🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

12. باب:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4006
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ الْبَدْرِيَّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" نَفَقَةُ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ صَدَقَةٌ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم قصاب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ابان نے، ان سے عبداللہ بن یزید انصاری نے، انہوں نے ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ عقبہ بن عمرو انصاری سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کا اپنے بال بچوں پر خرچ کرنا بھی باعث ثواب ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4006]
حضرت ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا اپنی بیوی اور اولاد پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4006]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو مسعود الأنصاري، أبو مسعودصحابي
👤←👥عبد الله بن يزيد الأوسي، أبو موسى، أبو أمية
Newعبد الله بن يزيد الأوسي ← أبو مسعود الأنصاري
صحابي صغير
👤←👥عدي بن ثابت الأنصاري
Newعدي بن ثابت الأنصاري ← عبد الله بن يزيد الأوسي
ثقة رمي بالتشيع
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عدي بن ثابت الأنصاري
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥مسلم بن إبراهيم الفراهيدي، أبو عمرو
Newمسلم بن إبراهيم الفراهيدي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة مأمون
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5351
أنفق المسلم نفقة على أهله وهو يحتسبها كانت له صدقة
صحيح البخاري
4006
نفقة الرجل على أهله صدقة
صحيح البخاري
55
إذا أنفق الرجل على أهله يحتسبها فهو له صدقة
صحيح مسلم
2322
إذا أنفق على أهله نفقة وهو يحتسبها كانت له صدقة
جامع الترمذي
1965
نفقة الرجل على أهله صدقة
سنن النسائى الصغرى
2546
إذا أنفق الرجل على أهله وهو يحتسبها كانت له صدقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4006 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4006
حدیث حاشیہ:
روایت میں حضرت ابو مسعود بدری ؓ کا ذکرہے۔
حدیث اور باب میں یہی مطابقت ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4006]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2546
کون سا صدقہ افضل ہے؟
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی پر خرچ کرے اور اس سے ثواب کی امید رکھتا ہو تو یہ اس کے لیے صدقہ ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2546]
اردو حاشہ:
گھر والوں کی ضروریات کے لیے خرچ کرنا بھی صدقہ ہے، یعنی اس سے بھی ثواب حاصل ہوگا بشرطیکہ نیت رکھے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2546]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:55
55. حضرت ابومسعود ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: جب مرد اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے حق میں صدقہ بن جاتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:55]
حدیث حاشیہ:

بعض اعمال ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر طاعت نہیں ہوتے، انسان انھیں اپنی طبیعت کے تقاضے سے کرتا ہے زیادہ سے زیادہ انھیں حسن معاشرت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے لیکن اگر نیت کا استحضار ہو جائے، یعنی اخلاص پیدا ہو جائے تو یہ عمل طاعت کا عمل بن جاتا ہے۔
اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرنا باعث ثواب ہے اگر نیت کا استحضار نہیں بلکہ ویسے ہی خوش دلی سے خرچ کرتا ہے حصول ثواب کی نیت نہیں ہے۔
اس طرح ذمے داری تو ادا ہو جائے گی لیکن ثواب نہیں ملے گا 2۔
زیرک اور دانا وہ شخص ہے جو ہر وقت اللہ کی رضا کا طالب ہو، اس طرح نیت کے استحضار سے اس کا سونا بھی موجب قربت ہے مثلاً رات کو سوتے وقت یہ نیت کی کہ صبح جلدی اٹھوں گا اور نماز فجر باجماعت ادا کروں گا، اس نیت سے سونا مقدمہ عبادت ہونے کی وجہ سے باعث اجرو ثواب ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 55]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5351
5351. سیدنا عبداللہ بن یزید انصاری سیدنا ابو انصاری ؓ سے روایت کرتے ہیں (عبداللہ بن یزید کہتے ہیں) کہ میں نے (سیدناابو مسعود ؓ سے) پوچھا: کیا (آپ یہ حدیث) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ماں۔ آپ نے فرمایا: جب کوئی مسلمان اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو یہ خرچ کرنا اس کے لیے صدقہ ہوگا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5351]
حدیث حاشیہ:
جب انسان اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرتا ہے، حالانکہ یہ اس کی ذمے داری ہے اور اس کے فرائض میں شامل ہے، اگر یہ خرچ کرنا حصول ثواب کی نیت سے ہو تو باعث اجر و ثواب ہے اور اگر کوئی خرچ جو اس کی ذمے داری نہیں وہ تو بالاولیٰ باعث ثواب ہو گا۔
بہرحال بیوی، چھوٹے بچے اور بالغ اولاد جو غریب ہو اور کمائی نہ کر سکتے ہوں تو ان تمام کے اخراجات پورے کرنا انسان کی ذمہ داری ہے اور اگر ثواب کی نیت سے ہو گا تو اجر و ثواب سے محروم نہیں ہو گا۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5351]

Sahih Bukhari Hadith 4006 in Urdu