مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. حَدِیث سَبرَةَ بنِ مَعبَد رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 15349
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيّ , أَنَّهُ قَالَ: أَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُتْعَةِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ هُوَ أَكْبَرُ مِنِّي سِنًّا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِينَا فَتَاةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ، كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ، فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا، فَقَالَتْ مَا تَبْذُلَانِ؟ قَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا: رِدَائِي، قَالَ: وَكَانَ رِدَاءُ صَاحِبِي أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِي، وَكُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ، قَالَتْ: فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى رِدَاءِ صَاحِبِي، ثُمَّ قَالَتْ: أَنْتَ وَرِدَاؤُكَ تَكْفِينِي، قَالَ: فَأَقَمْتُ مَعَهَا ثَلَاثًا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنَ النِّسَاءِ الَّتِي تَمَتَّعَ بِهِنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا" , قَالَ: فَفَارَقْتُهَا.
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے منورہ سے نکلے ہم پندرہ دن وہاں رکے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیدی چنانچہ میں اور میرا ایک چچا زاد نکلے ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اس کا تعلق بنوبکر سے تھا اور وہ نہایت جوان تھی جب وہ میرے چچازاد کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے پرانی معلوم ہو تی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کر تی اور میرے پاس چادر بھی نئی تھی ہم نے اس سے کہا کیا ہم میں سے کوئی ایک تم سے فائدہ اٹھاسکتا ہے اس نے کہا کیا جائز ہے ہم نے کہا ہاں وہ میرے چچا زاد کو دیکھنے لگی تو میں نے اسے بتایا کہ میری چادر نئی اور عمدہ ہے جبکہ اس کی چادر پرانی اور میلی ہے اس نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں چنانچہ میرے چچازاد نے اس سے فائدہ اٹھایا ابھی ہم مکہ مکر مہ سے نکلنے نہ پائے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام کر دیا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15349]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1406
حدیث نمبر: 15350
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ:" نِكَاحِ الْمُتْعَةِ".
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی تھی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15350]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1406
حدیث نمبر: 15351
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَيْنَا عُمْرَتَنَا , قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ" , قَالَ وَالِاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا يَوْمُ التَّزْوِيجِ، قَالَ: فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَى النِّسَاءِ، فَأَبَيْنَ إِلَّا أَنْ نُضْرَبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا، قَالَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" افْعَلُوا" , قال: فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي وَمَعَهُ بُرْدَةٌ وَمَعِي بُرْدَةٌ، وَبُرْدَتُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدَتِي، وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ فَأَتَيْنَا امْرَأَةً، فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَأَعْجَبَهَا شَبَابِي، وَأَعْجَبَهَا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي، فَقَالَتْ بُرْدٌ كَبُرْدٍ، قَالَ: فَتَزَوَّجْتُهَا، فَكَانَ الْأَجَلُ بَيْنِي وَبَيْنَهَا عَشْرًا، قَالَ: فَبِتُّ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ غَادِيًا إِلَى الْمَسْجِدِ , فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْبَابِ وَالْحَجَرِ , يَخْطُبُ النَّاسَ يَقُولُ:" أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ، قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ، أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ، فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا، وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا".
