🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

97. باب قول الرجل للرجل اخسأ:
باب: کسی کا کسی کو یوں کہنا چل دور ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6174
قَالَ سَالِمٌ: فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنَ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ، وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ أَوْ زَمْزَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ: أَيْ صَافِ وَهُوَ اسْمُهُ هَذَا مُحَمَّدٌ فَتَنَاهَى ابْنُ صَيَّادٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ.
سالم نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر اس کھجور کے باغ کی طرف روانہ ہوئے جہاں ابن صیاد رہتا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں پہنچے تو آپ نے کھجور کی ٹہنیوں میں چھپنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اس سے پہلے کہ وہ دیکھے چھپ کر کسی بہانے ابن صیاد کی کوئی بات سنیں۔ ابن صیاد ایک مخملی چادر کے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ ابن صیاد کی ماں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے تنوں سے چھپ کر آتے ہوئے دیکھ لیا اور اسے بتا دیا کہ اے صاف! (یہ اس کا نام تھا) محمد آ رہے ہیں۔ چنانچہ وہ متنبہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کی ماں اسے متنبہ نہ کرتی تو بات صاف ہو جاتی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6174]
سالم رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر نخلستان کی طرف گئے جہاں ابن صیاد رہتا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے تنوں کی اوٹ میں چھپنا شروع کر دیا، یہ حیلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کوئی بات سن سکیں اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ پائے، اس وقت ابن صیاد ایک مخملی چادر کے بستر پر لیٹا کچھ گنگنا رہا تھا، ابن صیاد کی ماں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے تنوں (کی اوٹ) میں چھپ کر آتے ہوئے دیکھ لیا تو اسے کہنے لگی: اے صاف! (یہ اس کا نام ہے) محمد صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں، چنانچہ ابن صیاد چوکس ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس کی ماں اسے خبردار نہ کرتی تو بات صاف ہو جاتی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6174]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»


Sahih Bukhari Hadith 6174 in Urdu