مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9896
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ بِيَوْمٍ وَلَا تَغْرُبُ بِأَفْضَلَ أَوْ أَعْظَمَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا تَفْزَعُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا هَذَانِ الثَّقَلَانِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، وَعَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ يَكْتُبَانِ الْأَوَّلَ، فَالْأَوَّلَ كَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ طَيْرًا، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَيْضَةً، فَإِذَا قَعَدَ الْإِمَامُ طُوِيَتْ الصُّحُفُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن سے زیادہ کسی افضل دن پر سورج طلوع یا غروب نہیں ہوتا اور جن و انس کے علاوہ ہر جاندار مخلوق جمعہ کے دن گھبراہٹ کا شکار ہوجاتی ہے (کہ کہیں آج ہی کا جمعہ وہ نہ ہو جس میں قیامت قائم ہوگی) جمعہ کے دن مسجد کے ہر دروازے پر دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو درجہ بدرجہ پہلے آنے والے افراد کو لکھتے رہتے ہیں اس آدمی کی طرح جس نے اونٹ پیش کیا پھر جس نے گائے پیش کی پھر جس نے بکری پیش کی پھر جس نے پرندہ پیش کیا پھر جس نے انڈہ پیش کیا اور جب امام آکر بیٹھ جاتا ہے تو صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9896]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3211، م: 850
حدیث نمبر: 9897
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ ثَلَاثُونَ دَجَّالُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، وَيَفِيضَ الْمَالُ فَيَكْثُرَ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ"، قَالَ: قِيلَ: وَأَيُّمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ , الْقَتْلُ"، ثَلَاثًا .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تیس دجال ظاہر ہوجائیں ان میں سے ہر ایک کا گمان یہ ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے مال کی خوب کثرت ہوجائے گی فتنوں کا دور دورہ ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی کسی نے پوچھا ہرج سے کیا مراد ہے؟ فرمایا قتل قتل قتل (تین مرتبہ) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9897]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7121، 7061، م: 2672، 157
حدیث نمبر: 9898
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَة ، قََالَ: سَمِعْتُ الْعَلاء يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قََالَ: " كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاج، ٌفَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاج، غَيْرُ تَمَامٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نماز میں سورت فاتحہ بھی نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے نامکمل ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9898]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 395
حدیث نمبر: 9899
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَة ، قََالَ: سَمِعْتُ الْعَلاء يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَتِه" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ کرے اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9899]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1413
حدیث نمبر: 9900
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَة ، قََالَ: سَمِعْتُ الْعَلاء يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُولَنَّ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ، وَلَكِنْ لِيُعْظِمْ رَغْبَتَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَتَعَاظَمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ أَعْطَاهُ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب دعاء کرے تو یوں نہ کہا کرے کہ اے اللہ اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرما دے بلکہ پختگی اور یقین کے ساتھ دعاء کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9900]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7477، م: 2679
حدیث نمبر: 9901
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قََالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَا الْغِيَابَةُ؟" , قَال: قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا لَيْسَ فِيهِ"، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ لَه؟ قَالَ:" إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدْ اغْتَبْتَهُ , وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدْ بَهَتَّه" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر ایک ایسے عیب کے ساتھ کرو جو اس میں نہ ہو کسی نے پوچھا کہ یہ بتائیے اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جو میں اس کی غیر موجودگی میں بیان کروں تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9901]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2589
حدیث نمبر: 9902
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: مَا أَنَا أَنْهَاكُمْ أَنْ تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَة، إِلَّا أَنْ تَصُومُوا قَبْلَهُ" . وَمَا أَنَا أُصَلِّي فِي نَعْلَيْنِ، وَلَكِنْ" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْنِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جمعہ کا روزہ رکھنے سے میں تم کو منع نہیں کرتا بلکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھا کرو الاّ یہ کہ اس سے پہلے کا بھی روزہ رکھو اور میں جوتوں میں نماز نہیں پڑھتا بلکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتوں میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9902]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، خ: 1985، م: 1144، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زياد الحارثي
حدیث نمبر: 9903
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ زِيَادٍ الْحَارِثِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9903]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، أنظر ما قبله
حدیث نمبر: 9904
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا الْبَرَّادَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا أَوْ قَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَيْهَا، شُعْبَةُ شَكَّ فَلَهُ قِيرَاط، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا، فَلَهُ قِيرَاطَانِ، الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہا اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9904]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945
حدیث نمبر: 9905
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ أَصْدَقَ بَيْتٍ قَالَتْهُ الشُّعَرَاءُ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شاعر نے جو سب سے زیادہ سچا شعر کہا ہے وہ یہ ہے کہ یاد رکھو! اللہ کے علاوہ ہر چیز باطل (فانی) ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9905]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6489، م: 2256