🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8455
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي، الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ارشاد فرمائیں گے میری خاطر آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں؟ میرے جلال کی قسم آج میں انہیں اپنے سائے میں جبکہ میرے سائے کے علاوہ کہیں کوئی سایہ نہیں جگہ عطاء کروں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8455]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2566
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8456
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، ثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ الشَّيْخَ" قَالَ يُونُسُ: أَظُنُّهُ قَالَ:" يَهْرَمُ وَيَضْعُفُ جِسْمُهُ، وَقَلْبُهُ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَيْنِ: طُولِ الْحَيَاةِ، وَحُبِّ الْمَالِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کا جسم کمزور ہوتا جاتا ہے لیکن اس میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8456]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6420، م: 1046
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8457
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي طُوَالَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ، لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا، لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ، قَالَ سُرَيْجٌ: فِي حَدِيثِهِ: يَعْنِي رِيحَهَا.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایسا علم جس کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہو صرف اس لئے حاصل کرے کہ دنیاوی ساز و سامان حاصل کرسکے گا تو قیامت کے دن وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8457]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8458
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " تُفْتَحُ الْبِلَادُ وَالْأَمْصَارُ، فَيَقُولُ الرِّجَالُ لِإِخْوَانِهِمْ: هَلُمُّوا إِلَى الرِّيفِ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مختلف ممالک اور شہر فتح ہونے لگیں گے تو لوگ اپنے بھائیوں سے کہیں گے کہ آؤ سرسبز و شاداب علاقوں میں چل کر رہتے ہیں حالانکہ اگر انہیں معلوم ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے بہتر تھا اور جو شخص بھی مدینہ منورہ کی مشقتوں اور سختیوں پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی بھی دوں گا اور سفارش بھی کروں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8458]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1378
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8459
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَبْلَ السَّاعَةِ سِنُونَ خَدَّاعَةٌ، يُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ، وَيُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِين، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ، وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ" ، قَالَ سُرَيْجٌ:" وَيَنْظُرُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے لوگوں پر ایسے سال آئیں گے جو دھوکے کے سال ہوں گے ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن سمجھا جائے گا اور اس میں رویبضہ کلام کرے گا (کسی نے پوچھا کہ رویبضہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا بیوقوف آدمی بھی عوام کے معاملات میں بولنا شروع کردے گا) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8459]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8460
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، فَنَفَخْتُهُمَا فَرُفِعَا، فَأَوَّلْتُ أَنَّ أَحَدَهُمَا مُسَيْلِمَة، وَالْآخَرَ الْعَنْسِيُّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے دونوں ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے میں نے انہیں پھونک مار دی اور وہ غائب ہوگئے میں نے اس کی تعبیر دو کذابوں سے کی یعنی اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8460]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 4375، م: 2274
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8461
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي بُكَيْرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ، فَقَالَ:" إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ: " إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ، وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ہمیں ایک لشکر کے ساتھ بھیجا اور قریش کے دو آدمیوں کا نام لے کر فرمایا اگر تم ان دونوں کو پاؤ تو انہیں آگ میں جلا دینا پھر جب ہم لوگ روانہ ہونے کے ارادے سے نکلنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے فلاں فلاں آدمیوں کے متعلق یہ حکم دیا تھا کہ انہیں آگ میں جلا دینا لیکن آگ کا عذاب صرف اللہ ہی دے سکتا ہے اس لئے اگر تم انہیں پاؤ تو انہیں قتل کردینا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8461]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3016
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8462
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ، وَلَكِنْ افْسَحُوا يَفْسَحْ اللَّهُ لَكُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے بلکہ کشادگی پیدا کرلیا کرو اللہ تمہارے لئے کشادگی فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8462]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8463
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَضُبٍّ عَلَيْهَا تَمْرٌ وَسَمْنٌ، فَقَالَ: " كُلُوا فَإِنِّي أَعَافُهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ سات عدد گوہ پیش کی گئیں جن پر کجھوریں اور گھی بھی تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ اسے کھالو میں اس سے پرہیز کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8463]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبو المهزم ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8464
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَخْلَةٍ جَرْبَاءَ قَدْ أَخْرَجَهَا أَهْلُهَا، فَقَالَ: " أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بکری کے پاس سے گذرے جس کی کھال اتری ہوئی تھی اور وہ خارش زدہ تھی اسے اس کے مالکوں نے نکال پھینکا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ اپنے مالکوں کی نظر میں حقیر ہوگئی ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں فرمایا اللہ کی نگاہوں میں دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنی یہ بکری اپنے مالکوں کی نگاہ میں حقیر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8464]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں