مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7876
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي" يَعْنِي حَسَنًا، وَحُسَيْنًا .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات حسنین رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا جو ان دونوں سے محبت کرتا ہے در حقیقت وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو ان دونوں سے بغض رکھتا ہے درحقیقت وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7876]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7877
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَينِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے اپنے اعضاء وضو کو صرف دو دو مرتبہ دھویا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7877]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7878
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ"، قَالُوا: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْجَارُ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا بَوَائِقُهُ؟ قَالَ:" شَرُّهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا واللہ وہ شخص مومن نہیں ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ کون؟ فرمایا وہ پڑوسی جس کی ایذا رسانی سے دوسرا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7878]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7879
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَجْلَانَ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ مِنْ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ بِأُصْبُعِهِ، إِلَّا مَرْيَمَ ابْنَةَ عِمْرَانَ، وَابْنَهَا عِيسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والے بچہ کو شیطان کچوکے لگاتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7879]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3431، م: 2366.
حدیث نمبر: 7880
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَرَأَى أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَسًا مِنْ رِقَاعٍ فِي يَدِ جَارِيَةٍ، فَقَالَ: أَلَا تَرَى هَذَا؟! قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَعْمَلُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةَ" .
مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک بچی کے ہاتھ میں کپڑے کا گھوڑا دیکھا تو فرمانے لگے اسے تو دیکھو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے یہ کام وہ کرتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7880]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لإبهام الرجل الذي من قريش وأبيه، وهذا الخبر يخالف ما ثبت من حديث عائشة عند البخاري: 6130، ومسلم: 2440.
حدیث نمبر: 7881
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ النَّاسَ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ، وَيَقُولُ: " مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى الْقِيَامِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیام رمضان کی ترغیب دیتے تھے لیکن پختہ حکم نہیں دیتے تھے اور فرماتے تھے جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو قیام پر جمع نہیں فرمایا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7881]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 37، م: 759.
حدیث نمبر: 7882
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" فُقِدَ سِبْطٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَذَكَرَ الْفَأْرَةَ، فَقَالَ: أَلَا تَرَى أَنَّكَ لَوْ أَدْنَيْتَ مِنْهَا لَبَنَ الْإِبِلِ لَمْ تَقْرَبْهُ؟ وَإِنْ قَرَّبْتَ إِلَيْهَا لَبَنَ الْغَنَمِ شَرِبَتْهُ؟" فَقَالَ: أَكَذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" أَفَأَقْرَأُ التَّوْرَاةَ؟!" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت گم ہوگئی کسی کو پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کہاں گئی؟ میرا تو خیال یہی ہے کہ وہ چوہا ہے کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے پی لیتا ہے؟ اس پر کعب احبار رحمہ اللہ (جو نومسلم یہودی عالم تھے) کہنے لگے کہ کیا یہ حدیث آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے کہا کہ کیا میں تورات پڑھتا ہوں؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7882]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2997.
حدیث نمبر: 7883
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ هل سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الطِّيَرَةُ فِي ثَلَاثٍ: فِي الْمَسْكَنِ، وَالْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ"، قَالَ: قُلْتُ: إِذاً أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَصْدَقُ الطِّيَرَةِ الْفَأْلُ، وَالْعَيْنُ حَقٌّ" .
محمد بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بدشگونی تین چیزوں میں ہوتی ہے گھر میں۔ گھوڑے میں۔ عورت میں انہوں نے فرمایا اگر میں اثبات میں اس کا جواب دوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات کی نسبت کروں گا جو انہوں نے نہیں فرمائی البتہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے سچا شگون فال ہے اور نظر لگنا برحق ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7883]
الحكم على الحديث:
صحيح، خ: 5755، م: 2187،2223، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر.
حدیث نمبر: 7884
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، سَمِعْتُ أَبَا الْغَادِيَةَ الْيَمَامِيَّ ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، فَدَعَاهُمْ، فَمَا قَامَ إِلَّا أَبُو هُرَيْرَةَ وَخَمْسَةٌ معه، أَنَا أَحَدُهُمْ، فَذَهَبُوا فَأَكَلُوا، ثُمَّ جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَغَسَلَ يَدَهُ، ثُمَّ قَالَ:" وَاللَّهِ، يَا أَهْلَ الْمَسْجِدِ، إِنَّكُمْ لَعُصَاةٌ لِأَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ابوغادیہ یمامی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا وہاں کثیر بن صلت کا قاصد آگیا اس نے وہاں کے لوگوں کی دعوت کی لیکن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ پانچ دوسرے آدمیوں کے علاوہ جن میں سے ایک میں بھی تھا کوئی کھڑا نہ ہوا یہ حضرات چلے گئے اور اس کے یہاں کھانا تناول فرمایا پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آ کر ہاتھ دھوئے اور فرمایا بخدا! تم لوگ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے نافرمان ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7884]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، أبو غادية اليمامي، مجهول.
حدیث نمبر: 7885
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیرات کہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7885]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1245، م: 951.