🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7716
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ! فَإِنِّي أَنَا الدَّهْرُ، أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ، فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ زمانے کی تباہی کیونکہ میں ہی زمانے کو پیدا کرنے والا ہوں میں ہی اس کے رات دن کو الٹ پلٹ کرتا ہوں اور جب چاہوں گا ان دونوں کو اپنے پاس کھینچ لوں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7716]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4826، م: 2246.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7717
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ؟ قَالُوا: لَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ؟، فَقَالُوا: لَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ، يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ، فَيَقُولُ: " مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَيَتْبَعُهُ"، فَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ، وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا، فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ:" أَنَا رَبُّكُمْ"، فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ، قَالَ: فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ:" أَنَا رَبُّكُمْ"، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا، فَيَتْبَعُونَهُ، قَالَ: وَيُضْرَبُ جِسْرٌ عَلَى جَهَنَّمَ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ، وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، وَبِهَا كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، هَلْ رَأَيْتُمْ شَوْكَ السَّعْدَانِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى، فَتَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمْ الْمُوبَقُ بِعَمَلِهِ، وَمِنْهُمْ الْمُخَرْدَلُ، ثُمَّ يَنْجُو، حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ النَّارِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَرْحَمَ، مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوهُمْ، فَيَعْرِفُونَهُمْ بِعَلَامَةِ آثَارِ السُّجُودِ، وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنَ ابْنِ آدَمَ أَثَرَ السُّجُودِ، فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدْ امْتُحِشُوا، فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مِنْ مَاءٍ يُقَالُ لَهُ: مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ. وَيَبْقَى رَجُلٌ يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ إِلَى النَّارِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا، وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا، فَاصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ، حَتَّى يَقُولَ:" فَلَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟" فَيَقُولُ: لَا، وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، فَيَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، فَيَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ: يَا رَبِّ، قَرِّبْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ:" أَوَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ، مَا أَغْدَرَكَ!" فَلَا يَزَالُ يَدْعُو، حَتَّى يَقُولَ:" فَلَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذلك أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ"، فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، وَيُعْطِي الله مِنْ عُهُودِهِ وَمَوَاثِيقِهِ أَنْ لَا يَسْأَلَ غَيْرَهُ، فَيُقَرِّبُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا دَنَا مِنْهَا انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، فَإِذَا رَأَى مَا فِيهَا مِنَ الْحِبَرَةِ وَالسُّرُورِ، سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ:" أَوَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَهُ؟!، وَقَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟!" فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ، حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ، فَإِذَا ضَحِكَ مِنْهُ، أَذِنَ لَهُ بِالدُّخُولِ فِيهَا، فَإِذَا دَخِلَ، قِيلَ لَهُ: تَمَنَّ مِنْ كَذَا، فَيَتَمَنَّى، ثُمَّ يُقَالُ: تَمَنَّ مِنْ كَذَا، فَيَتَمَنَّى، حَتَّى تَنْقَطِعَ بِهِ الْأَمَانِيُّ، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ" . قَالَ: وَأَبُو سَعِيدٍ جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، لَا يُغَيِّرُ عَلَيْهِ شَيْئًا مِنْ قَوْلِهِ، حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى قَوْلِهِ:" هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" هَذَا لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: حَفِظْتُ:" مِثْلُهُ مَعَهُ" قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا سورج کو دیکھنے میں جبکہ درمیان میں کوئی بادل نہ ہو دشواری ہوتی ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں چودہویں رات کے چاند کے دیکھنے میں جبکہ درمیان میں کوئی بادل بھی نہ ہو کوئی دشواری پیش آتی ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم اسی طرح اپنے رب کا دیدار کروگے۔ اللہ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کر کے فرمائیں گے جو جس کی عبادت کرتا تھا وہ اسی کے ساتھ ہوجائے جو سورج کی عبادت کرتا تھا وہ اسی کے ساتھ ہوجائے اور جو چاند کو پوجتا تھا وہ اس کے ساتھ ہوجائے اور جو بتوں اور شیطانوں کی عبادت کرتا تھا وہ انہی کے ساتھ ہوجائے اور اس میں اس امت کے منافق باقی رہ جائیں گے اللہ تعالیٰ ایسی صورت میں ان کے سامنے آئے گا کہ جس صورت میں وہ اسے نہیں پہچانتے ہوں گے اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں جب تک ہمارا رب نہ آئے ہم اس جگہ ٹھہرتے ہیں پھر جب ہمارا رب آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس ایسی صورت میں آئیں گے جسے وہ پہنچانتے ہوں گے اور کہیں گے کہ میں تمہارا رب ہوں وہ جواب دیں گے بیشک تو ہمارا رب ہے پھر سب اس کے ساتھ ہوجائیں گے اور جہنم کی پشت پر پل صراط قائم کیا جائے گا اور سب سے پہلے اس پل صراط سے گزریں گے رسولوں کے علاوہ اس دن کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور رسولوں کی بات بھی اس دن اللہم سلم سلم اے اللہ سلامتی رکھ ہوگی اور جہنم میں سعدان نامی خاردار جھاڑی کی طرح کانٹے ہوں گے کیا تم نے سعدان کے کانٹے دیکھے ہیں؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے اللہ تعالیٰ کے علاوہ ان کانٹوں کو کوئی نہیں جانتا کہ کتنے بڑے ہوں گے؟ لوگ اپنے اپنے اعمال میں جھکے ہوئے ہوں گے اور بعض مومن اپنے (نیک) اعمال کی وجہ سے بچ جائیں گے اور بعضوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور بعض پل صراط سے گزر کر نجات پاجائیں گے۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرکے فارغ ہوجائیں گے اور اپنی رحمت سے دوزخ والوں میں سے جسے چاہیں گے فرشتوں کو حکم دیں گے کہ ان کو دوزخ سے نکال دیں جہنوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا اور ان میں سے جس پر اللہ اپنا رحم فرمائیں اور جو لاالہ الا اللہ کہتا ہوگا فرشتے ایسے لوگوں کو اس علامت سے پہچان لیں گے کہ ان کے (چہروں) پر سجدوں کے نشان ہوں گے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ کو ان پر حرام کردیا ہے کہ وہ انسان کے سجدہ کے نشان کو کھائے پھر ان لوگوں کو جلے ہوئے جسم کے ساتھ نکالا جائے گا پھر ان پر آب حیات بہایا جائے گا جس کی وجہ سے یہ لوگ اس طرح تروتازہ ہو کر اٹھیں گے کہ جیسے کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ اگ پڑتا ہے پھر ایک شخص رہ جائے گا کہ جس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہوگا اور وہ اللہ سے عرض کرے گا اے میرے پروردگار میرا چہرہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے اس کی بدبو سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور اس کی تپش مجھے جلا رہی ہے وہ دعا کرتا رہے گا پھر اللہ اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمائیں گے کہ میں نے تیرا سوال پورا کردیا تو پھر تو اور کوئی سوال تو نہیں کرے گا؟ وہ کہے گا کہ آپ کی عزت کی قسم میں اس کے علاوہ کوئی سوال آپ سے نہیں کروں گا چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو دوزخ سے پھیر دیں گے (اور جنت کی طرف کردیں گے) پھر کہے گا اے میرے پروردگار مجھے جنت کے دروازے تک پہنچا دے تو اللہ اس سے کہیں گے کہ کیا تو نے مجھے عہد و پیمان نہیں دیا تھا کہ میں اس کے علاوہ اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا۔ افسوس ابن آدم تو بڑا وعدہ شکن ہے وہ اللہ سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ پروردگار فرمائیں گے کیا اگر میں تیرا یہ سوال پورا کردوں تو پھر اور تو کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا نہیں تیری عزت کی قسم میں کچھ اور نہیں مانگوں گا اللہ تعالیٰ اس سے جو چاہیں گے نئے وعدہ کی پختگی کے مطابق عہد و پیمان لیں گے اور اس کو جنت کے دروازے پر کھڑا کردیں گے جب وہ وہاں کھڑا ہوگا تو ساری جنت آگے نظر آئے گی جو بھی اس میں راحتیں اور خوشیاں ہیں سب اسے نظر آئیں گی پھر جب تک اللہ چاہیں گے وہ خاموش رہے گا پھر کہے گا اے پروردگار مجھے جنت میں داخل کردے تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ کیا تو نے مجھ سے یہ عہد و پیمان نہیں کیا تھا کہ اس کے بعد اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7717]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6573، م: 182.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7718
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: احْتَجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتْ الْجَنَّةُ: يَا رَبِّ، مَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا فُقَرَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ؟ وَقَالَتْ النَّارُ: يا رَبِّ، مَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ؟ فَقَالَ لِلنَّارِ: " أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ"، وَقَالَ لِلْجَنَّةِ:" أَنْتِ رَحْمَتِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا، فَأَمَّا الْجَنَّةُ، فَإِنَّ اللَّهَ يُنْشِئُ لَهَا مَا يَشَاءُ، وَأَمَّا النَّارُ، فَيُلْقَوْنَ فِيهَا"، وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ حَتَّى يَضَعَ قَدَمَهُ فِيهَا، فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ، وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، وَتَقُولُ: قَطْ، قَطْ، قَطْ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا جنت کہنے لگی کہ پروردگار میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے؟ اور جہنم کہنے لگی کہ میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے؟ اللہ نے جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے اسے سزا دوں گا اور جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعے رحم کروں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھر دوں گا چنانچہ جنت کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق پیدا فرمائے گا اور جہنم کے اندر جتنے لوگوں کو ڈالا جاتا رہے گا جہنم یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے پاؤں کو اس میں رکھ دیں گے اس وقت جہنم بھر جائے گی اور اس کے اجزاء سمٹ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی بس۔ بس بس۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7718]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4849، م: 2846.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7719
