🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
314. حَدِیث اَبِی طَلحَةَ زَیدِ بنِ سَهل الاَنصَارِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ ...
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16357
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عن قتادة ، وَحُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ ، قَالَ:" غَشِيَنَا النُّعَاسُ وَنَحْنُ فِي مَصَافِّنَا يَوْمَ بَدْرٍ". قَالَ أَبُو طَلْحَةَ:" وَكُنْتُ فِيمَنْ غَشِيَهُ النُّعَاسُ يَوْمَئِذٍ، فَجَعَلَ سَيْفِي يَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ، وَيَسْقُطُ وَآخُذُهُ".
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن جب ہم لوگ صفوں میں کھڑے ہوئے تو ہم پر اونگھ طاری ہو نے لگی ان لوگوں میں میں بھی شامل تھا اور اسی بناء پر میرے ہاتھ سے بار بار تلوار گرتی تھی اور میں اسے اٹھا لیتا تھا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16357]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4562
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16358
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: لَمَّا صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، وَقَدْ أَخَذُوا مَسَاحِيَهُمْ، وَغَدَوْا إِلَى حُرُوثِهِمْ وَأَرْضِيهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ الْجَيْشُ نَكَصُوا مُدْبِرِينَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ".
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مقام خیبر میں صبح کی اس وقت تک اہل خبیر اپنے کام کاج کے لئے اپنے کھیتوں اور زمینوں میں جاچکے تھے جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اور ان کے ساتھ ایک لشکر کو دیکھا تو وہ پشت پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر فرمایا: جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بہت بری ہو تی ہے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16358]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16359
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ، فَقُذِفُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ، وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ، فَلَمَّا كَانَ بِبَدْرٍ الْيَوْمَ الثَّالِثَ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ، فَشُدَّ عَلَيْهَا رَحْلُهَا، ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ: مَا نُرَاهُ إِلَّا يَنْطَلِقُ لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ، حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ، فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ:" يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ وَيَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ، أَيَسُرُّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا، فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا" فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ لَهَا، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ"، قَالَ قَتَادَةُ: أَحْيَاهُمْ اللَّهُ حَتَّى أَسْمَعَهُمْ قَوْلَهُ تَوْبِيخًا، وَتَصْغِيرًا، وَتَقْمِئَةً، وَحَسْرَةً، وَنَدَامَةً.
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ تو چوبیس سردران قریش کو بدر کے ایک گندے اور بدبودار کنویں میں پھینک دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت مبارک تھی جب کسی قوم پر غلبہ حاصل کرتے تو وہاں تین دن ٹھہرنے کو پسند فرماتے چنانچہ غزوہ بدر کے تیسرے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلے اور ہم بھی ساتھ چلے ہمارا خیال تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے جا رہے ہیں لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کی منڈیر پر جا کر کھڑے ہوئے اور ان کے نام لے کر انہیں آوازیں دینے لگے کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے کیونکہ میں نے تو اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے سیدنا عمر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا آپ ایسے جسموں سے بات کر رہے ہو جن میں روح سرے سے نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے جو میں ان سے کہہ رہا ہوں وہ تم اسے زیادہ انہیں سن رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16359]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16360
وحَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ شَيْبَانَ وَلَمْ يُسْنِدْهُ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: وَتَقْمِئَةً.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16360]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه ، شيبان عن أبى طلحة منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16361
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا سُلَيْمَانُ مَوْلًى لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ زَمَنَ الْحَجَّاجِ، فَحَدَّثَنَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالْبِشْرُ يُرَى فِي وَجْهِهِ، فَقُلْنَا: إِنَّا لَنَرَى الْبِشْرَ فِي وَجْهِكَ؟، فَقَالَ:" إِنَّهُ أَتَانِي مَلَكٌ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ رَبَّكَ يَقُولُ: أَمَا يُرْضِيكَ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا، وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا؟".
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صبح کے وقت انتہائی خوشگوار موڈ تھا اور بشاشت کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آرہے تھے صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج تو صبح کے وقت آپ کاموڈ بہت خوشگوار ہے جس کے آثار چہرہ مبارک سے نظر آرہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں آج میرے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کی امت میں سے جو شخص آپ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا میں اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کر وں گا اور جو آپ پر ایک مرتبہ سلام پڑھے گا میں اس پر دس مرتبہ سلامتی بھیجوں گا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16361]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سليمان مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16362
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ، أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ شُعْبَةُ وَأُرَاهُ ذَكَرَهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا أَنْضَجَتْ النَّارُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کر و۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16362]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وهذا الحديث منسوخ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16363
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالسُّرُورُ يُرَى فِي وَجْهِهِ، فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَرَى السُّرُورَ فِي وَجْهِكَ، فَقَالَ:" إِنَّهُ أَتَانِي مَلَكٌ، فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ، أَمَا يُرْضِيكَ أَنَّ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: إِنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا، وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا؟"، قَالَ:" بَلَى".
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صبح کے وقت انتہائی خوشگوار موڈ تھا اور بشاشت کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آرہے تھے صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج تو صبح کے وقت آپ کاموڈ بہت خوشگوار ہے جس کے آثار چہرہ مبارک سے نظر آ رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں آج میرے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کی امت میں سے جو شخص آپ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا میں اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کر وں گا اور جو آپ پر ایک مرتبہ سلام پڑھے گا میں اس پردس مرتبہ سلامتی بھیجوں گا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16363]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سليمان مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16364
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا سُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ زَمَنَ الْحَجَّاجِ فَحَدَّثَنَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالْبِشْرُ يُرَى فِي وَجْهِهِ، فَذَكَرَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16364]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سليمان مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16365
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَبُو طَلْحَةَ جُلُوسًا، فَأَكَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا، ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوءٍ، فَقَالَا: لِمَ تَتَوَضَّأُ؟، فَقُلْتُ: لِهَذَا الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْنَا، فَقَالَا:" أَتَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّيِّبَاتِ؟! لَمْ يَتَوَضَّأْ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا ابوطلحہ بیٹھے ہوئے تھے ہم نے روٹی اور گوشت کھالیا پھر میں نے وضو کے لئے پانی منگوایا تو وہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ وضو کیوں کر رہے ہو میں نے کہا اس کھانے کی وجہ سے جو ابھی ہم نے کھایا ہے وہ کہنے لگے کہ کیا تم حلال چیزوں سے وضو کر و گے اس ذات نے اس سے وضو نہیں کیا جو تم سے بہتر تھی۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16365]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16366
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ ثَابِتٍ ، كَانَ يَسْكُنُ بَنِي سُلَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَرَأَ رَجُلٌ عِنْدَ عُمَرَ، فَغَيَّرَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُغَيِّرْ عَلَيَّ، قَالَ: فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَرَأَ الرَّجُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ:" قَدْ أَحْسَنْتَ"، قَالَ: فَكَأَنَّ عُمَرَ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُمَرُ، إِنَّ الْقُرْآنَ كُلَّهُ صَوَابٌ مَا لَمْ يُجْعَلْ عَذَابٌ مَغْفِرَةً أَوْ مَغْفِرَةٌ عَذَابًا"، وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ مَرَّةً أُخْرَى: أَبُو ثَابِتٍ مِنْ كِتَابِهِ.
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کوئی شخص سیدنا عمر کے سامنے قرآن کر یم کی تلاوت کر رہا تھا اس دوران سیدنا عمر نے اسے لقمہ دیا وہ آدمی کہنے لگا کہ میں نے اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں فرمائی چنانچہ وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے اور اس آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کر یم پڑھ کر سنایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تحسین فرمائی سیدنا عمر نے غالباً اس بات کو محسوس کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر سارا قرآن درست ہے جب تک انسان مغفرت کو عذاب یا عذاب کو مغفرت میں تبدیل نہ کر دے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16366]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں