مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7836
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً فلَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، هِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ" . قَالَ أَبُو السَّائِبِ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ! قَالَ أَبُو السَّائِبِ: فَغَمَزَ قَالَ أَبُو السَّائِبِ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ! قَالَ أَبُو السَّائِبِ: فَغَمَزَ أَبُو هُرَيْرَةَ ذِرَاعِي، فَقَالَ: يَا فَارِسِيُّ، اقْرَأْهَا فِي نَفْسِكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، فَنِصْفُهَا لِي، وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَءُوا، يَقُولُ: " فَيَقُولُ الْعَبْدُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2، فَيَقُولُ اللَّهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي، وَيَقُولُ الْعَبْدُ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 3، فَيَقُولُ اللَّهُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، فَيَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4، فَيَقُولُ اللَّهُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، وَقَالَ: هَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، يَقُولُ الْعَبْدُ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5، قَالَ: أَجِدُهَا لِعَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، قَالَ: يَقُولُ عَبْدِي: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 6 - 7، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نماز میں سورت فاتحہ بھی نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے نامکمل ہے ابوسائب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے ابوہریرہ بعض اوقات میں امام کے پیچھے بھی تو ہوتا ہوں انہوں نے میرے بازو میں چٹکی بھر کر کہا کہ اے فارسی! اپنے دل میں سورت فاتحہ پڑھا کرو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ارشادباری تعالیٰ ہے میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے (اور میرا بندہ جو مانگے گا اسے وہ ملے گا) چنانچہ جب بندہ الحمد للہ رب العلمین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری تعریف بیان کی جب بندہ کہتا ہے الرحمن الرحیم۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری بزرگی یا ثناء بیان کی جب بندہ کہتا ہے مالک یوم الدین تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے سپرد کر دیاجب بندہ ایاک نعبد وایاک نستعین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کا اجر میرے بندے کے لئے اور میرا بندہ مجھ سے جو مانگے گا اسے وہ ملے گا پھر جب بندہ اھدنا الصراط المستقیم سے آخر تک پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میرے بندے کے لئے ہے اور جو اس نے مجھ سے مانگا وہ تجھے مل کر رہے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7836]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 395.
حدیث نمبر: 7837
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَا كُلٌّ مِنْهُمَا: مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، وَقَالَا: مَالِكِ سورة الفاتحة آية 4، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَءُوا، يَقُومُ الْعَبْدُ فَيَقُولُ".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7837]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7838
وحَدَّثَنَاه يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُهْرَةَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7838]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، محمد بن إسحاق قد صرح بالتحديث، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7839
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ، مَا أَنَا نَهَيْتُ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَلَكِنْ مُحَمَّدٌ نَهَى عَنْهُ . وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ، وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ، مَا أَنَا قُلْتُ: " مَنْ أَدْرَكَهُ الصُّبْحُ جُنُبًا فَلْيُفْطِرْ"، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُ . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ يَحْيَى بْنَ جَعْدَةَ، أَخْبَرَهُ، عن عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْقَارِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے میں نے منع نہیں کیا بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے اس بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات میں نے نہیں کہی کہ جو آدمی حالت جنابت میں صبح کرے وہ روزہ نہ رکھے بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم! یہ بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7839]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، قد وهم محمد بن بكر في تسمية الراوي عن أبي هريرة، والصواب كما رواه عبدالرزاق.
حدیث نمبر: 7840
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ، وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنْ جَهِلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کا کسی دن روزہ ہو تو اسے چاہئے کہ بےتکلف نہ ہو اور جہالت کا مظاہرہ بھی نہ کرے اگر کوئی شخص اس کے سامنے جہالت دکھائے تو اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7840]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151.
حدیث نمبر: 7841
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَنَّ رَجُلًا رَفَعَ غُصْنَ شَوْكٍ مِنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ، فَغُفِرَ لَهُ" . قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَهَذَا الْحَدِيثُ مَرْفُوعٌ، وَلَكِنْ سُفْيَانُ قَصَّرَ فِي رَفْعِهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ ایک آدمی نے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا اس کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7841]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 652، م: 1914.
حدیث نمبر: 7842
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : رَجُلٌ خَطَبَ امْرَأَةً، فَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے فرمایا کہ اسے ایک نظر دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ عیب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7842]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1424.
حدیث نمبر: 7843
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وٹے سٹے کے نکاح سے (جس میں مہر مقرر کئے بغیر ایک دوسرے کے رشتے کے تبادلے ہی کو مہر سمجھ لیا جائے) منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7843]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1416.
حدیث نمبر: 7844
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى لِسَانِي مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ". ثُمَّ جَاءَ بَنِي حَارِثَةَ، فَقَالَ:" يَا بَنِي حَارِثَةَ، مَا أُرَاكُمْ إِلَّا قَدْ خَرَجْتُمْ مِنَ الْحَرَمِ"، ثُمَّ نَظَرَ، فَقَالَ:" بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ، بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری زبانی مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کا درمیانی علاقہ حرم قرار دیا گیا ہے تھوڑی دیر بعد بنوحارثہ کے کچھ لوگ آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے بنوحارثہ میرا خیال ہے کہ تم لوگوں کی رہائش حرم سے باہر نکل رہی ہے پھر تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد فرمایا نہیں تم حرم کے اندر ہی ہو تم حرم کے اندر ہی ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7844]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1869، م: 1372.
حدیث نمبر: 7845
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ فِي الطَّرِيقِ شِعْرًا: يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَى أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْكُفْرِ نَجَّتِ، قَالَ: وَأَبَقَ مِنِّي غُلَامٌ لِي فِي الطَّرِيقِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ، فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ، إِذْ طَلَعَ الْغُلَامُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" هَذَا غُلَامُكَ"، قُلْتُ: هُوَ لِوَجْهِ اللَّهِ، فَأَعْتَقْتُهُ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہوا تو راستے میں یہ شعر پڑھتا جاتا تھا اگرچہ یہ رات کٹھن اور لمبی ہے لیکن ہے پیاری۔ کیونکہ اسی نے مجھے دارالکفر سے نجات دلائی ہے۔ میرا ایک غلام راستے میں میرے پاس سے بھاگ گیا تھا جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کرلی ابھی میں وہاں بیٹھا ہی ہوا تھا کہ میرا غلام آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ابوہریرہ! یہ تمہارا غلام ہے میں نے عرض کیا کہ یہ اللہ کے راستہ میں آزاد ہے چنانچہ میں نے اسے آزاد کردیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7845]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2530.