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَهُ ذلك لَا مَحَالَةَ، وَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ النُّطْقُ، وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ" .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے صغیرہ گناہ کے سب سے زیادہ مشابہہ کوئی چیز نہیں دیکھی بہ نسبت اس کے کہ جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان فرمائی کہ اللہ نے ہر انسان پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ چھوڑا ہے جسے وہ لامحالہ پا کر ہی رہے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے زبان کا زنا بولنا ہے انسان کا نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے جبکہ شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7719]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6612، م: 2657.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7720
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جُعِلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ، يُكْوَى بِهَا جَبِينُهُ وَجَبْهَتُهُ وَظَهْرُهُ، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حتي يُقضى بين الناسِ، ثمَّ يُرَى سبيلَه، وإِنْ كانت إبلاً إٍلا بُطِحَ لها بِقَاعٍ قَرْقرٍ في يومٍ كان مِقْدارُه خَمسين ألفَ سنةٍ، تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، حَسِبْتُهُ قَالَ: وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا يَرِدُ أَوَّلُهَا عَنْ آخِرِهَا، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ، ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ، وَإِنْ كَانَتْ غَنَمًا فَكَمِثْلِ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّهَا تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادانہ کرے اس کے سارے خزانوں کو ایک تختے کی صورت میں ڈھال کر جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اس کے بعد اس سے اس شخص کی پیشانی پہلو اور پیٹھ کو داغا جائے گا یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے اس کے بعد اسے اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو اونٹوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند حالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا چنانچہ وہ اسے کھروں سے روند ڈالیں گے جوں ہی آخری اونٹ گذرے گا پہلے والا دوبارہ آجائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو بکریوں کا مالک ہو اس کا بھی یہی حال ہوگا البتہ وہ اسے سینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے روندیں گی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7720]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1402، م: 987.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7721
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: قَالَ مَعْمَرٌ : أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ" يَعْنِي الْوُرُودَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوگئے ہوں ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ اس کے باوجود جہنم میں داخل ہوجائے الاّ یہ کہ قسم پوری کرنے کے لئے جہنم میں جاناپڑے (ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7721]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1251، م: 2632.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7722
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اشْتَكَتْ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: رَبِّ، أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَنَفِّسْنِي، فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ، فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ، مِنْ زَمْهَرِيرِ جَهَنَّمَ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ، مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جہنم کی آگ نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہوئے کہا کہ میرے ایک حصے نے دوسرے حصے کو کھالیا ہے اللہ نے اسے سال میں دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی اسی وجہ سے انتہائی شدید سردی جہنم کے زمہریر کی وجہ سے ہوتی ہے اور شدیدترین گرمی جہنم کی تپش کا ہی اثر ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7722]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 537، م: 617.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7723
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، هُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا، الْإِيمَانُ يَمَانٍ، الْفِقْهُ يَمَانٍ، الْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سورت نصر نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7723]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7724
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَكَانَ مَعْمَرٌ يَقُولُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ثُمّ قَالَ بَعْدُ: عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ: " عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، فَقِيرٍ أَوْ غَنِيٍّ، صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ، أَوْ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ" . قَالَ مَعْمَرٌ: وَبَلَغَنِي أَنَّ الزُّهْرِيَّ كَانَ يَرْوِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (غالبا مرفوعا) مروی ہے کہ ہر اس شخص پر جو آزاد ہو یا غلام مرد ہو یا عورت۔ بچہ ہو یا بوڑھا تنگدست ہو یا مالدار صدقہ فطر کے طور پر ایک صاع کھجور یا نصف صاع گندم ادا کرنا واجب ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7724]

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات، وهو موقوف.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7725
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثٍ، لَا أَدَعُهُنَّ أَبَدًا: لَا أَنَامُ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَفِي صَلَاةِ الضُّحَى، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) چاشت کی نماز کی (٣) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7725]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1178، م: 721.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں