مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9857
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ جُحَادَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: " نَهَى عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندیوں کی جسم فروشی کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9857]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2283
حدیث نمبر: 9858
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرَّكَائِزِ الْخُمُسُ" ، قَالَ شُعْبَةُ: مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَقُولُ: الرَّكَائِزَ غَيْرَهُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جانور سے مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کنویں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9858]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 9859
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت کیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9859]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 768، م: 578، وهذا إسناد ضعيف الجهالة عبدالعزيز
حدیث نمبر: 9860
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاةِ الْوَحْدَةِ سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً، أَوْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت ستائیں یا پچیس درجے زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9860]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 648، م: 649، شريك - وإن كان سيئ الحفظ - قد توبع
حدیث نمبر: 9861
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، دَعَا بِمَاءٍ فَاسْتَنْجَى، ثُمَّ مَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ تَوَضَّأَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو پانی منگوا کر استنجاء کرتے پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑ کر اسے دھوتے پھر وضو فرماتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9861]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 9862
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ، وَمَنْ حَمَلَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میت کو غسل دے اسے چاہئے کہ خود بھی غسل کرلے اور جو شخص جنازہ اٹھائے وہ وضو کرلے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9862]
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات غير صالح، وهو صدوق كان قد اختلط ، وقد اختلف في رفع الحديث ووقفه
حدیث نمبر: 9863
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي، فَلَا يَتَكَنَّى بِكُنْيَتِي، وَمَنْ تَكَنَّى بِكُنْيَتِي، فَلَا يَتَسَمَّى بِاسْمِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میرے نام پر اپنا نام رکھے وہ میری کنیت اختیار نہ کرے اور جو میری کنیت پر اپنی کنیت رکھے وہ میرا نام اختیار نہ کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9863]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 9864
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9864]
الحكم على الحديث:
انظر ما قبله
حدیث نمبر: 9865
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَا شَيْءَ لَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز جنازہ مسجد میں پڑھے اس کے لئے کوئی ثواب نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9865]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف من أجل صالح
حدیث نمبر: 9866
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ , وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں میں سب سے بدترین شخص وہ آدمی ہوتا ہے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہے اور ان کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9866]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7179، م: 2526