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے جب ہم عمرہ کر کے فارغ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں کے پاس جانے کی اجازت دیدی ہمارے نزدیک اس سے مراد شادی کرنا تھا ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! عورتیں ایک وقت مقررہ کے علاوہ کسی اور صورت میں راضی ہی نہیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ایساہی کر لو چنانچہ میں اور میرا چچا زاد نکلے میرے پاس بھی ایک چادر تھی اور اس کے پاس بھی ایک چادر تھی اس کی چادر میری چادر سے عمدہ تھی اور جسمانی طور پر میں اس سے زیادہ جوان تھا۔ ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا جب وہ میرے ساتھی کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے اچھی معلوم ہو تی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کر تی بالآخر کہنے لگی کہ چادر چادر کے بدلے میں ہو گی اور یہ کہہ کر اس نے مجھے پسند کر لیا اور میں نے اس سے اپنی چادر کے عوض دس دن کے لئے نکاح کر لیا۔ وہ رات میں نے اسی کے ساتھ گزاری جب صبح ہوئی تو مسجد کی طرف میں روانہ ہوا وہاں پہنچ کر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ فرما رہے تھے لوگو میں نے تمہیں عورتوں سے استمتاع کی اجازت دی تھی سو جس نے جو چیز مقرر کی ہے وہ اسے دیدے اور اپنی دی ہوئی چیز کو اس سے واپس نہ مانگے اور خود اس سے علیحدگی اختیار کر لے کیونکہ اللہ نے اب اس کام کو قیامت تک کے لئے تم پر حرام قرار دے دیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15351]
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات
40. حَدِیث عَبدِ الرَّحمَنِ بنِ اَبزَى الخزَاعِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 15352
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمْرَانَ رَجُلٌ كَانَ بِوَاسِط، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ لَا يُتِمُّ التَّكْبِيرَ , يَعْنِي: إِذَا خَفَضَ , وَإِذَا رَفَعَ.
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی سعادت حاصل کی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے لئے جھکتے ہوئے اور سر اٹھاتے ہوئے مکمل تکبیر نہیں کہتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15352]
الحكم على الحديث:
حديث ضعيف، أعله الأئمة النكارته، فقد تفرد به الحسن بن عمران، وهو مجهول، وقد اضطرب فى تعيين شيخه
حدیث نمبر: 15353
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ زُرَارَةَ , قَالَ: حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِه , قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ:" يُوتِرُ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى".
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں سورت سبح اسم ربک الاعلی کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15353]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، لم يذكر سماع زرارة من عبدالرحمن بن أبزى، لكنه توبع
حدیث نمبر: 15354
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , وَزُبَيْدٍ الْإِيَامِيِّ , عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ:" يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى , وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ , وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , فَإِذَا سَلَّمَ , قَالَ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ، سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ، سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ" , وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ.
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں سورت سبح اسم ربک الاعلی اور سورت کافرون اور سورت اخلاص کی تلاوت فرماتے تھے اور سلام پھیرنے کے بعد تین مرتبہ بلند آواز سے سبحان الملک القدوس فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15354]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15355
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ:" يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى , وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ , وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , وَكَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ" يُطَوِّلُهَا ثَلَاثًا.
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں سورت سبح اسم ربک الاعلی اور سورت کافرون اور سورت اخلاص کی تلاوت فرماتے تھے اور سلام پھیرنے کے بعد تین مرتبہ بلند آواز سے سبحان الملک القدوس فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15355]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15356
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ:: يُوتَر بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى , وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ , وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , فَإِذَا سَلَّمَ، قَالَ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ" , يَقُولُهَا ثَلَاثًا , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا، قَالَ: أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ , وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ , سَمِعَا ذَرًّا يُحَدِّثُ , عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا.
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں سورت سبح اسم ربک الاعلی اور سورت کافرون اور سورت اخلاص کی تلاوت فرماتے تھے اور سلام پھیرنے کے بعد تین مرتبہ بلند آواز سے سبحان الملک القدوس فرماتے تھے [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15356]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، لم يذكر سماع زرارة من عبدالرحمن بن أبزى، لكنه توبع
حدیث نمبر: 15357
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى (٦) ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِمِثْلِ هَذَا. قَالَ: أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ سَمِعَا ذَرًّا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ مِثْلَ هَذَا
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15357]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وله إسنادان صحيحان
حدیث نمبر: 15358
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ زُبَيْدٌ , وَسَلَمَةُ : أخبراني أنهما سمعا ذرا ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ:" يُوتِرُ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى , وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ , وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , وَكَانَ إِذَا سَلَّمَ , قال:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ" ثَلَاثًا يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالْآخِرَةِ.
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں سورت سبح اسم ربک الاعلی اور سورت کافرون اور سورت اخلاص کی تلاوت فرماتے تھے اور سلام پھیرنے کے بعد تین مرتبہ بلند آواز سے سبحان الملک القدوس فرماتے تھے [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15358]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح