرج۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! اس کے بعد کون ہیں؟ فرمایا بنی ساعدہ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد کون لوگ ہیں؟ فرمایا اس کے بعد انصار کے ہر گھر میں ہی خیر و برکت ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7628]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2512.
حدیث نمبر: 7629
قَالَ مَعْمَرٌ : أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ ، وَقَتَادَةُ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ".
یہی روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے البتہ اس میں بنی نجار پھر بنی عبدالاشہل کا ذکر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7629]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وسيأتي في مسند نفسه.
حدیث نمبر: 7630
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي جُمَحَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي حُلَّةٍ، مُعْجَبٌ بِجُمَّتِهِ، قَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ، إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ أَوْ قَالَ: يَهْوِي فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی بہترین لباس زیب تن کر کے ناز وتکبر کی چال چلتا ہوا جا رہا تھا اسے اپنے بالوں پر بڑا عجب محسوس ہورہا تھا اور اس نے اپنی شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکا رکھی تھی کہ اچانک اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7630]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5789، م: 2088.
حدیث نمبر: 7631
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَة ، قَالَ: أَخَذَتْ النَّاسَ رِيحٌ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَاجٌّ، فَاشْتَدَّتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ عُمَرُ لِمَنْ حَوْلَهُ: مَنْ يُحَدِّثُنَا عَنِ الرِّيحِ؟ فَلَمْ يُرْجِعُوا إِلَيْهِ شَيْئًا، فَبَلَغَنِي الَّذِي سَأَلَ عَنْهُ عُمَرُ مِنْ ذَلِكَ، فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أُخْبِرْتُ أَنَّكَ سَأَلْتَ عَنِ الرِّيحِ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ، تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ، وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا، فَلَا تَسُبُّوهَا، وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا، وَاسْتَعِيذُوا بِهِ مِنْ شَرِّهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حج پر جا رہے تھے کہ مکہ مکرمہ کے راستے میں تیز آندھی نے لوگوں کو آلیا لوگ اس کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہوگئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا آندھی کے متعلق کون شخص ہمیں حدیث سنائے گا؟ کسی نے انہیں کوئی جواب نہ دیا مجھے پتہ چلا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اس نوعیت کی کوئی حدیث دریافت فرمائی ہے تو میں نے اپنی سواری کی رفتار تیز کردی حتیٰ میں نے انہیں جا لیا اور عرض کیا کہ امیرالمومنین! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے آندھی کے متعلق کسی حدیث کا سوال کیا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آندھی یعنی تیز ہوا اللہ کی مہربانی ہے کبھی رحمت لاتی ہے اور کبھی زحمت جب تم اسے دیکھا کرو تو اسے برا بھلا نہ کہا کرو بلکہ اللہ سے اس کی خیر طلب کیا کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7631]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7632
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبي سَلَمة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلَامِ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ جِيءَ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَوُضِعَتْ فِي يَدَيَّ" . فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے مجھے جوامع الکلم دئیے گئے ہیں اور ایک مرتبہ سوتے ہوئے زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں میرے پاس لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7632]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6988، م: 523.
حدیث نمبر: 7633
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، وَلِلْجَنَّةِ أَبْوَابٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَلَى أَحَدٍ مِنْ ضَرُورَةٍ مِنْ أَيِّهَا دُعِيَ، فَهَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کے راستہ میں اپنے مال میں سے دو جوڑے والی چیزیں خرچ کرے اسے جنت کے دروازوں سے پکارا جائے گا اور جنت کے کئی دروازے ہیں جو اہل نماز میں سے ہوگا اسے باب الصلاۃ سے پکارا جائے گا جو اہل صدقہ میں سے ہوگا اسے باب الصدقہ سے پکارا جائے گا جو اہل جہاد میں سے ہوگا اسے باب الجہاد سے پکارا جائے گا جو اہل صیام سے ہوگا اسے باب الریان سے پکارا جائے گا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ویسے ضرورت تو کوئی نہیں لیکن کیا کسی آدمی کو سارے دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور مجھے امید ہے کہ آپ بھی ان لوگوں میں سے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7633]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1897، م: 1027
حدیث نمبر: 7634
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَصَدَّقَ مِنْ طَيِّبٍ، تَقَبَّلَهَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَخَذَهَا بِيَمِينِهِ، وَرَبَّاهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ أَوْ فَصِيلَهُ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَصَدَّقُ بِاللُّقْمَةِ، فَتَرْبُو فِي يَدِ اللَّهِ أَوْ قَالَ: فِي كَفِّ اللَّهِ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ، فَتَصَدَّقُوا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے اور انسان ایک لقمہ صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے وہ ایک لقمہ پہاڑ کے برابر بن جاتا ہے اس لئے خوب صدقہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7634]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1410، م: 1014.
حدیث نمبر: 7635
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبرنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجَّ آدَمُ، وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى لِآدَمَ: يَا آدَمُ، أَنْتَ الَّذِي أَدْخَلْتَ ذُرِّيَّتَكَ النَّارَ؟ فَقَالَ آدَمُ: يَا مُوسَى، اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ، فَهَلْ وَجَدْتَ أَنِّي أَهْبِطُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَحَجَّهُ آدَمُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام میں مباحثہ ہوا حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم! آپ ہی وہ ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو جہنم میں داخل کرا دیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ! اللہ نے تمہیں اپنی رسالت اور اپنے سے ہم کلام ہونے کے لئے منتخب کیا اور تم پر تورات نازل فرمائی کیا تم نے مجھے بھی زمین پر اترا ہوا دیکھا؟ انہوں نے کہا جی ہاں اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7635]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6614، م: 2652.