مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
314. حديث ابي طلحة زيد بن سهل الانصاري عن النبى صلى الله عليه وسلم ...
حدیث نمبر: 16365
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَبُو طَلْحَةَ جُلُوسًا، فَأَكَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا، ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوءٍ، فَقَالَا: لِمَ تَتَوَضَّأُ؟، فَقُلْتُ: لِهَذَا الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْنَا، فَقَالَا:" أَتَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّيِّبَاتِ؟! لَمْ يَتَوَضَّأْ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا ابوطلحہ بیٹھے ہوئے تھے ہم نے روٹی اور گوشت کھالیا پھر میں نے وضو کے لئے پانی منگوایا تو وہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ وضو کیوں کر رہے ہو میں نے کہا اس کھانے کی وجہ سے جو ابھی ہم نے کھایا ہے وہ کہنے لگے کہ کیا تم حلال چیزوں سے وضو کر و گے اس ذات نے اس سے وضو نہیں کیا جو تم سے بہتر تھی۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16365]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
الرواة الحديث:
أبي بن كعب الأنصاري ← أبو طلحة الأنصاري