🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
89. حَدِیث قَیسِ بنِ سَعدِ بنِ عبَادَةَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15477
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ نَصُومَ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ صِيَامُ رَمَضَانَ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانَ، لَمْ يَأْمُرْنَا، وَلَمْ يَنْهَنَا، وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ".
سیدنا قیس بن سعد سے مروی ہے کہ ماہ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہو نے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا جب ماہ رمضان کے روزے رکھنے کا حکم نازل ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا البتہ ہم خود ہی رکھتے رہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15477]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15478
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُلَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، أَنَّ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ أَتَى قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي الْفِتْنَةِ الْأُولَى، وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ , فَأَخَّرَ عَنِ السَّرْجِ , وَقَالَ: ارْكَبْ، فَأَبَى, وَقَالَ لَهُ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَوْلَى بِصَدْرِهَا" , فَقَالَ لَهُ حَبِيبٌ: إِنِّي لَسْتُ أَجْهَلُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ.
حبیب بن سلمہ فتنہ اولی کے زمان میں سیدنا قیس بن سعد کے پاس اپنے گھوڑے پر سوار آئے اور زین سے پیچھے ہٹ کر کہا اس پر سوار ہو جا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سواری کا مالک آگے بیٹھنے کا زیادہ حق دار ہے حبیب کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے میں ناواقف نہیں ہوں البتہ مجھے آپ کے متعلق خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15478]

حکم دارالسلام: مرفوعه، صحيح لغيره، وهذا اسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15479
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , قَالَ:" مَا مِنْ شَيْءٍ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ , إِلَّا شَيْئًا وَاحِدًا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُقَلَّسُ لَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ" , قَالَ جَابِرٌ: هُوَ اللَّعِبُ.
سیدنا قیس بن سعد سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں جو چیز بھی پائی جاتی تھی وہ میں اب بھی دیکھتاہوں سوائے ایک چیز کے اور وہ یہ کہ عیدالفطر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تفریح مہیا کی جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15479]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف جابر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15480
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي , قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ زَاذَانَ يُحَدِّثُ , عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ دَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْدُمُهُ، فَأَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ:" أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ؟" , قُلْتُ بَلَى، قَالَ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ".
سیدنا قیس بن سعد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لئے مجھے بھیجا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اس وقت میں دو رکعتیں پڑھ چکا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاؤں پر ٹھوکر ماری اور فرمایا کہ کیا میں تمہیں جنت کے ایک دروازے کا پتہ نہ بتاؤ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دروازہ لاحول ولاقوۃ الابا اللہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15480]

حکم دارالسلام: حسن الغيره، وهذا إسناد ضعيف لم يذكر سماع ميمون بن أبى شبيب من قيس بن سعد، وهو كثير الإرسال
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15481
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى، حَرَّمَ عَلَيَّ الْخَمْرَ وَالْكُوبَةَ وَالْقِنِّينَ، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُبَيْرَاءَ، فَإِنَّهَا ثُلُثُ خَمْرِ الْعَالَمِ".
سیدنا قیس بن سعد سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے رب نے مجھ پر شراب شطرنج اور آلات موسیقی کو حرام قرار دے دیا ہے چینے کی شراب کو اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ ساری دنیا کی شراب کا ایک ثلث ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15481]

حکم دارالسلام: حسن لغيره دون قوله: فإنها ثلث خمر العالم، وهذا إسناد ضعيف، بكر بن سوادة لم يدرك قيسا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15482
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِيهِ ابْنُ هُبَيْرَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا مِنْ حِمْيَرَ , يُحَدِّثُ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ عَلَى مِصْرٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ كِذْبَةً مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَضْجَعًا مِنَ النَّارِ، أَوْ بَيْتًا فِي جَهَنَّمَ".
سیدنا قیس سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کر ے وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15482]

حکم دارالسلام: صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وإبهام الشيخ من حمير
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15483-2
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ أَتَى عَطْشَانًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَلَا فَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُبَيْرَاءَ" , قَالَ هَذَا الشَّيْخُ: ثُمَّ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بَعْدَ ذَلِكَ يَقُولُ مِثْلَهُ , فَلَمْ يَخْتَلِفَا إِلَّا فِي بَيْتٍ أَوْ مَضْجَعٍ.
سیدنا قیس سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص دنیا میں شراب پیتا ہے وہ قیامت کے دن پیاسا ہو کر آئے گا یاد رکھوہرنشہ آور چیز شراب ہے اور چینے کی شراب کو اپنے آپ سے بچاؤ۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15483-2]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: من شرب الخمر أتي عطشانا يوم القيامة إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة ، وإبهام الشيخ من حمير
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
90. حَدِیث وَهبِ بنِ حذَیفَةَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15483
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي وَاسِعُ بْنُ حَبَّانَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ حُذَيْفَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الرَّجُلُ أَحَقُّ بِمَجْلِسِهِ، وَإِنْ قَامَ مِنْهُ ثُمَّ رَجَعَ" , أَيْ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ.
سیدنا وہب بن حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انسان اپنی نشست کا زیادہ حقدار ہے اگر وہ وہاں سے اٹھ کر چلا جائے اور پھر واپس آئے تب بھی وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15483]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15484
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ، فَقَامَ إِلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ".
سیدنا وہب بن حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انسان اپنی نشست کا زیادہ حقدار ہے اگر وہ وہاں سے اٹھ کر چلا جائے اور پھر واپس آئے تب بھی وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15484]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
91. حَدِیث عوَیمِ بنِ سَاعِدَةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15485
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلٌ , عَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ , فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمْ الثَّنَاءَ فِي الطُّهُورِ فِي قِصَّةِ مَسْجِدِكُمْ، فَمَا هَذَا الطُّهُورُ الَّذِي تَطَّهَّرُونَ بِهِ؟" , قَالُوا: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَعْلَمُ شَيْئًا , إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَكَانُوا يَغْسِلُونَ أَدْبَارَهُمْ مِنَ الْغَائِطِ، فَغَسَلْنَا كَمَا غَسَلُوا.
سیدنا عویم بن ساعدہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں مسجد قبا میں تشریف لائے اور فرمایا: اللہ نے تمہاری مسجد کے واقعے میں تمہاری طہارت کی خوب تعریف فرمائی ہے وہ کیا طریقہ ہے جو تم طہارت میں اختیار کرتے ہواہل قباء نے عرض کیا: یا رسول اللہ! واللہ ہمیں تو کچھ معلوم نہیں البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ہمارے کچھ پڑوسی یہو دی ہیں وہ بیت الخلاء میں اپنی شرمگاہوں کو پانی سے دھوتے ہیں ہم بھی ان کی دیکھا دیکھی پانی استعمال کرنے لگے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15485]

حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا اسناد ضعيف لضعف ابي اويس و شرجيل، وفي سماعة من عويم ابن ساعدة نظر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں