مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
340. بَقِیَّة حَدِیثِ اَبِی بردَةَ بنِ نِیَار
حدیث نمبر: 16487
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ إِذْ جَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ سُلَيْمَانَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا سُلَيْمَانُ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بُرْدَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَجْلِدُوا فَوْقَ عَشْرَةَ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"، قال عبد الله: قال أبى: كَذَا قَالَ لَنَا فِيهِ، قَالَ أَبِي: وَأَنَا أَذْهَبُ إِلَيْهِ يَعْنِي الْحَدِيثَ، يَعْنِي حَدِيثَ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ.
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16487]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6850، م: 1708
حدیث نمبر: 16488
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَجْلِدُوا فَوْقَ عَشْرَةَ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16488]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6850 ، م: 1708
حدیث نمبر: 16489
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ جُمَيْعٍ ، أَوْ أَبِي جُمَيْعٍ، عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى طَعَامًا، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ، فَرَأَى غَيْرَ ذَلِكَ، فَقَالَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا".
سیدنا ابوبردہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے غلے میں ہاتھ ڈال کر باہر نکالا تو اس میں دھوکہ نظر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمیں دھوکہ دے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16489]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جميع بن عمير ، وشريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 16490
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَخَالَفَتْ امْرَأَتِي حَيْثُ غَدَوْتُ إِلَى الصَّلَاةِ إِلَى أُضْحِيَّتِي فَذَبَحَتْهَا، وَصَنَعَتْ مِنْهَا طَعَامًا، قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْصَرَفْتُ إِلَيْهَا، جَاءَتْنِي بِطَعَامٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ، فَقُلْتُ: أَنَّى هَذَا؟، قَالَتْ: أُضْحِيَّتُكَ ذَبَحْنَاهَا، وَصَنَعْنَا لَكَ مِنْهَا طَعَامًا لِتَغَدَّى إِذَا جِئْتَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: وَاللَّهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ هَذَا لَا يَنْبَغِي، قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" لَيْسَتْ بِشَيْءٍ، مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نَفْرُغَ مِنْ نُسُكِنَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ، فَضَحِّ"، قَالَ: فَالْتَمَسْتُ مُسِنَّةً فَلَمْ أَجِدْهَا، قَالَ: فَجِئْتُهُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ الْتَمَسْتُ مُسِنَّةً فَمَا وَجَدْتُهَا، قَالَ:" فَالْتَمِسْ جَذَعًا مِنَ الضَّأْنِ، فَضَحِّ بِهِ"، قَالَ: فَرَخَّصَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَذَعِ مِنَ الضَّأْنِ، فَضَحَّى بِهِ حَينُ لَمْ يَجِدَ الْمُسِنَّةَ.
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عید کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پڑھی، پیچھے سے میری بیوی نے قربانی کا جانور پکڑ کر اسے ذبح کر لیا اور اس کا کھانا تیار کر لیا، نماز سے فارغ ہو کر جب میں گھر پہنچا تو وہ کھانے کی چیزیں لے کر آئی، میں نے اس سے پوچھا: یہ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا ہم نے قربانی کا جانور ذبح کر کے آپ کے لئے کھانا تیار کر لیا تاکہ واپس آ کر آپ ناشتہ کر سکیں، میں نے اس سے کہا کہ مجھے خطرہ ہے کہ اس طرح کرنا صحیح نہ ہو گا، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قربانی نہیں ہوئی، جو شخص ہماری نماز سے فارغ ہو نے سے قبل ہی جانور ذبح کر لے اس کی قربانی نہیں ہوئی، لہذا تم دوبارہ قربانی کر و، میں نے جب سال بھر کا جانور تلاش کیا تو وہ مجھے ملا نہیں، لہذا میں نے دوبارہ حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ! واللہ میں نے مسنہ تلاش کیا ہے لیکن مجھے مل نہیں رہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ تلاش کر کے اسی کی قربانی کر لو، یا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کے لئے رخصت تھی۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16490]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن إن صح سماع بشير بن يسار من أبى بردة
حدیث نمبر: 16491
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْمُقْرِئُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرَةِ أَسْوَاطٍ فِيمَا دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"، قال عبدُ الله: قال أبي: كَذَا، قَالَ: لَنَا، لَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبِيهِ.
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16491]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6848، م: 1708
341. حَدِیث سَلَمَةَ بنِ الاَكوَعِ
حدیث نمبر: 16492
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" بَارَزْتُ رَجُلًا، فَقَتَلْتُهُ، فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ".
سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروہ ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو مقابلہ کی دعوت دی اور اسے قتل کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سارا سازوسامان مجھے انعام میں بخش دیا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16492]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16493
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، فَقَالَ:" كُلْ بِيَمِينِكَ"، فَقَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، فَقَالَ:" لَا اسْتَطَعْتَ"، قَالَ: فَمَا رَجَعَتْ إِلَيْهِ.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اس نے کہا کہ میں دائیں ہاتھ سے کھانے کی طاقت نہیں رکھتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے اس کی توفیق نہ ہو، چنانچہ اس کے بعد اس کا داہنا ہاتھ اس کے منہ تک نہیں جاسکا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16493]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2021
حدیث نمبر: 16494
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَتَلْتُ رَجُلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ هَذَا؟"، فَقَالُوا: ابْنُ الْأَكْوَعِ، فَقَالَ:" لَهُ سَلَبُهُ".
سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کس نے قتل کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا ابن اکوع نے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا سارا سازو سامان اسی کا ہو گیا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16494]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16495
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامٌ يُسَمَّى رَبَاحًا".
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام تھا جس کا نام " رباح " تھا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16495]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16496
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ يحدثِّ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَلَا نَجِدُ لِلْحِيطَانِ فَيْئًا يُسْتَظَلُّ فِيهِ".
سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم لوگ اس وقت واپس آتے تھے کہ جب ہمیں باغات میں اتنا بھی سایہ نہ ملتا کہ کوئی شخص وہاں سایہ حاصل کر سکتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16496]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4168، م:860