🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

20. باب: {إلا المستضعفين من الرجال والنساء والولدان لا يستطيعون حيلة ولا يهتدون سبيلا} :
باب: آیت کی تفسیر ”سوائے ان لوگوں کے جو مردوں اور عورتوں بچوں میں سے کمزور ہیں کہ نہ کوئی تدبیر ہی کر سکتے ہیں اور نہ کوئی راہ پاتے ہیں کہ ہجرت کر سکیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4597
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: إِلا الْمُسْتَضْعَفِينَ سورة النساء آية 98، قَالَ:" كَانَتْ أُمِّي مِمَّنْ عَذَرَ اللَّهُ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «إلا المستضعفين‏» کے متعلق فرمایا کہ میری ماں بھی ان ہی لوگوں میں تھیں جنہیں اللہ نے معذور رکھا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4597]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے آیت کریمہ ﴿إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ﴾ [سورة النساء: 98] کے متعلق فرمایا: میری والدہ بھی ان ہی لوگوں میں سے تھیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4597]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبد الله بن أبي مليكة القرشي، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عبد الله بن أبي مليكة القرشي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥محمد بن الفضل السدوسي، أبو النعمان
Newمحمد بن الفضل السدوسي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة ثبت تغير في آخر عمره
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4597 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4597
حدیث حاشیہ:
شروع اسلام میں مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچنا ضروری قرار دیا گیا تھا۔
کچھ کمزور لوگ ہجرت نہ کر سکے اور مکہ ہی میں مصیبتوں کی زندگی گزارتے رہے، ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4597]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4597
حدیث حاشیہ:

حضرت ابن عباس ؓ کی والدہ کا نام لبابہ بنت حارث تھا اور یہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث ؓ کی ہمشیر ہیں۔
ابتدائے اسلام میں مسلمان ہو چکی تھیں۔
اپنی طبعی کمزوری کی وجہ سے مکے میں رہائش رکھنے پر مجبور تھیں۔
ان کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ بھی تھے۔
یہ دونوں کمزور اورناتواں ہونے کی وجہ سے معذوروں میں شامل تھے۔
حضرت لبابہ کی کنیت ام الفضل ہے اور سیدہ خدیجہ ؓ کے بعد یہ پہلی خاتون ہیں جو مسلمان ہوئیں۔
ایک روایت میں ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا:
میں اور میری والدہ ان کمزور لوگوں میں سے تھے جو مکہ مکرمہ میں نجات اور خلاصی نہیں پاسکتے تھے۔
(النساء: 97: 4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4597]

Sahih Bukhari Hadith 4597 in Urdu