مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8475
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يعنى ابن الهاد ، عَنْ عَمْرٍو بْنِ قُهَيْدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي؟ قَالَ: " فانْشُدْ اللَّهَ"، قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ؟ قَالَ:" انْشُدْ اللَّهَ"، قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ؟ قَالَ:" فَانْشُدْ اللَّهَ"، قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ؟ قَالَ:" فَقَاتِلْ، فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص میرے مال پر دست درازی کرے تو میں کیا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اللہ کا واسطہ دو اس نے پوچھا اگر وہ نہ مانے تو؟ فرمایا پھر اللہ کا واسطہ دو چوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے قتال کرو اگر تم مارے گئے تو جنت میں اور اگر تم نے اسے مار دیا تو جہنم میں جاؤ گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8475]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 140، وهذا إسناد قد وهم فيه يونس
حدیث نمبر: 8476
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قُهَيْدٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8476]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 140، ووقع لقتيبة في إسناده من الوهم، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8477
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: شَكَا أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ إِذَا تَفَرَّجُوا، فقَالَ: " اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ" ، قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ: وَذَلِكَ أَنْ يَضَعَ مِرْفَقَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ إِذَا أَطَالَ السُّجُودَ وَأَعْيَا.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ شکایت کی کہ جب وہ کشادہ ہوتے ہیں تو سجدہ کرنے میں مشقت ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھٹنوں سے مدد لیا کرو۔ راوی حدیث ابن عجلان کہتے ہیں کہ جب سجدہ طویل ہوجائے اور آدمی تھک جائے تو اپنی کہنیاں گھٹنوں پر رکھ لے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8477]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 8478
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي لَعْنَ قُرَيْشٍ وَشَتْمَهُمْ! يَسُبُّونَ مُذَمَّمًا، وَأَنَا مُحَمَّدٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اس بات پر تعجب نہیں ہوتا کہ کس عجیب طریقے سے اللہ قریش کی دشنام طرازیوں کو مجھ سے دور کردیتا ہے؟ وہ کس طرح مذمم پر لعنت اور سب و شتم کرتے ہیں جبکہ میرا نام تو محمد ہے (مذمم نہیں) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8478]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 3533
حدیث نمبر: 8479
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَجْلَانَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ اجْتِمَاعًا يَضُرُّ أَحَدَهُمَا مُسْلِمٌ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ الْمُسْلِمُ أَوْ قَارَبَ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي جَوْفِ عَبْدٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ الْإِيمَانُ وَالشُّحُّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو آدمی جہنم میں اس طرح جمع نہیں ہوں گے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو نقصان پہنچائے وہ مسلمان جو کسی کافر کو قتل کرے اور اس کے بعد سیدھا راستہ اختیار کرلے اور ایک مسلمان کے نتھنوں میں جہاد فی سبیل اللہ کا گرد و غبار اور جہنم کا دھواں اکھٹے نہیں ہوسکتے اسی طرح ایک مسلمان کے دل میں ایمان اور بخل اکھٹے نہیں ہوسکتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8479]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 1891
حدیث نمبر: 8480
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " خَرَجَتْ امْرَأَتَانِ وَمَعَهُمَا صَبِيَّانِ، فَعَدَا الذِّئْبُ عَلَى أَحَدِهِمَا، فَأَخَذَتَا يَخْتَصِمَانِ فِي الصَّبِيِّ الْبَاقِي، فَاخْتَصَمَتَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى مِنْهُمَا، فَمَرَّتَا عَلَى سُلَيْمَانَ النَّبِيِّ , فَقَالَ: كَيْفَ أَمَرَكُمَا؟ فَقَصَّتَا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّ الْغُلَامَ بَيْنَكُمَا، فَقَالَتْ الصُّغْرَى: أَتَشُقُّهُ؟! قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: لَا تَفْعَلْ، حَظِّي مِنْهُ لَهَا، فَقَالَ: هُوَ ابْنُكِ، فَقَضَى بِهِ لَهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو عورتیں تھیں ان کے ساتھ ان کے دو بیٹے تھے اچانک کہیں سے ایک بھیڑیا آیا اور ایک لڑکے کو اٹھا کرلے گیا وہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر حضرت داؤد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے یہ فیصلہ فرما دیا کہ جو بچہ رہ گیا وہ بڑی والی کا ہے۔ وہ دونوں وہاں سے نکلیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے انہیں بلا لیا اور فرمانے لگے کہ تمہارا کیا مسئلہ ہے؟ انہوں نے اپنا واقعہ بیان کیا حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا چھری لے کر آؤ میں اس بچے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے تمہیں دیتا ہوں یہ سن کر چھوٹی والی کہنے لگی کہ اللہ آپ پر رحم فرمائے یہ اسی کا بچہ ہے (کم ازکم زندہ تو رہے گا) آپ اسے دو حصوں میں تقسیم نہ کریں چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے چھوٹی والی کے حق میں فیصلہ کردیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8480]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3427، م: 1720
حدیث نمبر: 8481
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا"، قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: فَإِنَّكَ تُدَاعِبُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ:" إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو ہمیشہ حق بات ہی کہتا ہوں کسی صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو ہمارے ساتھ مذاق بھی کرتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مذاق میں بھی ہمیشہ حق بات ہی کہتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8481]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 8482
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْأَكْثَرُونَ الْأَسْفَلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہی قیامت کے دن نچلے درجے میں ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8482]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 8483
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ الْعَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ فَقَالَ: " أَنَا وَالَّذِينَ مَعِي، ثُمَّ الَّذِينَ عَلَى الْأَثَرِ، ثُمَّ الَّذِينَ عَلَى الْأَثَرِ" ثُمَّ كَأَنَّهُ رَفَضَ مَنْ بَقِيَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہتر انسان کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور میرے ساتھی اس کے بعد وہ لوگ جو ہمارے بعد ہوں گے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے اس بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8483]
الحكم على الحديث:
إسناده جيد
حدیث نمبر: 8484
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " لَنْ يَزَالَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ عِصَابَةٌ عَلَى الْحَقِّ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک جماعت دین کے معاملے میں ہمیشہ حق پر رہے گی اور کسی مخالفت کرنے والے کی مخالفت اسے نقصان نہ پہنچا سکے گی یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ اسی حال پر ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8484]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي