🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

27. باب المصافحة:
باب: مصافحہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6263
وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: عَلَّمَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ وَكَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ، وَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ إِلَيَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي وَهَنَّأَنِي.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد سکھلایا تو میری دونوں ہتھیلیاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیوں کے درمیان تھیں اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے طلحہ بن عبیداللہ اٹھ کر بڑی تیزی سے میری طرف بڑھے اور مجھ سے مصافحہ کیا اور (توبہ قبول ہونے پر) مجھے مبارک باد دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: Q6263]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6263
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ:" أَكَانَتِ الْمُصَافَحَةُ فِي أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ".
ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ان سے قتادہ نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا مصافحہ کا دستور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں تھا؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ضرور تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6263]
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں مصافحہ (کرنے کا دستور) تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6263]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥عمرو بن عاصم القيسي، أبو عثمان
Newعمرو بن عاصم القيسي ← همام بن يحيى العوذي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6263
أكانت المصافحة في أصحاب النبي قال نعم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6263 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6263
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا ملاقات کے وقت مصافحہ کرنے کا عمل ثابت ہوتا ہے کہ جب وہ آپس میں ملتے تھے تو مصافحہ کرتے تھے۔
حدیث میں اس کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے، چنانچہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب کوئی دومسلمان ملاقات کرتے اور پھر مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے ہی ان دونوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5212) (2)
بہرحال مسلمانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ خوشی سے ملنا اور مصافحہ کرنا آپس میں محبت کے اضافے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ مصافحے کے اس عمومی عمل سے اجنبی عورت اور خوبصورت بے ریش لڑکا مستثنیٰ ہے۔
اس سے مصافحہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے بے شمار فتنے جنم لیتے ہیں۔
(فتح الباري: 66/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6263]

Sahih Bukhari Hadith 6263 in Urdu