صحيح البخاري سے متعلقہ
1. باب ما يجوز من الشروط فى الإسلام والأحكام والمبايعة:
باب: اسلام میں داخل ہوتے وقت اور معاملات بیع وشراء میں کون سی شرطیں لگانا جائز ہے؟
حدیث نمبر: 2712
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يُخْبِرَانِ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَمَّا كَاتَبَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو يَوْمَئِذٍ كَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ وَامْتَعَضُوا مِنْهُ، وَأَبَى سُهَيْلٌ إِلَّا ذَلِكَ، فَكَاتَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، فَرَدَّ يَوْمَئِذٍ أَبَا جَنْدَلٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَمْ يَأْتِهِ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلَّا رَدَّهُ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، وَجَاءَ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ، وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ عَاتِقٌ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ، فَلَمْ يَرْجِعْهَا إِلَيْهِمْ لِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِنَّ إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ إِلَى قَوْلِهِ وَلا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ سورة الممتحنة آية 10.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہوں نے خلیفہ مروان اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے سنا، یہ دونوں حضرات اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دیتے تھے کہ جب سہیل بن عمرو نے (حدیبیہ میں کفار قریش کی طرف سے معاہدہ صلح) لکھوایا تو جو شرائط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سہیل نے رکھی تھیں، ان میں یہ شرط بھی تھیں کہ ہم میں سے کوئی بھی شخص اگر آپ کے یہاں (فرار ہو کر) چلا جائے خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو تو آپ کو اسے ہمارے حوالہ کرنا ہو گا۔ مسلمان یہ شرط پسند نہیں کر رہے تھے اور اس پر انہیں دکھ ہوا تھا۔ لیکن سہیل نے اس شرط کے بغیر صلح قبول نہ کی۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شرط پر صلح نامہ لکھوا لیا۔ اتفاق سے اسی دن ابوجندل رضی اللہ عنہ کو جو مسلمان ہو کر آیا تھا (معاہدہ کے تحت بادل ناخواستہ) ان کے والد سہیل بن عمرو کے حوالے کر دیا گیا۔ اسی طرح مدت صلح میں جو مرد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (مکہ سے بھاگ کر آیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کے حوالے کر دیا۔ خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ رہا ہو۔ لیکن چند ایمان والی عورتیں بھی ہجرت کر کے آ گئی تھیں، ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا بھی ان میں شامل تھیں جو اسی دن (مکہ سے نکل کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تھیں، وہ جوان تھیں اور جب ان کے گھر والے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے حوالے نہیں فرمایا، بلکہ عورتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ (سورۃ الممتحنہ میں) ارشاد فرما چکا تھا «{ إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن الله أعلم بإيمانهن } إلى قوله { ولا هم يحلون لهن }.» ”جب مسلمان عورتیں تمہارے یہاں ہجرت کر کے پہنچیں تو پہلے تم ان کا امتحان لے لو، یوں تو ان کے ایمان کے متعلق جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد تک کہ ”کفار و مشرکین ان کے لیے حلال نہیں ہیں الخ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2712]
حضرت مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بیان کرتے ہیں کہ جب سہیل بن عمرو نے صلح حدیبیہ کے دن صلح نامہ لکھوایا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ شرط رکھی کہ ہمارا جو آدمی بھی آپ کے پاس آئے گا، خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو، آپ کو اسے ہمارے ہاں واپس کرنا ہوگا، آپ اس کے اور ہمارے درمیان راستہ خالی کر دیں گے۔ مسلمانوں نے اس شرط کو ناپسند کیا اور وہ اس کے باعث غصے سے بھر گئے لیکن سہیل اس شرط کے بغیر صلح کرنے پر تیار نہ ہوا۔ آخر کار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر صلح کر لی اور اسی روز ابو جندل رضی اللہ عنہ کو اس کے والد سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا۔ پھر مردوں میں سے جو بھی آتا آپ اسے اس مدت کے دوران میں واپس کرتے رہے اگرچہ وہ مسلمان ہو کر آتا۔ اب کچھ اہل ایمان خواتین بھی ہجرت کر کے آئیں، ان عورتوں میں عقبہ بن ابو معیط کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا بھی تھیں جنہوں نے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی اور وہ نوجوان عورت تھیں۔ ان کے اہل خانہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی واپسی کا مطالبہ کرنے لگے، لیکن آپ نے اسے ان کی طرف واپس نہ کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق حکم نازل کیا تھا: ﴿جب اہل ایمان خواتین تمہاری طرف ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان لو (ان کی جانچ پڑتال کرو۔) اللہ تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ اگر تمہیں ان کے ایمان کا یقین ہو جائے تو پھر انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ ایسی عورتیں کافروں کے لیے حلال نہیں اور نہ کافر ہی ان کے لیے حلال ہیں﴾ [سورة الممتحنة: 10] ۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2712]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥المسور بن مخرمة القرشي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥مروان بن الحكم القرشي، أبو الحكم، أبو عبد الملك، أبو القاسم مروان بن الحكم القرشي ← المسور بن مخرمة القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← مروان بن الحكم القرشي | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالد عقيل بن خالد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← عقيل بن خالد الأيلي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥يحيى بن بكير القرشي، أبو زكريا يحيى بن بكير القرشي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2712
| لما كاتب سهيل بن عمرو يومئذ كان فيما اشترط سهيل بن عمرو على النبي أنه لا يأتيك منا أحد وإن كان على دينك إلا رددته إلينا وخليت بيننا وبينه فكره المؤمنون ذلك وامتعضوا منه وأبى سهيل إلا ذلك فكاتبه النبي على ذلك فرد يومئذ أبا جندل إلى أبيه سهيل بن عمرو ولم يأ |
صحيح البخاري |
0
| بسم الله الرحمن الرحيم قال سهيل أما الرحمن فوالله ما أدري ما هو ولكن اكتب باسمك اللهم كما كنت تكتب فقال المسلمون والله لا نكتبها إلا بسم الله الرحمن الرحيم فقال النبي اكتب باسمك اللهم ثم قال هذا ما قاضى عليه محمد رسول الله فقال سهيل والله لو كنا نعلم أنك |
Sahih Bukhari Hadith 2712 in Urdu
مروان بن الحكم القرشي ← المسور بن مخرمة القرشي