🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. مسنَد حَكِیمِ بنِ حِزَام عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15320
(حديث مرفوع) قال: عَبْد اللَّهِ بن أحمد , قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّدَقَاتِ , أَيُّهَا أَفْضَلُ؟ قَالَ" عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ".
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا صدقہ افضل ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قریبی ضرورت مند رشتہ دار پر ہو۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15320]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سفيان بن حسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15321
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَالِ؟ فَأَلْحَفْتُ، فَقَالَ:" يَا حَكِيمُ، مَا أنْكَرَ مَسْأَلَتَكَ يَا حَكِيمُ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَإِنَّمَا هُوَ مَعَ ذَلِكَ أَوْسَاخُ أَيْدِي النَّاسِ، وَيَدُ اللَّهِ فَوْقَ يَدِ الْمُعْطِي، وَيَدُ الْمُعْطِي فَوْقَ يَدِ الْمُعْطَى، وَأَسْفَلُ الْأَيْدِي يَدُ الْمُعْطَى".
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مال کی درخواست کی اور کئی مرتبہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حکیم مجھے تمہاری درخواست پر تمہیں دینے میں کوئی انکار نہیں ہے لیکن حکیم یہ مال سرسبز شیریں ہوتا ہے نیز اس کے ساتھ لوگوں کے ہاتھوں کا میل بھی ہوتا ہے اللہ کا ہاتھ دینے والے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور دینے والے کا ہاتھ لینے والے کے اوپر ہوتا ہے اور سب سے نچلا ہاتھ لینے والے کا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15321]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15322
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا، بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا، مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا".
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کر دیں تو انہیں اس بیع کی برکت نصیب ہو گی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15322]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15323
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ , قَالَ: كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّ رَجُلٍ فِي النَّاسِ إِلَيَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا تَنَبَّأَ وَخَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ، شَهِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ الْمَوْسِمَ وَهُوَ كَافِرٌ، فَوَجَدَ حُلَّةً لِذِي يَزَنَ تُبَاعُ، فَاشْتَرَاهَا بِخَمْسِينَ دِينَارًا لِيُهْدِيَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمَ بِهَا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ، فَأَرَادَهُ عَلَى قَبْضِهَا هَدِيَّةً، فَأَبَى، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّا لَا نَقْبَلُ شَيْئًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ أَخَذْنَاهَا بِالثَّمَنِ" , فَأَعْطَيْتُهُ حِينَ أَبَى عَلَيَّ الْهَدِيَّةَ.
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ جاہلیت میں بھی مجھے سب سے زیادہ محبوب تھے جب آپ نے اعلان نبوت فرمایا: اور مدینہ منورہ چلے گئے تو ایک مرتبہ حکیم موسم حج میں جبکہ وہ کافر ہی تھے شریک ہوئے انہوں نے دیکھا کہ ذی یزن کا ایک قیمتی جوڑا فروخت ہو رہا ہے انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ پیش کرنے کے لئے پچاس دینار میں خرید لیا اور وہ لے کر مدینہ منورہ پہنچتے تو انہوں نے چاہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے وصول کر یں لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ ہم مشرکین کی کوئی چیز قبول نہیں کرتے البتہ اگر تم چاہتے ہو تو ہم سے قیمت لے لو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وہ جوڑا ہدیتہ لینے سے انکار کر دیا تو میں نے قیمتا ہی وہ آپ کو دے دیا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15323]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15324
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا"، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابيِ: الْخِيَارُ ثَلَاثُ مَرَّاتٍ، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا، فَعَسَى أَنْ يَرْبَحَا رِبْحًا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا، مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا".
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں عبداللہ کہتے ہیں میں نے اپنے والد صاحب کی کتاب میں یہ اضافہ بھی پایا ہے کہ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کر دیں تو انہیں بیع کی برکت نصیب ہو گی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15324]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15325
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا، بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا، مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا".
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کر دیں تو انہیں بیع کی برکت نصیب ہو گی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15325]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2108، م: 1532، محمد بن جعفر سمع من ابن أبي عروبة بعد الاختلاط، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15326
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، مَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَعْف يُعِفَّهُ اللَّهُ".
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقہ خیرات میں ان لوگوں سے آغاز کیا کر و جو تمہاری ذمہ داری میں ہوں اور جو شخص استغناء کرتا ہے اللہ اسے مستغنی کر دیتا ہے۔ اور جو بچنا چاہتا ہے اللہ اسے بچالیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15326]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1427، م: 1034
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا، بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا، مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا" , وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: مُحِقَ.
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کر دیں تو انہیں بیع کی برکت نصیب ہو گی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15327]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15328
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شعبه , عَنْ مِثْلِهِ , قَالَ:" مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15328]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15329
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ مَوْهَبٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ , قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَمْ يَأْتِنِي أَوَلَمْ يَبْلُغْنِي، أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ أَنَّكَ تَبِيعُ الطَّعَامَ، قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَا تَبِعْ طَعَامًا حَتَّى تَشْتَرِيَهُ وَتَسْتَوْفِيَهُ".
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا ایسا نہیں ہے کہ جیسے مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم غلے کی خریدو فروخت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلہ خریدا کر و تو اسے اس وقت تک آگے نہ بیچا کر و جب تک اس پر قبضہ نہ کر لو۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15329]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال صفوان بن موهب، وعبدالله بن محمد مجهول، لكنهما توبعا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں